عید الاضحیٰ کے موقع پر ہر گھر میں قربانی کا گوشت بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ گوشت کو زیادہ عرصے تک تازہ، محفوظ اور خراب ہونے سے کیسے بچایا جائے۔
عید الاضحیٰ پر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کے بہترین اور آسان طریقے
اگر گوشت کو صحیح طریقے سے محفوظ نہ کیا جائے تو اس میں بدبو، جراثیم اور ذائقے کی خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔ خوش قسمتی سے چند آسان احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گوشت کو کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گوشت کو محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ اسے مناسب درجہ حرارت میں اسٹور کرنا ہے۔ جدید دور میں فریزر اس مقصد کے لیے بہترین سہولت سمجھا جاتا ہے، تاہم اگر بجلی یا فریزر دستیاب نہ ہو تو بھی کئی روایتی اور مؤثر طریقے موجود ہیں۔
گوشت کو فریزر میں محفوظ کرنے کا درست طریقہ
قربانی کے گوشت کو فریزر میں رکھنے سے پہلے اس کی مناسب پیکنگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ گوشت کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے الگ الگ پیک کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ ضرورت کے مطابق آسانی سے استعمال کیا جاسکے۔
گوشت کو پیک کرتے وقت درج ذیل چیزوں کا خیال رکھیں:
اس کے جواب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قیادت “خون اور نفرت میں ڈوبی ہوئی ہے”۔
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف سفارتی سطح پر نہیں بلکہ ذاتی اور سیاسی سطح پر بھی کشیدہ ہو چکے ہیں۔
کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں حالیہ بگاڑ کی بڑی وجہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد پیش آنے والے واقعات ہیں، جب حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
ان کارروائیوں کے بعد:
ترکی نے سخت ردعمل دیا
سفارتی تعلقات معطل کیے گئے
اسرائیل کے ساتھ تجارت روکنے کا اعلان کیا گیا
یہ اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کرنے کا سبب بنے۔
ازمیر یونیورسٹی کی ماہر تگچے ارسوئے کے مطابق، ترکی اور اسرائیل دونوں میں اندرونی سیاسی عوامل خارجہ پالیسی پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
ان کے مطابق سخت بیانات عوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں
نتن یاہو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
اردوان علاقائی قیادت کے تناظر میں اپنی حیثیت مستحکم کرنا چاہتے ہیں
اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اب “سرد امن” سے بڑھ کر “سرد مقابلہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق اسرائیلی سفارتکار ایلون پنکاس نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کو دشمن قرار دینا ایک خطرناک رجحان ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہوں۔
اسی طرح پروفیسر امنون ایرن کے مطابق دونوں رہنما اپنی نظریاتی سیاست کو تقویت دے رہے ہیں۔ بیان بازی غیر ذمہ دارانہ حد تک بڑھ چکی ہے۔ تعلقات کئی سالوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
کچھ اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے ترکی کو “نیا ایران” قرار دیا گیا، تاہم ماہرین اس خیال کو مسترد کرتے ہیں۔
ترکی نے اسرائیل کے خلاف جوہری پروگرام کا کوئی اعلان نہیں کیا
ترکی نیٹو کا رکن ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔
ایلون پنکاس کے مطابق ترکی کو ایران سے تشبیہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہے۔
ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اس وقت ایک حساس دور سے گزر رہے ہیں جہاں بیان بازی اور سیاسی مفادات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ مکمل جنگ کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے، لیکن معمولی غلطی بھی بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔
خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک سفارتی راستے کو ترجیح دیں اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں۔




