ایران کا امریکہ کو سخت جواب لمبی جنگ کے لیے ہو جاؤ تیار

ایران کا امریکہ کو سخت جواب 0

روئٹرز کے مطابق ایران کا امریکہ کو سخت جواب جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب تہران نے واضح کر دیا کہ اگر واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر کوئی نیا حملہ کیا تو اس کے نتائج انتہائی تکلیف دہ ہوں گے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ معمولی فوجی کارروائی بھی امریکی علاقائی اڈوں اور جنگی جہازوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گی۔ دو ماہ سے جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور قیمتیں 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔

اگرچہ 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز کو مسدود رکھا ہوا ہے۔ امریکہ نے ایران کی تیل برآمدات کو مکمل طور پر روکنے کے لیے یہ ناکہ بندی کی تھی، جو تہران کی معیشت کی لائف لائن ہے۔ اب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس ناکہ بندی کے خاتمے تک آبنائے کو نہیں کھولے گا۔

ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “امریکہ کی طرف سے معمولی حملہ بھی ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔ اس کا جواب علاقے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں، بحری جہازوں اور مفادات پر طویل اور دردناک حملے ہوں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کو ہدف کے قریب پوزیشن پر تعینات کر رکھا ہے۔

ایرانی فضائیہ کے کمانڈر مجید موسوی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “آپ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے جوابی حملوں میں آپ کے علاقائی اڈوں کا کیا حال ہوا۔ اب اگر آپ نے کوئی غلطی کی تو آپ کے جنگی جہاز بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے۔”

امریکہ کی فوجی تیاریاں اور ٹرمپ کا مؤقف

ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کو نئے فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، جن کا مقصد ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔ ان منصوبوں میں خلیج میں زمینی افواج کی ممکنہ تعیناتی اور آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں پر قبضے کے آپشنز بھی شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی پٹرول کی قیمتیں “پتھر کی طرح گر جائیں گی۔” تاہم، ٹرمپ نے ایران کی معیشت کو “تباہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو جلد ہی ہتھیار ڈالنے پڑیں گے۔

خامنہ ای کا سخت پیغام: 'غیر ملکیوں کا مقام سمندر کی تہہ ہے'

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کے نام اپنے تحریری پیغام میں کہا: “آبنائے ہرمز کا نیا انتظام طے پا گیا ہے۔ ہم دشمنوں کی اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی بدسلوکی کا خاتمہ کر دیں گے۔ ہزاروں میل دور سے آنے والے غیر ملکیوں کا یہاں کوئی مقام نہیں۔ اگر وہ آتے ہیں تو ان کا ٹھکانہ صرف سمندر کی تہہ ہو گی۔”

یہ بیان انتہائی اہم ہے کیونکہ خامنہ ای نے اس سے قبل کبھی اتنی واضح طور پر امریکی بحریہ کو براہِ راست تباہ کرنے کی دھمکی نہیں دی تھی۔

اقوام متحدہ کی وارننگ: لاکھوں لوگ بھوک کے دہانے پر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا: “یہ بحران جتنا طویل ہو گا، دنیا کی غربت اور بھوک اتنی ہی شدید ہو گی۔ اگر آبنائے ہرمز وسط سال تک بند رہی تو عالمی شرح نمو میں خاطر خواہ کمی آئے گی، مہنگائی دوہرے ہندسوں تک جا پہنچے گی، اور کروڑوں افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں