شیزوفرینیا کی علامات وجوہات اور علاج

شیزوفرینیا ایک سنگین اور پیچیدہ ذہنی بیماری 0

شیزوفرینیا (Schizophrenia) ایک ایسا ذہنی عارضہ جو انسان کی، حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت کو بدل دیتا ہے۔

دنیا میں بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جو جسم کو نہیں بلکہ ذہن کو متاثر کرتی ہیں۔ ان بیماریوں کا اثر انسان کے خیالات، احساسات اور رویوں پر پڑتا ہے۔ یہ ان سب سے زیادہ پیچیدہ اور پراسرار بیماریوں میں سے ایک ہے ۔

شیزوفرینیا کیا ہے ؟

شیزوفرینیا ایک دائمی (chronic) اور سنگین ذہنی بیماری ہے جو کسی شخص کے سوچنے، محسوس کرنے اور حقیقت کو پرکھنے کے انداز کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد کو اکثر ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی اور دنیا میں رہ رہے ہوں۔ وہ ایسی چیزیں دیکھ یا سن سکتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں، یا ایسے خیالات پر یقین رکھتے ہیں جو سچ نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق، یہ بیماری عموماً نوجوانی یا جوانی کے آغاز میں ظاہر ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر 300 میں سے ایک شخص اس عارضے میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا تناسب کم لگتا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے اور طویل مدتی ہوتے ہیں۔ اس کا علاج زندگی بھر  کرتے رہنا ضروری ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شیزوفرینیا کو اکثر جنات، آسیب، یا جادو ٹونے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ مریض کو عاملوں، پیروں اور تعویذ گنڈے کے حوالے کر دیا جاتا ہے، جس سے بیماری بگڑتی چلی جاتی ہے۔ حالانکہ جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ شیزوفرینیا کا تعلق دماغ کے کیمیائی توازن، جینیاتی اثرات، اور ماحول سے ہوتا ہے، کسی ماورائی قوت سے نہیں۔

شیزوفرینیا کی علامات

شیزوفرینیا کی علامات کو عموماً دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے
مثبت (Positive) اور منفی (Negative) علامات۔

1  مثبت علامات (Positive Symptoms)

یہ وہ علامات ہیں جو مریض کے ذہن میں شامل ہو جاتی ہیں  یعنی ایسی چیزیں جو ایک صحت مند شخص میں نہیں ہوتیں۔ ان کا حقیقت سےکوئی تعلق نہیں ہوتا۔

وہم (Hallucinations)

مریض آوازیں سنتا ہے، تصویریں دیکھتا ہے، یا ایسی چیزیں محسوس کرتا ہے جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات وہ آوازیں مریض کو کچھ کرنے کا حکم بھی دیتی ہیں۔

فریبِ نظر یا ہذیان (Delusions)

مریض ایسے خیالات یا عقائد رکھتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔ مثلاً وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ کوئی مشہور شخصیت ہے، اسے خدا کی طرف سے کوئی خاص مشن ملا ہے، یا لوگ اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں وغیرہ۔

بے ربط گفتگو اور رویہ (Disorganized Speech and Behavior)

 مریض کی گفتگو بے ترتیب اور الجھی ہوئی ہوتی ہے۔ جملے نامکمل اور بے ربط ہوتے ہیں۔ ایک بات سے دوسری بات پر اچانک منتقل ہو جاتا ہے، اور بعض اوقات ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اس کا رویہ بھی عجیب و غریب اور غیر متوقع ہو سکتا ہے۔ اچانک غصہ یا بے مقصد حرکت دیکھی جا سکتی ہے۔

2  منفی علامات (Negative Symptoms)

یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو ایک شخص کی شخصیت سے “غائب” ہو جاتی ہیں یا کمزور پڑ جاتی ہیں۔ یہ مثبت علامات سے زیادہ خطرناک اور زندگی کے لیے بوجھل ہوتی ہیں۔ یہ علامات مریض کو آہستہ آہستہ معاشرے سے کاٹ دیتی ہیں۔

مریض دوستوں اور خاندان سے دور رہنے لگتا ہے اور تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔

 مریض کے چہرے پر تاثرات کم ہو جاتے ہیں، وہ خوشی یا غم جیسے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتا، اور اس میں جوش و خروش کی کمی ہو جاتی ہے۔ مریض کی روزمرہ کے کاموں جیسے صفائی، کھانا پکانا یا کام پر جانے میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔

شیزوفرینیا کی وجوہات، یہ بیماری کیوں پیدا ہوتی ہے؟

شیزوفرینیا کی کوئی ایک مخصوص وجہ نہیں ہے، بلکہ یہ متعدد عوامل کا مجموعہ ہے ۔ سائنسدان اس بیماری کو ایک کثیر الجہتی (Multifactorial) عارضہ سمجھتے ہیں جس میں جینیاتی، دماغی، اور ماحولیاتی عوامل سب شامل ہیں۔

🧬 1 جینیاتی عوامل

تحقیق کے مطابق، شیزوفرینیا 60% سے 80% تک موروثی (hereditary) ہوتی ہے۔ اگر کسی خاندان میں کسی فرد کو یہ بیماری ہو تو دیگر افراد میں بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر موروثی مریض متاثر ہو، جینز صرف رجحان پیدا کرتے ہیں، بیماری نہیں۔

🧠 2 دماغی کیمیکلز میں عدم توازن

دماغ کے کیمیائی پیغامات پہنچانے والے مادے، جیسے ڈوپامین (Dopamine) اور گلوٹامیٹ (Glutamate)، شیزوفرینیا میں غیر متوازن ہو جاتے ہیں۔ یہی توازن دماغ کے اندر حقیقت اور وہم کے درمیان فرق قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

🌍 3 ماحولیاتی عوامل

کچھ بیرونی حالات بھی اس بیماری کو متحرک کر سکتے ہیں

حمل کے دوران غذائی قلت یا وائرل انفیکشن۔ بچپن کے صدمات، تناؤ، یا والدین کی عدم توجہ۔ نوجوانی میں نشہ آور اشیاء، خاص طور پر بھنگ (Cannabis) کا استعمال۔ شہری علاقوں میں پرورش، جہاں دباؤ زیادہ اور سماجی رابطے کم ہوں۔ یہ تمام عوامل ایک حساس ذہن کو بیماری کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

شیزوفرینیا کی تشخیص کیسے ہوتی ہے ؟

شیزوفرینیا کی تشخیص کسی ایک ٹیسٹ سے ممکن نہیں۔

ماہرِ نفسیات مریض کی علامات، گفتگو، رویے، اور خاندانی تاریخ کا جائزہ لیتا ہے۔ اکثر تشخیص اس وقت کی جاتی ہے جب علامات چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہیں۔ تشخیص کے لیے بعض اوقات  (MRI یا CT) اسکین بھی کیا جاتا ہے تاکہ دوسری دماغی بیماریوں کو خارج کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں، DSM-5 (Diagnostic and Statistical Manual) کے معیار پر بھی انحصار کیا جاتا ہے۔

شیزوفرینیا ایک سنگین اور پیچیدہ ذہنی بیماری ہے

کیا شیزوفرینیا قابلِ علاج ہے؟

یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے ۔ کیا شیزوفرینیا ٹھیک ہو سکتا ہے؟

اس کا سادہ جواب یہ ہے،

مکمل طور پر نہیں، لیکن قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ادویات، تھراپی، اور سماجی مدد سے مریض وہ سب کچھ کر سکتا ہے جو ایک عام شخص کر سکتا ہے۔ بس تھوڑی ہمت، تسلسل، اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔

شیزوفرینیا ایک خوفناک نام ضرور ہے، مگر یہ ناقابلِ علاج نہیں۔

سائنس اور طب مسلسل ترقی کر رہی ہیں، اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس بیماری کے باوجود ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ اصل ضرورت ہے آگاہی، قبولیت، اور ہمدردی کی۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے نہ ڈریں، تو ہم شیزوفرینیا جیسے امراض کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کر سکتے ہیں۔

اگرچہ اس بیماری کا مکمل علاج ابھی ممکن نہیں اور نہ ہی اس  کا علاج صرف ادویات تک محدود ہے۔ بلکہ جدید سائنس نے ایسے طریقے وضع کیے ہیں جن سے مریض ایک بہتر، فعال اور باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔

💊 1 ادویات (Antipsychotic Medication)

 شیزوفرینیا کے علاج کی بنیاد اینٹی سائیکوٹک (Antipsychotic) ادویات ہیں۔ 

یہ دوائیاں دماغ کے کیمیائی توازن کو بحال کرتی ہیں، جس سے علامات میں کمی آتی ہے۔ ان دوائیوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق باقاعدگی سے استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ بیماری دوبارہ شدت نہ پکڑے۔

ابتدائی ادویات 1950 کی دہائی میں دریافت ہوئیں، مگر آج نئی اور بہتر نسل کی دوائیں دستیاب ہیں جو کم مضر اثرات رکھتی ہیں۔ان میں کلوزاپین، ریسپیراڈون، اولانزاپین وغیرہ شامل ہیں۔

🧩 2  نفسیاتی علاج (Therapy and Counselling)

Cognitive Behavioral Therapy (CBT) مریض کو اپنے خیالات پر قابو پانے اور حقیقت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

Group Therapy مریض کو سماجی رابطے بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔

Family Therapy میں اہلِ خانہ کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ مریض کو کس طرح مثبت ماحول فراہم کریں۔

🏠 3 بحالی (Rehabilitation)

بحالی پروگرامز مریض کو روزمرہ زندگی کے معمولات سکھاتے ہیں۔ جیسے کھانا پکانا، بجٹ بنانا، اور ملازمت کرنا۔

بہت سے ممالک میں ایسے مراکز قائم ہیں جہاں شیزوفرینیا کے مریض مکمل تربیت کے بعد سماجی طور پر فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

خاندانی اور سماجی کردار

شیزوفرینیا کا سب سے مؤثر علاج صرف دوائی نہیں بلکہ خاندان کی محبت اور توجہ ہے۔ معاشرے اور خاندان کی طرف سے مریض کو سمجھنا اور اسے تنہائی کا احساس نہ ہونے دینا بہت ضروری ہے۔

اگر گھر والے مریض پر الزام تراشی، شرمندگی یا تضحیک کے بجائے تعاون کا رویہ اختیار کریں تو علاج کے نتائج کئی گنا بہتر ہوتے ہیں۔

 بدقسمتی سے ہمارے ہاں ذہنی مریض کو پاگل سمجھ کر تنہا کر دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ شیزوفرینیا والا شخص اپنی مرضی سے بیمار نہیں ہوتا۔ یہ ایک دماغی عارضہ ہے جس کا علاج اور احترام دونوں ضروری ہیں۔

اگر شیزوفرینیا کا علاج نہ کیا جائے تو، مریض حقیقت سے دور ہوتا جاتا ہے۔خودکشی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ روزمرہ زندگی، نوکری، اور تعلقات ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر علاج شروع کر دیا جائے تو مریض چند ماہ میں نمایاں بہتری محسوس کر سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، 60% سے زیادہ مریض دوائیوں اور تھراپی کے ساتھ کارآمد زندگی گزارنے لگتے ہیں۔

حالیہ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ شیزوفرینیا کے تقریباً 120 جینز  بیماری کے خطرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں جینیاتی شناخت کے ذریعے اس بیماری کی پیشگی تشخیص ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ، دماغی خلیوں (neurons) پر کام کرنے والی نئی دوائیں بھی تجرباتی مراحل میں ہیں جو ضمنی اثرات کم کریں گی۔

پاکستان میں ذہنی صحت کا چیلنج

پاکستان جیسے معاشروں میں شیزوفرینیا کے مریض سب سے زیادہ غلط فہمیاں اور سماجی دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ جہاں دماغی علاج کو شرمندگی سمجھا جاتا ہے، وہاں مریض اکثر علاج کے بجائے تعویذ یا دم درود کی طرف جاتے ہیں۔ یہی رویہ بیماری کو بڑھاتا ہے۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ شیزوفرینیا کوئی جناتی سایہ نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے، جس کا علاج صرف ماہرِ نفسیات کے پاس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں