ذہنی سکون اور کامیاب زندگی کا راز

0

ذہنی سکون اور کامیاب زندگی کا راز جاننا چاہتے ہیں؟ اپنی روزمرہ زندگی میں مثبت سوچ، بہتر عادات اور ذہنی توازن کے ذریعے خوشحال، پُرسکون اور کامیاب زندگی گزارنے کے مؤثر طریقے ۔

ایک معروف جامعہ میں نفسیات کے ایک دانا پروفیسر اپنی حکمت بھری گفتگوؤں کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ طلبہ بے چینی سے اُن کی کلاس کا انتظار کرتے کیونکہ وہ ہمیشہ زندگی کے مشکل ترین اسباق کو نہایت سادہ مثالوں کے ذریعے سمجھاتے تھے۔ اُن کی باتوں میں ایسی تاثیر ہوتی کہ ہر طالب علم خود کو اُن الفاظ کے آئینے میں دیکھنے لگتا۔

ایک دن حسبِ معمول کلاس شروع ہوئی۔ طلبہ اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کمرۂ جماعت میں خاموشی چھائی ہوئی تھی اور سب کی نظریں پروفیسر پر مرکوز تھیں۔ پروفیسر نے میز پر رکھا ہوا ایک شفاف گلاس اٹھایا۔ اس گلاس میں آدھا پانی بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے بغیر کچھ کہے گلاس کو فضا میں بلند کیا تاکہ کلاس میں موجود ہر شخص اسے صاف دیکھ سکے۔

طلبہ حیران تھے کہ آج آخر کیا ہونے والا ہے۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے سوال کیا:

آپ لوگوں کے خیال میں اس گلاس کا وزن کتنا ہوگا؟

کلاس میں سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔ کسی نے کہا، “پچاس گرام۔” دوسرے نے اندازہ لگایا، “شاید سو گرام۔” ایک اور طالب علم بولا، “ڈیڑھ سو گرام کے قریب ہوگا۔” ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق جواب دے رہا تھا۔

پروفیسر خاموشی سے سب کی باتیں سنتے رہے، پھر نرم لہجے میں بولے:

حقیقت یہ ہے کہ میں خود بھی اس کا صحیح وزن نہیں جانتا، جب تک اسے تول نہ لوں۔ لیکن میرا اصل سوال کچھ اور ہے۔ اگر میں اس گلاس کو چند منٹ تک اسی طرح ہاتھ میں پکڑے رکھوں تو کیا ہوگا؟

تمام طلبہ تقریباً ایک ساتھ بولے: کچھ بھی نہیں ہوگا۔

پروفیسر نے سر ہلایا اور دوبارہ پوچھا: اچھا، اگر میں اسے ایک گھنٹے تک پکڑے رکھوں تو؟

اب ایک طالب علم بولا: سر، آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔ بالکل درست! پروفیسر نے جواب دیا۔

پھر انہوں نے سوال کو مزید آگے بڑھایا: اگر میں یہی گلاس پورا دن اسی طرح تھامے رکھوں تو کیا ہوگا؟ اب طلبہ سنجیدہ ہوگئے۔ 

ایک نے کہا: آپ کا ہاتھ سن ہوسکتا ہے۔

دوسرا بولا: پٹھے اکڑ جائیں گے۔

تیسرے نے ہنستے ہوئے کہا: شاید آپ کو اسپتال جانا پڑ جائے!

کلاس میں قہقہے گونج اٹھے، مگر پروفیسر بدستور مسکرا رہے تھے۔

انہوں نے نہایت سکون سے پوچھا: اچھا یہ بتاؤ، کیا اس دوران گلاس کا وزن تبدیل ہوا؟

تمام طلبہ نے فوراً جواب دیا:

نہیں!

تو پھر درد کیوں بڑھتا گیا؟ ہاتھ کیوں تھک گیا؟

ذہنی سکون اور کامیاب زندگی کا راز

اس سوال پر پوری کلاس خاموش ہوگئی۔ چند لمحوں تک کوئی جواب نہ دے سکا۔ طلبہ سوچ میں ڈوب گئے۔

پھر پچھلی نشست پر بیٹھے ایک طالب علم نے آہستہ سے کہا: سر، اس کا حل یہ ہے کہ آپ گلاس کو نیچے رکھ دیں۔

یہ سنتے ہی پروفیسر کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ انہوں نے کہا: بالکل! یہی وہ نکتہ ہے جو میں تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں۔

پھر وہ آہستہ آہستہ کلاس میں چلتے ہوئے بولنے لگے:

زندگی کے مسائل بھی اس گلاس کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر آپ انہیں چند لمحوں کے لیے اپنے ذہن میں رکھیں تو وہ معمولی محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ انہیں مسلسل سوچتے رہیں تو وہ ذہنی دباؤ میں بدل جاتے ہیں۔ اور اگر آپ دن رات انہی فکر و پریشانیوں کو اپنے اوپر مسلط رکھیں، تو یہ آپ کی صلاحیتوں کو مفلوج کردیتے ہیں۔

کلاس میں مکمل خاموشی تھی۔ ہر طالب علم پوری توجہ سے اُن کی بات سن رہا تھا۔

پروفیسر نے بات جاری رکھی:

انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کو اپنے ذہن پر مستقل بوجھ بنا لیتا ہے۔ وہ رات کو سوتے وقت بھی اُنہی پریشانیوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ صبح جاگتا ہے تو پھر وہی خوف، وہی فکر، وہی دباؤ اُس کے دل و دماغ پر سوار ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آہستہ آہستہ اُس کی خوشی، سکون، اعتماد اور توانائی ختم ہونے لگتی ہے۔

انہوں نے گلاس دوبارہ میز پر رکھتے ہوئے کہا:

یاد رکھو، مسائل سے بھاگنا حل نہیں، لیکن انہیں ہر وقت اپنے ذہن میں اٹھائے رکھنا بھی دانشمندی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دن بھر کی تھکن، پریشانیوں اور ناکامیوں کو رات کے وقت اپنے ذہن سے اتار دے۔ تاکہ اگلی صبح وہ نئی امید، نئی طاقت اور تازہ سوچ کے ساتھ زندگی کا سامنا کرسکے۔

ایک طالب علم نے سوال کیا: سر، لیکن بعض مسائل اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ انسان چاہ کر بھی انہیں بھول نہیں پاتا۔ تب کیا کرنا چاہیے؟

پروفیسر چند لمحے خاموش رہے، پھر بولے: 

ہر مسئلے کا حل فوراً نہیں ملتا، مگر ہر مسئلے کے ساتھ جینا سیکھا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کسی پریشانی کو مسلسل ذہن میں دہراتے رہیں گے تو وہ مسئلہ حقیقت سے بڑا محسوس ہونے لگے گا۔ لیکن اگر آپ تھوڑا وقفہ لیں، خود کو سکون دیں، مثبت لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں، عبادت کریں، فطرت کے قریب جائیں، یا اپنی پسندیدہ مصروفیات اختیار کریں، تو ذہن ہلکا ہونے لگتا ہے۔ تب انسان مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ پاتا ہے۔

پھر انہوں نے ایک خوبصورت جملہ کہا:

زندگی میں ہر بوجھ اٹھانا ضروری نہیں ہوتا، کچھ بوجھ وقت پر نیچے رکھ دینا بھی عقل مندی ہے۔

یہ الفاظ سن کر کئی طلبہ گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ شاید ہر ایک کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ایسا بوجھ موجود تھا جسے وہ مدت سے اٹھائے ہوئے تھے۔ کلاس ختم ہونے کے قریب تھی۔ پروفیسر نے آخری بات کرتے ہوئے کہا:

جب بھی تمہیں لگے کہ زندگی کی مشکلات تمہیں توڑ رہی ہیں، تو ایک لمحے کے لیے رک جانا۔ خود سے پوچھنا کہ کہیں تم نے اپنے ذہن میں کوئی ایسا گلاس تو نہیں اٹھا رکھا جسے اب نیچے رکھ دینے کا وقت آگیا ہے؟

گھنٹی بجی، کلاس ختم ہوگئی، مگر اُس دن طلبہ صرف ایک سبق نہیں بلکہ زندگی کا ایک قیمتی اصول سیکھ کر وہاں سے اٹھے۔

یہ اصول بہت سادہ تھا: مسائل زندگی کا حصہ ہیں، مگر اُنہیں مستقل اپنے ذہن پر سوار رکھنا انسان کو کمزور کردیتا ہے۔ سکون، راحت اور ذہنی طاقت اسی وقت ملتی ہے جب انسان وقتاً فوقتاً اپنے ذہنی بوجھ کو اتارنا سیکھ لے۔

اسی لیے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے صرف محنت کافی نہیں ہوتی، بلکہ ذہنی سکون بھی ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ تھکا ہوا ذہن کبھی بڑے فیصلے نہیں کرسکتا، اور بوجھل دل کبھی خوشیوں کو محسوس نہیں کرسکتا۔

لہٰذا، جب رات ہو، اپنے دل و دماغ سے پریشانیوں کا بوجھ اتار دیجئے… تاکہ اگلی صبح آپ ایک نئی روشنی، نئی امید اور نئی طاقت کے ساتھ زندگی کا سفر دوبارہ شروع کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں