بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا وجوہات اور علاج

بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا 0

بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجوہات، مؤثر علاج اور والدین کے لیے اہم احتیاطی تدابیر مکمل تفصیل کے ساتھ جانیں۔

بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا ایک ایسا مسئلہ ہے جو والدین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ بعض اوقات بچہ شدید غصے، خوف یا ضد کے دوران اچانک سانس روک لیتا ہے اور اس کا رنگ نیلا یا پیلا پڑنے لگتا ہے، جو بظاہر خطرناک محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر کیسز میں یہ کیفیت جان لیوا نہیں ہوتی، تاہم اس کی وجوہات کو سمجھنا، بروقت علاج جاننا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔

بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا زیادہ تر چار ماہ سے دو سال کی عمر کے بچوں میں دیکھی جاتی ہے۔ اندازاً تقریباً 5 فیصد بچے کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کرتے ہیں۔

بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا (Cyanotic Breath Holding Spell)

بچوں کا روتے وقت سانس روک لینا

جب بچہ زیادہ روتا ہے یا کسی بات پر ضد کرتا ہے تو بعض اوقات اچانک اس کی سانس رک جاتی ہے۔ اس دوران

ہونٹ، ہاتھ یا پاؤں نیلے پڑ سکتے ہیں (آکسیجن کی کمی کی وجہ سے)۔

بچہ چند سیکنڈ کے لیے بالکل چپ یا سخت سا ہو سکتا ہے۔

بعض اوقات جسم ڈھیلا یا اکڑ بھی سکتا ہے۔

شہریوں کو طویل عرصے سے فنگر پرنٹس کی تصدیق کے دوران جن مشکلات کا سامنا تھا، اب ان کے حل کی جانب ایک بڑا قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ نادرا نے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے بائیو میٹرک تصدیق اب صرف فنگر پرنٹس سے ہی نہیں بلکہ چہرے کی شناخت کے ذریعے بھی بائیو میٹرک تصدیق ممکن ہو سکے گی۔

یہ صورتحال والدین کے لیے خوفناک ہو سکتی ہے مگر زیادہ تر کیسز میں یہ چند سیکنڈ میں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر یہ کیفیت ایک منٹ سے زیادہ برقرار رہے تو یہ تشویشناک ہے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

جسم میں آئرن کی کمی (Iron deficiency)۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن بچوں کے جسم میں آئرن کی کمی ہوتی ہے، ان میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا گیا ہے۔

بچے کا زیادہ ڈر جانا، خوف یا گھبراہٹ۔ اگر بچہ اچانک ڈر جائے (جیسے زور سے شور یا کسی چیز کے گرنے پر) تو بھی یہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

گھر کے ماحول میں کشیدگی یا شور شرابہ۔ اگر گھر میں بار بار جھگڑے ہوں یا بچہ دباؤ والے ماحول میں پرورش پا رہا ہو تو اس کے ذہنی اثرات بھی اس کیفیت کا سبب بن سکتے ہیں۔

 

چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ یا ضد  کچھ بچے ضد میں آکر یا اپنی بات منوانے کے لیے روتے روتے اچانک سانس روک لیتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں والدین کو چاہیے

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماں باپ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ کیونکہ اکثر یہ کیفیت وقتی اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔پریشان نہ ہوں، حواس قابو میں رکھیں۔ گھبراہٹ کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

بچے کو سیدھا یا کروٹ پر لٹا دیں تاکہ سانس بحال ہو سکے۔

بچے کو فوراً گود میں نہ اٹھائیں۔ اس دوران بچے کو گود میں لینے سے کبھی کبھی سانس بحال ہونے میں دیر ہو سکتی ہے۔

آس پاس کی جگہ خالی کریں تاکہ بچہ کسی سخت چیز سے نہ ٹکرائے۔ بچے کے قریب سے سخت اور نوکدار چیزیں فوری ہٹا لیں تاکہ اگر وہ ہلنے لگے تو اسے چوٹ نہ لگے۔

جب کیفیت ختم ہو جائے تو بچے کو کچھ دیر آرام کرنے دیں۔

بچے کی طبیعت مکمل بحال ہونے تک اسے کھانے پینے کی چیز نہ دیں۔ کیفیت ختم ہونے کے فوراً بعد بچے کو دودھ، پانی یا کھانا نہ دیں۔ پہلے بچے کو آرام کرنے دیں، پھر جب وہ بالکل نارمل ہو جائے تو کھلائیں۔

احتیاطی تدابیر

بچے کا لباس اور ماحول ہمیشہ آرام دہ اور کمفرٹ ایبل رکھیں۔

نوٹ کریں کہ کن وجوہات کی وجہ سے بچہ زیادہ روتا اور سانس روکتا ہے۔ انہی وجوہات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔

گھر کے ماحول کو پرسکون اور دوستانہ بنائیں۔ شور، چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑے بچے پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ہمیشہ دوستانہ اور پرامن ماحول رکھیں تاکہ بچہ پرسکون رہے۔

بچے کو کبھی بھی ڈرانے یا مارنے کے بجائے پیار سے سمجھائیں۔

علاج اور مشورہ

اس کیفیت کی کوئی خاص دوا ابھی تک نہیں، لیکن بچے کو لازمی طور پر ماہر بچوں کے ڈاکٹر (پیدیاٹریشن) کو دکھائیں اور مکمل معائنہ کروائیں۔

اگر ممکن ہو تو کسی ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔

بچے کی خوراک میں آئرن سے بھرپور غذائیں شامل کریں:

مدر فیڈ کروانے والی مائیں اپنی خوراک میں پالک، دالیں، گوشت، سیب، خشک میوہ جات وغیرہ بڑھائیں۔

جو بچے سولڈ فوڈ کھانا شروع کر چکے ہیں، انہیں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک دیں۔

بچے کے سانس رکنے کے دوروں کی ایک ڈائری بنائیں، جس میں یہ درج کریں

دورہ کب ہوا؟

کتنی دیر تک رہا؟

اس وقت بچہ کس حالت میں تھا (رو رہا تھا، ضد کر رہا تھا وغیرہ)؟

یہ ڈائری ڈاکٹر کو دکھانا بہت مددگار ثابت ہوگی۔

یاد رکھیں زیادہ تر بچے اس کیفیت سے وقت کے ساتھ خود بخود نکل آتے ہیں۔ اگر والدین پرسکون رہیں، بچے کی خوراک اور ماحول بہتر رکھیں تو یہ مسئلہ عام طور پر مستقل نہیں رہتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں