پوری مشرقِ وسطیٰ اب جنگ کی لپیٹ میں! آگ ہر سمت بھڑک اٹھی، عمان، عراق اور لبنان میدانِ جنگ بن گئے حتیٰ کہ صحافی بھی محفوظ نہ رہے، سچ دکھانے والے بھی نشانے پر۔
اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ
عراق میں دو مختلف مقامات پر الحشد الشعبی (پی ایم ایف) کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک عراقی پولیس ذریعے کے مطابق پہلا حملہ شمالی شہر موصل کے علاقے راشدیہ میں ایک مرکز پر ہوا۔ جبکہ دوسرا حملہ صلاح الدین صوبے کے ضلع تُوز خورماتو میں پی ایم ایف کے ایک ہیڈکوارٹر پر کیا گیا، جس کی تصدیق تنظیم کے میڈیا دفتر کے ذریعے نے بھی کی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی حملے میں لبنان کے مزید تین صحافی ہلاک ہو گئے۔ یہ صحافی جنوبی لبنان کے گاؤں جزین میں صبح سویرے رپورٹنگ کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ 2 مارچ کے بعد سے لبنان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد پانچ ہو چکی ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کے عالمی ادارے کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں دو تہائی کے قریب واقعات کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا، جو اس پیشے کے لیے ایک انتہائی خطرناک سال ثابت ہوا۔ جنوبی لبنان میں فضا غمگین ہے لیکن صحافیوں کا عزم برقرار ہے کہ وہ دباؤ میں آئے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، کیونکہ صحافت کوئی جرم نہیں۔
اور اُدھر عمان میں (الجزیرہ کے مطابق)کیے گئے ایک حملے کاعمان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق تاحال کوئی گروہ ذمہ داری قبول نہیں کر رہا۔ حکام ان حملوں کے ذرائع اور مقاصد کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اگرچہ وزارت نے واضح نہیں کیا کہ کون سے حملے زیرِ تحقیق ہیں، تاہم ہفتے کے روز صلالہ بندرگاہ پر دو ڈرون حملے ہوئے تھے جن میں ایک کارکن زخمی اور ایک کرین کو نقصان پہنچا۔
عمان نے ایک بار پھر اپنی فعال غیر جانبداری کی پالیسی پر قائم رہنے کا اعادہ کیا ہے اور فریقین سے مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی ہے۔