امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کے خلاف سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ پہلے ہی ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے، اگر تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکی حملے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی اشارہ دیا کہ موجودہ تنازعہ توقع سے پہلے ختم بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز بند ہوئی تو سخت کارروائی ہوگی
ایک نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی سپلائی کے اہم راستے کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کے خلاف انتہائی سخت ردعمل دے گا۔
ان کے مطابق امریکہ پہلے ہی ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ جنگ ان کے پہلے سے طے کردہ چار ہفتوں کے دورانیے سے بھی پہلے ختم ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ جنگ کے خاتمے کی صورت کیا ہوگی۔
ایران کا سخت جواب
امریکی بیانات کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ جنگ کب ختم ہوگی، اس کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔
نئے ایرانی سپریم لیڈر کے اعلان سے صورتحال مزید کشیدہ
ادھر ایران میں مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کیے جانے کی خبر نے بھی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے ایران میں سخت گیر حلقوں کی طاقت مزید بڑھنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نئے رہنما کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور ریلیاں نکالیں۔
عالمی منڈیوں میں ہلچل، تیل کی قیمتیں اوپر نیچے
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتیں ایک وقت میں تقریباً 7 فیصد تک بڑھ گئیں، تاہم بعد میں دوبارہ کمی بھی دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہو گئی تو دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو سکتی ہے
جنگ کے انسانی اثرات بھی سامنے آنے لگے
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 1,332 ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
لبنان میں بھی درجنوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔