بچوں کا روتے وقت سانس رک جانا کیوں ہوتا ہے؟ وجوہات، علامات، علاج اور والدین کے لیے اہم احتیاطی تدابیر
اگر آپ کا بچہ روتے روتے اچانک سانس روک لے، نیلا پڑ جائے یا چند لمحوں کے لیے بے ہوش ہو جائے تو یہ منظر کسی بھی والدین کے لیے انتہائی خوفناک ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی خطرناک ہے یا ایک عام مسئلہ؟
یہ ایک عام کیفیت ہوتی ہے جسے Breath Holding Spell کہا جاتا ہے، اور یہ مناسب توجہ کے ساتھ سنبھالی جا سکتی ہے۔
بچوں کا روتے وقت سانس رک جانا کیا ہے؟
بعض اوقات بچہ شدید غصے، خوف یا ضد کے دوران اچانک سانس روک لیتا ہے اور اس کا رنگ نیلا یا پیلا پڑنے لگتا ہے۔اس کی وجوہات کو سمجھنا، بروقت علاج جاننا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا زیادہ تر چار ماہ سے دو سال کی عمر کے بچوں میں دیکھی جاتی ہے۔ اندازاً تقریباً 5 فیصد بچے کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کرتے ہیں۔اور عمر بڑھنے کے ساتھ اکثر خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
بچوں کا سانس رک جانا: اہم علامات
اگر بچہ روتے وقت سانس روکے تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
روتے روتے اچانک خاموش ہو جانا
سانس چند سیکنڈ کے لیے رک جانا
ہونٹ یا چہرہ نیلا پڑ جانا
جسم اکڑ جانا یا ڈھیلا ہو جانا
چند لمحوں کے لیے بے ہوشی جیسی کیفیت
بعد میں دوبارہ نارمل ہو جانا
بچے کا سانس رک جانا کیوں ہوتا ہے؟ مکمل وجوہات
جسم میں آئرن کی کمی (Iron deficiency)۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن بچوں کے جسم میں آئرن کی کمی ہوتی ہے، ان میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا گیا ہے۔
بچے کا زیادہ ڈر جانا، خوف یا گھبراہٹ۔ اگر بچہ اچانک ڈر جائے (جیسے زور سے شور یا کسی چیز کے گرنے پر) تو بھی یہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
گھر کے ماحول میں کشیدگی یا شور شرابہ۔ اگر گھر میں بار بار جھگڑے ہوں یا بچہ دباؤ والے ماحول میں پرورش پا رہا ہو تو اس کے ذہنی اثرات بھی اس کیفیت کا سبب بن سکتے ہیں۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ یا ضد کچھ بچے ضد میں آکر یا اپنی بات منوانے کے لیے روتے روتے اچانک سانس روک لیتے ہیں۔
گرنے، چوٹ لگنے یا اچانک درد کی صورت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے
کچھ بچوں میں اعصابی ردعمل زیادہ حساس ہوتا ہے، جس سے یہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
فوری کیا کریں؟
ایسی صورت حال میں والدین کو چاہیے
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماں باپ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ کیونکہ اکثر یہ کیفیت وقتی اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔پریشان نہ ہوں، حواس قابو میں رکھیں۔ گھبراہٹ کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
بچے کو سیدھا یا کروٹ پر لٹا دیں تاکہ سانس بحال ہو سکے۔
بچے کو فوراً گود میں نہ اٹھائیں۔ اس دوران بچے کو گود میں لینے سے کبھی کبھی سانس بحال ہونے میں دیر ہو سکتی ہے۔
آس پاس کی جگہ خالی کریں تاکہ بچہ کسی سخت چیز سے نہ ٹکرائے۔ بچے کے قریب سے سخت اور نوکدار چیزیں فوری ہٹا لیں تاکہ اگر وہ ہلنے لگے تو اسے چوٹ نہ لگے۔
جب کیفیت ختم ہو جائے تو بچے کو کچھ دیر آرام کرنے دیں۔
بچے کی طبیعت مکمل بحال ہونے تک اسے کھانے پینے کی چیز نہ دیں۔ کیفیت ختم ہونے کے فوراً بعد بچے کو دودھ، پانی یا کھانا نہ دیں۔ پہلے بچے کو آرام کرنے دیں، پھر جب وہ بالکل نارمل ہو جائے تو کھلائیں۔
وقت نوٹ کریں اگر کیفیت ایک منٹ سے زیادہ رہے تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
احتیاطی تدابیر
بچے کا لباس اور ماحول ہمیشہ آرام دہ اور کمفرٹ ایبل رکھیں۔
نوٹ کریں کہ کن وجوہات کی وجہ سے بچہ زیادہ روتا اور سانس روکتا ہے۔ انہی وجوہات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔
گھر کے ماحول کو پرسکون اور دوستانہ بنائیں۔ شور، چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑے بچے پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ہمیشہ دوستانہ اور پرامن ماحول رکھیں تاکہ بچہ پرسکون رہے۔
بچے کو کبھی بھی ڈرانے یا مارنے کے بجائے پیار سے سمجھائیں۔
علاج اور مشورہ
اس کیفیت کی کوئی خاص دوا ابھی تک نہیں، لیکن بچے کو لازمی طور پر ماہر بچوں کے ڈاکٹر (پیدیاٹریشن) کو دکھائیں اور مکمل معائنہ کروائیں۔
اگر ممکن ہو تو کسی ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔
بچے کی خوراک میں آئرن سے بھرپور غذائیں شامل کریں:
مدر فیڈ کروانے والی مائیں اپنی خوراک میں پالک، دالیں، گوشت، سیب، خشک میوہ جات وغیرہ بڑھائیں۔
جو بچے سولڈ فوڈ کھانا شروع کر چکے ہیں، انہیں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک دیں۔
بچے کے سانس رکنے کے دوروں کی ایک ڈائری بنائیں، جس میں یہ درج کریں
دورہ کب ہوا؟
کتنی دیر تک رہا؟
اس وقت بچہ کس حالت میں تھا (رو رہا تھا، ضد کر رہا تھا وغیرہ)؟
یہ ڈائری ڈاکٹر کو دکھانا بہت مددگار ثابت ہوگی۔
کب یہ مسئلہ خطرناک ہو سکتا ہے؟
اگر دورہ 1 منٹ سے زیادہ ہو
بار بار ہو رہا ہو
بچہ مکمل بے ہوش ہو جائے
جسم میں جھٹکے آئیں
یاد رکھیں زیادہ تر بچے اس کیفیت سے وقت کے ساتھ خود بخود نکل آتے ہیں۔ اگر والدین پرسکون رہیں، بچے کی خوراک اور ماحول بہتر رکھیں تو یہ مسئلہ عام طور پر مستقل نہیں رہتا۔
انتباہ! یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں، تشخیص اور علاج کے لیے مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔




