کیا تعویذ واقعی اثر کرتے ہیں؟ سائنسی اور نفسیاتی تجزیہ

تعویذ واقعی اثر کرتے ہیں 0

کیا تعویذ واقعی اثر کرتے ہیں، یا یہ صرف انسانی ذہن کا ایک تاثر ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔  کچھ لوگ تعویذ کو مؤثر اور فائدہ مند سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اسے محض ایک نفسیاتی اثر یا عقیدے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

اس موضوع کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ہم اسے تین مختلف نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔  سب سے پہلے نفسیاتی نقطۂ نظر سے یہ جانیں گے کہ انسانی ذہن اور یقین کس طرح کسی چیز کے اثرات کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد سائنسی نقطۂ نظر سے جائزہ لیں گے کہ جدید تحقیق اور تجربات اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ آخر میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تعویذ کی حقیقت، اس کی حیثیت اور اس سے متعلق شرعی رہنمائی کو سمجھیں گے۔ ان تینوں پہلوؤں کا مطالعہ ہمیں اس موضوع کو زیادہ گہرائی اور توازن کے ساتھ سمجھنے میں مدد دے گا۔

1۔ نفسیاتی نقطۂ نظر

ہمارے معاشرے میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے کبھی تعویذ، نقش، گنڈا، دم یا کسی عامل کا نام نہ سنا ہو۔ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ تعویذ پہننے کے بعد ان کی پریشانی دور ہو گئی، کاروبار چل پڑا، ڈر ختم ہو گیا یا طبیعت بہتر ہو گئی۔ 

یہ سوال بہت اہم ہے:

اگر تعویذ میں واقعی کوئی مافوق الفطرت طاقت نہیں تو پھر بعض لوگوں کو فائدہ کیوں محسوس ہوتا ہے؟

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب جدید سائنس نے کافی حد تک تلاش کر لیا ہے، اور جواب اتنا دلچسپ ہے کہ سن کر حیرت بھی ہوتی ہے اور مسکراہٹ بھی آ جاتی ہے۔

اصل حقیقت تعویذ کے کاغذ میں نہیں بلکہ انسانی دماغ میں چھپی ہوئی ہے۔

اگر کبھی کسی تعویذ کو کھولنے کی کوشش کی جائے تو اکثر اردگرد موجود لوگ فوراً منع کرنے لگتے ہیں۔ والدین، بہن بھائی یا قریبی عزیز عموماً یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کہیں اس کا کوئی نقصان نہ ہو جائے یا کوئی غیر متوقع اثر ظاہر نہ ہو۔ لیکن اگر تجسس غالب آ جائے اور کسی پرانے تعویذ کو کھول کر دیکھا جائے تو اس میں عام طور پر چند مخصوص چیزیں نظر آتی ہیں:

تعویذ واقعی اثر کرتے ہیں

عربی حروف یا الفاظ

مختلف اعداد

عجیب و غریب خانوں پر مشتمل نقشے

ناموں یا الفاظ کے مجموعے

پراسرار علامتیں اور نشانات

ان چیزوں کو دیکھ کر اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان کے پیچھے کوئی بہت بڑا راز پوشیدہ ہے۔  جو چیز سمجھ میں نہ آئے، وہ زیادہ پراسرار محسوس ہوتی ہے۔ اگر کسی تعویذ میں صاف اردو میں لکھا ہو: “فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا”، تو شاید لوگ اس سے زیادہ متاثر نہ ہوں۔ لیکن اگر یہی بات عجیب خانوں، اعداد اور پراسرار نشانات کی شکل میں لکھی ہو تو اکثر لوگ فوراً اسے غیر معمولی اور خاص سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات خود ان نشانات کو لکھنے یا استعمال کرنے والے بھی ان کے اصل مفہوم سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کمپیوٹر کی سکرین پر تیزی سے چلتا ہوا کوڈ دیکھ کر فوراً یہ نتیجہ اخذ کر لے کہ سامنے کوئی غیر معمولی سائنسدان یا ماہر موجود ہے، جبکہ حقیقت میں وہ محض ایک سادہ سا پروگرام بھی ہو سکتا ہے

عاملوں کی سب سے بڑی چالیں

بہت سے عامل نفسیات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، چاہے انہیں خود اس بات کا شعور نہ ہو۔

وہ عام طور پر چند طریقے استعمال کرتے ہیں:

2۔ پراسرار گفتگو

عامل اکثر ایسی باتیں کرتے ہیں:

“آپ پر نظر ہے۔”

“آپ کے دشمن بہت ہیں۔”

“کسی نے بندش کر رکھی ہے۔”

“گھر میں منفی اثرات موجود ہیں۔”

دلچسپ  بات یہ ہے کہ یہ جملے تقریباً ہر شخص پر فٹ بیٹھ جاتے ہیں۔

کیونکہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جسے کبھی کسی نے برا نہ کہا ہو یا جسے کبھی کوئی پریشانی نہ ہوئی ہو۔

1۔ ماحول بنانا

کمرہ تاریک ہوگا۔

ہلکی روشنی ہوگی۔

دیواروں پر عجیب نقش ہوں گے۔

خوشبو جل رہی ہوگی۔

آواز دھیمی ہوگی۔

یہ سب چیزیں انسان کے دماغ کو پہلے ہی متاثر کر دیتی ہیں۔

فلموں میں بھی یہی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر کسی مزاحیہ منظر کے ساتھ ڈراؤنی موسیقی لگا دی جائے تو وہ بھی خوفناک محسوس ہونے لگتا ہے۔

4۔ پہلے خوف، پھر علاج

یہ ایک پرانا طریقہ ہے۔

پہلے آپ کو ڈرایا جاتا ہے۔

پھر کہا جاتا ہے:

“فکر نہ کریں، علاج میرے پاس موجود ہے۔”

یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص خود آپ کے سامنے کھڈا کھودے اور پھر آپ کو سیڑھی بیچنا شروع کر دے۔

3۔ دماغ اور نفسیات سے کھلواڑ

انسانی دماغ حیرت انگیز چیز ہے۔

جب انسان کسی چیز پر مضبوط یقین کر لیتا ہے تو جسم کا ردعمل بھی بدلنے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر:

اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ محفوظ ہیں تو دل کی دھڑکن معمول پر آ جاتی ہے۔

اگر آپ کو یقین ہو کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے تو ذہنی دباؤ کم ہونے لگتا ہے۔

اگر خوف کم ہو جائے تو جسم نسبتاً بہتر محسوس کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعویذ نے کام کیا۔

بلکہ دماغ نے خود کو پرسکون کیا۔

فرض کریں ایک بچے کو رات کو اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اسے ایک کھلونا دے کر کہا جائے: یہ جادوئی سپاہی ہے، یہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ بچہ پرسکون ہو کر سو جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے: کیا واقعی کھلونا رات بھر پہرہ دے رہا تھا؟– نہیں۔۔۔ اصل تبدیلی بچے کے ذہن میں آئی تھی۔

بہت سے عامل ہر مسئلے کا ایک ہی جواب دیتے ہیں:

کاروبار خراب؟  ==================>> بندش۔

شادی نہیں ہو رہی؟  ===============>>  بندش۔

بیماری؟  ======================>>  بندش۔

امتحان میں ناکامی؟  ================>> بندش۔

گھر میں لڑائی؟  ===================>> بندش۔

اگر ہر مسئلے کی وجہ ایک ہی چیز ہے تو پھر دنیا کے تمام ڈاکٹر، ماہر نفسیات، اساتذہ اور معاشی ماہرین اپنا کام بند کر دیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے مسائل مختلف وجوہات رکھتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل تعویذ نہیں ہو سکتا۔

ایک مزاحیہ مثال

تصور کریں کہ آپ کی گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا۔ آپ ایک عامل کے پاس گئے اور اس نے آپ کو ایک تعویذ دے کر کہا: گاڑی چل پڑے گی۔ آپ نے تعویذ باندھ لیا، لیکن گاڑی پھر بھی بند رہی۔ وجہ سادہ تھی: انجن کو پٹرول چاہیے تھا، تعویذ نہیں۔ اسی طرح اگر کاروبار خراب ہے تو بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، اگر امتحان میں نمبر کم آئے ہیں تو زیادہ محنت اور پڑھائی درکار ہوتی ہے، اور اگر بیماری ہے تو ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

تعویذ بعض لوگوں کو فائدہ کیوں محسوس کرواتے ہیں؟

عام طور پر اس کی چند وجوہات ہوتی ہیں:

بعض اوقات کسی تعویذ کے مؤثر محسوس ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مسئلہ وقت کے ساتھ خود ہی کم یا ختم ہو جاتا ہے۔ بہت سی مشکلات، جیسے سر درد، ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند کی کمی یا روزمرہ کی فکر، عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میں بہتری آ سکتی ہے۔ اگر اسی دوران کوئی شخص تعویذ پہن لے تو وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی حالت میں بہتری تعویذ کی وجہ سے آئی ہے، حالانکہ ممکن ہے مسئلہ فطری طور پر ہی کم ہوا ہو۔ 

2۔ انسانی ذہن کامیاب مثالوں کو زیادہ یاد رکھتا ہے اور ناکام مثالوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سو افراد نے تعویذ لیا ہو اور ان میں سے پچانوے افراد کو کوئی فائدہ نہ ہوا ہو جبکہ صرف پانچ افراد نے فائدہ محسوس کیا ہو، تو عام طور پر انہی پانچ افراد کی کہانیاں دوسروں تک پہنچتی ہیں۔ باقی پچانوے افراد خاموش رہ جاتے ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ تعویذ اکثر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

3۔ کئی مرتبہ انسان محض اتفاق کو بھی کسی چیز کا سبب سمجھ لیتا ہے۔ فرض کریں کسی شخص نے تعویذ لیا اور اگلے ہی دن اسے نوکری مل گئی، تو وہ فوراً یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ تعویذ نے کام کر دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہو سکتی ہے کہ اس نے اس نوکری کے لیے ایک مہینہ پہلے درخواست دی تھی اور تقرری کا عمل پہلے ہی جاری تھا۔ اس صورت میں نوکری ملنا ایک اتفاق تھا، لیکن اسے تعویذ کا اثر سمجھ لیا گیا۔

2۔ سائنسی نقطۂ نظر

جب انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اسے علاج مل رہا ہے، تو دماغ اس یقین کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ جدید میڈیکل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی دماغ صرف سوچنے کا مرکز نہیں بلکہ پورے جسم کے افعال کو متاثر کرنے والا ایک طاقتور کنٹرول روم بھی ہے۔ جب کسی شخص کے دل سے خوف، پریشانی اور بے یقینی کم ہونے لگتی ہے تو دماغ جسم میں مختلف کیمیائی مادوں کے اخراج کو تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔

مثال کے طور پر، شدید ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں کورٹیسول (Cortisol) اور ایڈرینالین (Adrenaline) جیسے تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں۔ اگر یہ طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں موجود رہیں تو نیند خراب ہو سکتی ہے، بلڈ پریشر متاثر ہو سکتا ہے، تھکاوٹ بڑھ سکتی ہے اور قوتِ مدافعت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔

لیکن جب انسان کو اطمینان، امید یا تحفظ کا احساس ملتا ہے تو دماغ تناؤ کے ان ہارمونز کی مقدار کم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن نسبتاً نارمل ہو جاتی ہے، پٹھوں کا کھنچاؤ کم ہوتا ہے، ذہنی سکون بڑھتا ہے اور بعض لوگوں کو درد میں بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔

سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص مسلسل خوف میں رہے تو اس کا جسم “خطرے کی حالت” میں کام کرتا رہتا ہے، لیکن جب اسے یقین ہو جائے کہ مسئلہ حل ہو رہا ہے تو جسم “آرام اور بحالی” کی حالت میں واپس آنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ تعویذ، دم یا کسی اور چیز کے بعد واقعی فرق محسوس کرتے ہیں، حالانکہ اصل تبدیلی ان کے دماغ اور جسم کے اندر ہونے والے حیاتیاتی ردعمل کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ کاغذ پر لکھی سیاہی یا پراسرار نشانات کی وجہ سے۔

اسی لیے جدید سائنس یہ نہیں کہتی کہ انسان کا یقین بے معنی ہے۔ بلکہ سائنس یہ کہتی ہے کہ یقین کا اثر موجود ہے، لیکن اس کا تعلق زیادہ تر انسان کے دماغ، اعصاب، ہارمونز اور جسمانی ردعمل سے ہوتا ہے، نہ کہ کاغذ پر لکھے ہوئے پراسرار اعداد، خانوں یا نشانات میں موجود کسی مافوق الفطرت طاقت سے۔

3۔ اسلامی نقطۂ نظر

تعویذ کا بنیادی مطلب اللہ تعالیٰ سے حفاظت اور مدد کی دعا مانگنا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ “عوذ” سے نکلا ہے جس کے معنی پناہ حاصل کرنا اور حفاظت طلب کرنا ہیں۔ آسان الفاظ میں تعویذ کو ایک ایسی دعا کہا جا سکتا ہے جو زبانی پڑھنے کے بجائے لکھ کر محفوظ کی جاتی ہے۔

جس طرح زبان سے مانگی جانے والی دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے، اسی طرح اگر تعویذ میں قرآنِ مجید کی آیات یا مسنون دعائیں لکھی گئی ہوں تو اس کا فائدہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں تعلیم کا شعور بڑھا ہے، جس کی وجہ سے تعویذ اور گنڈوں کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات اور آراء سامنے آئی ہیں۔ تاہم اسلامی تعلیمات میں دعا، دم اور بعض صورتوں میں جائز تعویذات کا ذکر موجود ہے۔

مثال کے طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر لبید بن اعصم نامی ایک یہودی کے کیے ہوئے جادو کے اثرات ظاہر ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت فرمائی، جس سے جادو کا اثر ختم ہوگیا۔

اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر کے دوران انہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جس کے نتیجے میں سانپ کے کاٹے ہوئے ایک شخص کو شفا مل گئی۔ بعد میں جب یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس عمل کی تائید فرمائی۔

 

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ثُمَّ يَقُولُ: «كَانَ أَبُوكُمْ يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ»

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ تعالیٰ سے حفاظت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حفاظت کے لیے دعاؤں کا پڑھنا اور پڑھ کر دم کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔

ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے “نشرہ” کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

عن جابر رضی اللہ عنہ السئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النشرة فقال ہو من عمل الشیطان رواہ أبوداوٴد قال العلي القاري فی المرقاة النوع الذي کان من أہل الجاھلیة یعالجون بہ ویعتقدون فیہ وأما ما کان من الآیات القرآن والأسماء والصفات الربانیة والدعوات والماثورة النبویة فلا بأس بل یستحب سواء کان تعویذًا أو رقیة أو نشرة.

اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے علماء نے لکھا ہے کہ وہ طریقے ناجائز ہیں جن میں غیر شرعی الفاظ، توہمات یا جاہلیت کے عقائد شامل ہوں۔ البتہ قرآنِ کریم کی آیات، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور نبی کریم ﷺ سے منقول دعاؤں کے ذریعے علاج یا حفاظت کی دعا کرنا جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ” يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ” وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرٍو يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ.

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خوف اور گھبراہٹ کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے:

أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ

یعنی: میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے اس کے غضب، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر، شیطانوں کے وسوسوں اور ان کے قریب آنے سے پناہ مانگتا ہوں۔

روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے سمجھدار اور بالغ بچوں کو یہ دعا یاد کرواتے تھے، جبکہ چھوٹے بچوں کے لیے اسے لکھ کر ان کے ساتھ رکھ دیتے تھے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حفاظتی دعاؤں کو لکھ کر بھی استعمال کرتے تھے۔

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ آپ ﷺ نے ان میں سے نو افراد کی بیعت قبول فرما لی، لیکن ایک شخص کی بیعت قبول نہیں کی۔ حاضرین نے عرض کیا: “اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے نو افراد سے بیعت لے لی، مگر اس شخص کو چھوڑ دیا، اس کی کیا وجہ ہے؟”

آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے تعویذ پہن رکھا ہے۔

یہ سنتے ہی اس شخص نے فوراً اپنے گلے سے تعویذ اتارا اور اسے توڑ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس سے بھی بیعت لے لی اور فرمایا:

جس شخص نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔”

اس حدیث کو امام احمد نے اپنی *مسند* میں روایت کیا ہے۔ (مسند احمد: 16781) اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے *سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ* (492) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

جو شخص تمیمہ (تعویذ) لٹکائے، اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جو شخص ودعہ لٹکائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی چیز مکمل نہ چھوڑے۔

یہ روایت بھی *مسند احمد* (17440) میں موجود ہے اور محققِ مسند احمد، شعیب ارناؤط رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

 ودعہ کیا ہے؟

عربی زبان میں “ودعہ” ایک قسم کی سمندری سیپی (Shell) کو کہا جاتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ ان سیپیوں کو بچوں یا بڑوں کے گلے میں اس عقیدے کے ساتھ لٹکاتے تھے کہ یہ نظرِ بد اور دیگر آفات سے حفاظت کرتی ہیں۔

 تمیمہ کیا ہے؟

امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تمیمہ ان چیزوں کو کہا جاتا تھا جنہیں لوگ اپنے ساتھ لٹکاتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ انہیں مصیبتوں اور نقصان سے بچائیں گی۔

اسی طرح امام بغوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

تمائم، تمیمہ کی جمع ہے۔ عرب لوگ اپنے بچوں کے گلے میں انہیں لٹکایا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ اس سے نظرِ بد کا اثر نہیں ہوتا۔ شریعت نے اس عقیدے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

التعريفات الاعتقادية، ص: 121۔

نتیجہ

تعویذ کیوں اثر کرتے محسوس ہوتے ہیں؟ اس کا جواب اکثر تعویذ کے کاغذ میں نہیں بلکہ انسان کے ذہن، امید، یقین اور نفسیاتی کیفیت میں چھپا ہوتا ہے۔ عاملوں کے پراسرار نقش، عجیب حروف اور پرانے رسم الخط بہت سے لوگوں پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالتے ہیں، لیکن جدید سائنس کو آج تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا کہ کاغذ پر لکھے مخصوص اعداد یا نشانات خود بخود کائنات کے قوانین بدل دیتے ہوں۔

اگر آپ بیمار ہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر ذہنی دباؤ ہے تو کسی ماہرِ نفسیات یا قابلِ اعتماد مشیر سے بات کریں۔ اگر کاروبار خراب ہے تو بہتر منصوبہ بندی کریں۔ اور اگر زندگی میں مشکلات ہیں تو محنت، علم، حکمت اور صبر کو اپنا ساتھی بنائیں۔ کیونکہ اکثر وہ طاقت جسے ہم کسی تعویذ میں تلاش کرتے ہیں، اس کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی ہمارے اپنے دماغ اور عمل کے اندر موجود ہوتا  کیونکہ جو طاقت ہمارے دماغ کے اندر ہے وہ تعویزات میں نہیں ہے اس لیے اپنے ٹائم اور پیسے کا ضیاع نہ کریں بلکہ اپنے مسائل کو پریکٹیکلی طور پر حل کرنے کی کوشش کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں