ترکی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بیانات کی جنگ، اور ممکنہ عسکری تنازع۔ کیا واقعی جنگ کا خطرہ موجود ہے؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا یہ کشیدگی کسی بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔
ترکی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی: کیا جنگ کا خطرہ حقیقت بن سکتا ہے؟
اسرائیلی وزیراعظم نے 11 اپریل کو ایک سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا کہ ان کی قیادت میں اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، اور بالواسطہ طور پر ترک صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے عناصر کی حمایت کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قیادت “خون اور نفرت میں ڈوبی ہوئی ہے”۔
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف سفارتی سطح پر نہیں بلکہ ذاتی اور سیاسی سطح پر بھی کشیدہ ہو چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیانات محض سفارتی نہیں بلکہ اندرونی سیاست کا بھی حصہ ہیں، جہاں دونوں رہنما اپنے ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں حالیہ بگاڑ کی بڑی وجہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد پیش آنے والے واقعات ہیں، جب حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
ان کارروائیوں کے بعد:
ترکی نے سخت ردعمل دیا
سفارتی تعلقات معطل کیے گئے
اسرائیل کے ساتھ تجارت روکنے کا اعلان کیا گیا
یہ اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کرنے کا سبب بنے۔
ازمیر یونیورسٹی کی ماہر تگچے ارسوئے کے مطابق، ترکی اور اسرائیل دونوں میں اندرونی سیاسی عوامل خارجہ پالیسی پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
ان کے مطابق سخت بیانات عوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں
نتن یاہو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
اردوان علاقائی قیادت کے تناظر میں اپنی حیثیت مستحکم کرنا چاہتے ہیں
اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اب “سرد امن” سے بڑھ کر “سرد مقابلہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق اسرائیلی سفارتکار ایلون پنکاس نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کو دشمن قرار دینا ایک خطرناک رجحان ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہوں۔
اسی طرح پروفیسر امنون ایرن کے مطابق دونوں رہنما اپنی نظریاتی سیاست کو تقویت دے رہے ہیں۔ بیان بازی غیر ذمہ دارانہ حد تک بڑھ چکی ہے۔ تعلقات کئی سالوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
کچھ اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے ترکی کو “نیا ایران” قرار دیا گیا، تاہم ماہرین اس خیال کو مسترد کرتے ہیں۔
ترکی نے اسرائیل کے خلاف جوہری پروگرام کا کوئی اعلان نہیں کیا
ترکی نیٹو کا رکن ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔
ایلون پنکاس کے مطابق ترکی کو ایران سے تشبیہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہے۔
ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اس وقت ایک حساس دور سے گزر رہے ہیں جہاں بیان بازی اور سیاسی مفادات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ مکمل جنگ کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے، لیکن معمولی غلطی بھی بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔
خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک سفارتی راستے کو ترجیح دیں اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں۔




