ابن سہل کی حیرت انگیز سائنسی خدمات، جس نے سنل کے قانون سے 600 سال پہلے روشنی کے انعطاف کا اصول دریافت کیا اور جدید بصریات، لینز اور فائبر آپٹک کی بنیاد رکھی۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ پانی سے بھرے گلاس میں ایک چمچ رکھتے ہیں، تو وہ ٹوٹی ہوئی کیوں نظر آتی ہے؟ بظاہر یہ ایک سادہ سا مشاہدہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ روشنی کا وہ پیچیدہ کھیل ہے جس نے صدیوں تک دنیا کے عظیم ترین ذہنوں کو الجھائے رکھا۔ روشنی کا ہوا سے پانی میں داخل ہوتے وقت مڑ جانا (Refraction) ایک قدیم پہیلی تھی، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس معمے کا پہلا درست ریاضیاتی حل کسی یورپی لیبارٹری میں نہیں بلکہ دسویں صدی کے بغداد میں نکالا گیا تھا؟
آج کی جدید دنیا جس “سنل کے قانون” پر فخر کرتی ہے، اس کی بنیاد دراصل ایک ایسے گمنام مسلمان عبقری نے رکھی تھی جس نے روشنی کو محض فلسفہ نہیں بلکہ ایک ایسی سائنس بنا دیا جسے ناپا اور تولا جا سکتا ہے۔
تاریخ کی سب سے بڑی ناانصافی — سنل کے قانون یا ابن سہل کا؟
جدید سائنس کی درسی کتابوں میں روشنی کے مڑنے کے اصول کو “سنل کے قانون” (Snell’s Law) کے نام سے پڑھایا جاتا ہے، جس کا سہرا 1621 میں ایک ڈچ ماہرِ فلکیات ولبرورڈ سنل کے سر باندھا گیا۔ لیکن تاریخی حقائق ایک مختلف اور حیران کن داستان سناتے ہیں۔ جدید تحقیق اب یہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ دریافت سنل سے بھی 600 سال پہلے مکمل ہو چکی تھی۔
تاریخی شواہد اور قدیم مخطوطات یہ ثابت کرتے ہیں کہ روشنی کے انعطاف (Refraction) کا وہ قانون جسے آج ہم سنل سے منسوب کرتے ہیں، دراصل بغداد کے عظیم ریاضی دان ابن سہل نے سن 984 میں ہی دریافت کر لیا تھا۔
ابن سہل کون تھا؟
دسویں صدی عیسوی کا بغداد جب علم و حکمت کا گہوارہ تھا، وہاں ابو سعد العلاء بن سہل (ابن سہل) نامی ایک ایسی شخصیت موجود تھی جس کا کام اپنے عہد سے ایک ہزار سال آگے تھا۔ ابن سہل کے بارے میں ہمیں بہت کم معلومات ملتی ہیں؛ نہ اس کی جائے پیدائش کا علم ہے اور نہ ہی اس کی کوئی تصویر موجود ہے۔
لیکن اس کا علمی قد اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے روشنی کے مڑنے کے عمل کو محض مشاہدے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ پہلی بار یہ ثابت کیا کہ روشنی کی شعاع کے گرنے اور مڑنے کے زاویے کے درمیان ایک مستقل تناسب (Fixed Ratio) ہوتا ہے۔ یہی وہ ریاضیاتی تناسب ہے جو آج جدید بصریات کی بنیاد ہے۔
عینک کے لینز سے فائبر آپٹک تک: ابن سہل کی ایجادات
ابن سہل محض ایک نظریاتی ماہر نہیں تھا، بلکہ اس نے اپنے ریاضیاتی حساب کتاب (Calculations) کو عملی شکل بھی دی۔ اس نے روشنی کو کنٹرول کرنے اور اسے ایک نقطے پر مرکوز کرنے کے لیے دنیا کے پہلے سائنسی عدسے (Lenses) ڈیزائن کیے۔ اس کی فنی مہارت نے درج ذیل چیزوں کی بنیاد رکھی۔
یک طرفہ ابھرے ہوئے عدسے (Plano-convex Lenses): جو روشنی کو ایک خاص طریقے سے موڑنے کے لیے ریاضیاتی حساب سے بنائے گئے تھے۔
دو طرفہ ابھرے ہوئے عدسے (Biconvex Lenses): جن کا استعمال آج کی جدید عینکوں میں عام ہے۔
بیضوی آئینے (Elliptical Mirrors): روشنی کی شعاعوں کو درست سمت دینے اور انہیں ایک مرکز پر جمع کرنے کے لیے۔
ابن سہل کی یہ ایجادات محض اتفاقیہ نہیں تھیں، بلکہ اس نے باقاعدہ حساب لگا کر ان کی شکلیں ترتیب دیں تاکہ روشنی کو اپنی مرضی کے مطابق موڑا جا سکے۔
کیا ابن الہیثم، ابن سہل کا شاگرد تھا؟
اکثر دنیا ابن الہیثم کو “بصریات کا باپ” (Father of Optics) تسلیم کرتی ہے، لیکن تاریخ کی گہرائی میں جھانکیں تو ابن سہل کا نام اس سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ ابن سہل، ابن الہیثم سے تقریباً 30 سال پہلے یہ تمام اہم دریافتیں کر چکا تھا۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ ابن الہیثم نے ابن سہل کے لکھے ہوئے سائنسی رسائل اور مقالات کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بصریات کے میدان میں ابن الہیثم نے جن عظیم منزلوں کو چھوا، ان کا راستہ ابن سہل نے ہی ہموار کیا تھا۔
اتنی بڑی علمی دریافت کے باوجود ابن سہل کا نام صدیوں تک گمنامی کے اندھیروں میں کیوں رہا؟ اس کی چار اہم وجوہات ہیں:
زبان کی رکاوٹ: ابن سہل کی تمام تحقیق عربی زبان میں تھی۔ جب یورپ میں سائنسی انقلاب برپا ہوا تو وہاں کے مترجمین اور سائنسدانوں کی توجہ لاطینی اور یونانی تراجم پر زیادہ تھی، جس کی وجہ سے یہ عربی خزانہ ان کی نظروں سے اوجھل رہا۔
قانون کی اصطلاح کا عدم استعمال: دسویں صدی میں سائنسدان اپنی دریافتوں کو قانون (Law) کا نام نہیں دیتے تھے بلکہ اسے ایک اصول یا طریقہ کے طور پر پیش کرتے تھے۔ سنل نے جب 1621 میں اسے دوبارہ دریافت کیا تو اسے ایک باقاعدہ قانون کی شکل میں پیش کیا، جسے دنیا نے یاد رکھا۔
مخطوطات کا گم ہونا: ابن سہل کی تحریریں صدیوں تک کتب خانوں کے ڈھیر میں دبی رہیں۔ یہ تو 20ویں صدی کے مشہور مؤرخ رشدی راشد کی محنت تھی جنہوں نے ان پرانے مخطوطات کو دوبارہ دریافت کر کے دنیا کو بتایا کہ یہ کام تو ہزار سال پہلے ہو چکا ہے۔
تاریخ کا اندھا پن: تاریخ کا یہ ایک المیہ ہے کہ وہ اکثر بانیوں کے بجائے ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو کسی نظریے کو حتمی شکل دے کر مشہور کر دیتے ہیں۔
ہماری جدید زندگی میں ابن سہل کا اثر
آج ہم جس ہائی ٹیک دور میں جی رہے ہیں، وہ ابن سہل کے دریافت کردہ تناسب کے اصول کے بغیر ناممکن ہوتا۔ ذیل میں درج ٹیکنالوجیز براہِ راست اس کے مرہونِ منت ہیں۔
عینک اور کانٹیکٹ لینس: جو روشنی کو درست تناسب سے موڑ کر بینائی کو واضح کرتے ہیں۔
کیمرہ اور سمارٹ فون: جن کے لینز روشنی کو سینسر پر فوکس کر کے تصویر بناتے ہیں۔
خوردبین اور دوربین: جو جراثیم سے لے کر کہکشاؤں تک کے مشاہدے میں مدد دیتی ہیں۔
فائبر آپٹک اور انٹرنیٹ: جس کے ذریعے روشنی کی لہریں ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے آپ تک ڈیٹا پہنچاتی ہیں۔
طبی جانچ اور کیمیائی تحقیق: خون میں شکر کی مقدار (Sugar level) معلوم کرنے اور مائعات میں کیمیائی مادوں کی شناخت کے لیے روشنی کے مڑنے کے اسی اصول کو استعمال کیا جاتا ہے۔
علم کسی ایک ملک یا نسل کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ ابن سہل جیسے ہیروز کو یاد کرنا محض تاریخ کو دہرانا نہیں، بلکہ اس سائنسی سچائی کو تسلیم کرنا ہے جس نے ہمیں تاریکی سے نکال کر ٹیکنالوجی کی روشنی عطا کی۔
آج جب آپ اپنے سمارٹ فون پر یہ تحریر پڑھ رہے ہیں یا تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، تو ایک لمحے کے لیے ضرور سوچیے گا: تاریخ کے دبیز پردوں میں ایسے اور کتنے گمنام ہیرو چھپے ہوں گے جن کی محنت کا پھل تو ہم آج کھا رہے ہیں، لیکن ان کا نام تک ہماری کتابوں سے غائب ہے؟




