حسد کی وجوہات
حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو یوں کھا جاتا ہے ۔ جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ (ابوداؤد،بیہقی) جب یہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے تو پھر حسد سے کیسے بچا جاۓ ۔
حسد” ایک عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں کینہ، جلن، بدخواہی یا کسی دوسرے کی نعمت یا کامیابی کے زوال کی خواہش۔ اصطلاحاً حسد اس کیفیت کو کہتے ہیں جب کوئی شخص اپنے ہم پیشہ، ہم عصر یا پڑوسی کو حاصل ہونے والی خداداد نعمتوں، کامیابیوں، دولت، عزت، علم یا منصب کو دیکھ کر اس کے زوال یا اپنی طرف منتقلی کی تمنا کرتا ہے۔ یہ ایک نہایت مذموم اور اخلاقی اعتبار سے گھٹیا صفت ہے، جو عموماً کم ظرف اور پست فکر رکھنے والے افراد میں پائی جاتی ہے۔
دوستو بہت سے کمالات ایسے ہیں جن میں انسان کی کوششوں کا کوئی عمل دخل نہیں وہ محض قدرت کے انعامات ہوتے ہیں. کیونکہ انسان کی زندگی میں کچھ چیزیں اختیاری اور کچھ غیر اختیاری ہوتی ہیں. جو غیر اختیاری ہوتی ہیں جیسے کسی کا مرد ہونا یا کسی اعلی خاندان میں یا خاندان حکومت میں پیدا ہونا یا خوبصورت و حسین پیدا ہونا وغیرہ۔
ان کی تمنا اور خواہش کرنے سےاللہ نے بھی روک دیا، کیونکہ اب جس شخص کو یہ انعامات حاصل نہیں وہ اگر عمر بھر بھی اس کی کوشش کرے کہ مثلا عورت ہے تو وہ مرد ہو جائے یا خاندانی سید بن جائے اس کے نین نقش قد و قامت حسین ہو جائیں تو یہ اس کی طاقت اور بس میں نہیں، نہ کسی دوا اور علاج سے وہ ان چیزوں کو حاصل کر سکتا ہے اور نہ کسی تدبیرسے ممکن ہے۔
جب ایسا ہے تو پھر اس قسم کی خواہشات انسان میں کیوں پیدا ہوتی ہیں، وجہ یہ ہے کہ انسان جب اپنے آپ کو دوسروں سے مال و دولت عیش وعشرت، حسن و جمال، علم و فضل میں کم پاتا ہے تو عادتا اس کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے، جس کا کم سے کم تقاضا یہ ہوتا ہے کہ میں بھی اس کے برابر یا زیادہ ہو جاؤں۔
اور جب دوسروں کی برابری پر قدرت اور طاقت نہیں ہوتی تو اب اس کے دل میں یہ خواہش جگہ کر جاتی ہے کہ دوسروں سے بھی یہ نعمت چھن جائے تاکہ وہ بھی اس کے برابر یا کم ہو جاۓ اسی کا نام حسد ہے۔ جو انسانی اخلاق میں انتہائی شرمناک اور مضر خصلت ہے اور دنیا کے بہت سے جھگڑوں اور فسادات قتل و غارت گری کا سبب ہے۔
کسی کی دولت و نعمت پر حسد کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے بغاوت کے مترادف ہے۔ انسان کو چاہیے کہ حسد کرنے سے پہلے یہ غور کرے کہ جسے مال و دولت یا منصب عطا ہوا ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے۔ اللہ خود اس بات پر راضی ہے کہ وہ نعمتیں اسی کے پاس رہیں، تو پھر کسی بندے کو اس پر اعتراض یا جلن کا کیا حق پہنچتا ہے؟
اس لیے اگر دل میں کبھی ایسا خیال جنم لے تو اسے شیطانی وسوسہ سمجھ کر فوراً استغفار کرنا چاہیے۔
جیسا کہ ایک عرب شاعر نے نہایت خوبصورت انداز میں فرمایا ہے
جب تم دیکھو کہ تمہارے بھائی کو نعمتیں ملی ہیں، تو ان پر حسد نہ کرو بلکہ یہ دعا کرو کہ اللہ تمہیں بھی اپنی نعمتوں سے نواز دے، کیونکہ رب کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔
آئیے قرآن سے پوچھتے ہیں کہ حسد سے کیسے بچا جاۓ
وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿﴾سورة النساء – Ayat No 32
اور اس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللہ تعالٰی نے تم میں سے بعض کو بعض پر بُزرگی دی ہے ۔ مردوں کا اس میں سے حصّہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے ان میں سے حصّہ ہے جو انہوں نے کمایا ، اور اللہ تعالٰی سے اس کا فضل مانگو ، یقیناً اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے ۔
قران کریم کی اس آیت نے اس فساد کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ اللہ تعالی نے بتقاضہ حکمت و مصلحت جو کمالات و فضائل لوگوں میں تقسیم فرمائے ہیں کسی کو کوئی وصف دے دیا اور کسی کو کوئی۔ یا کسی کو کسی سے کم یا زیادہ دے دیا تو اس میں ہر شخص کو اپنی قسمت پر راضی اور خوش رہنا چاہیے۔ دوسروں کے فضائل و کمالات کی تمنا میں نہ پڑے۔ اس کا نتیجہ اپنے لیے رنج و غم اور حسد کے گناہ عظیم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔اور ایسی تمنا کرنے سے دوسروں سے بڑھ بھی نہیں سکتا ۔
بعض قرآنی آیات اور ارشادات نبوی میں مسابقت فی الخیرات یعنی نیک کاموں میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کا حکم دیا۔ بلکہ اپنے اعمال صالحہ کی فکر میں زیادہ پڑے ۔ دوسروں کے فضائل و کمالات کو دیکھ کر ان اعمال کے جدوجہد کی ترغیب دلائی جو اعمال و افعال انسان کے اختیار میں ہیں اور جسے وہ اپنی کوشش سے حاصل بھی کر سکتا ہے۔ مثلا علمی فضائل اور عملی اخلاق کے کمالات کسی کے دیکھ کر ان کے حاصل کرنے کی جدوجہد بہترین عمل ہے۔ جس طرح وہ اچھے اخلاق کا مالک ہے اسی طرح تو بھی بن جا۔
حسد اور رشک
اکثر لوگ کم فہمی، لاعلمی یا فکری کج روی کے باعث حسد اور رشک کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کچھ لوگ اپنی غلط فہمی میں حسد کو رشک کا نام دے کر اپنے رویے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر درحقیقت حسد ایک روحانی بیماری ہے، جب کہ رشک ایک پاکیزہ اور مثبت جذبہ ہے۔
حسد وہ باطنی کمزوری ہے جو انسان کے دل میں بزدلی، کم ہمتی، پست ظرفی اور منفی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ حسد کرنے والا دوسروں کی کامیابی یا نعمت دیکھ کر جلتا ہے اور ان کے زوال کی تمنا کرتا ہے۔ یہ صفت انسان کے ایمان، سکون اور کردار کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اس کے برعکس رشک ایک صالح، پاکیزہ اور تعمیری جذبہ ہے جو بلند سوچ، مثبت تربیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے جنم لیتا ہے۔ رشک وہ روشنی ہے جو چراغ سے چراغ جلانے کے مترادف ہے، یعنی کسی دوسرے کی کامیابی کو دیکھ کر دل میں حوصلہ اور تحریک پیدا ہونا کہ میں بھی ایسی محنت اور کوشش کے ذریعے اس مقام تک پہنچوں۔
رشک انسان کو پستی کی طرف نہیں بلکہ بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کسی کے زوال کی نہیں، بلکہ اپنی ترقی اور نیکی میں سبقت کی تمنا ہے۔
اسلام نے حسد کی سخت مذمت کی ہے، لیکن رشک جیسے مثبت جذبے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ قرآنِ کریم میں اسی جذبے کو تنافس یعنی بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس آیت کے اخر میں اللہ تعالی ارشاد فرما رہے ہیں کہ جو کوئی چیز مردوں نے کسب عمل کے ذریعے حاصل کی ہے ان کو اس کا حصہ ملے گا اور جو عورتوں نے کوشش کر کے عمل کے ذریعے حاصل کی ان کو اس کا حصہ ملے گا۔ اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ فضائل و کمالات کی کوشش بیکار نہیں بلکہ ہر مرد و عورت کو اس کی کوشش کا حصہ ضرور ملے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کسی شخص کے علمی، عملی اور اخلاقی فضائل کو دیکھ کر ان کی تمنا اور پھر تمنا پوری کرنے کے لیے کوشش کرنا ایک بہترین عمل ہے۔
وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ اور جو لوگ ایک دوسرے پر سبقت کرنا چاہتے ہیں، وہ ایسی ہی نیکیوں میں سبقت کریں۔ (المطففین: 26)
اور ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ (الحدید: 21)
یہاں ایک مغالطہ بھی دور ہو گیا کہ جس میں بہت سے ناواقف مبتلا ہو جاتے ہیں بعض تو غیر اختیاری فضائل کی تمنا میں لگ کر اپنے عیش و آرام، سکون و اطمینان کو دنیا ہی میں برباد کر لیتے ہیں اور اگر نوبت حسد تک پہنچ گئی یعنی دوسرے کی نعمت کے زوال کی تمنا ہونے لگی تو آخرت بھی برباد ہوئی کیونکہ حسد کے گناہ عظیم کا ارتکاب ہوا۔
محنت اور اس کا پھل
اور بعض وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی سستی کم ہمتی سے اختیاری فضائل حاصل کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے اور اگر کوئی کہے تو اپنے کم ہمتی اور بے عملی پر پردہ ڈالنے کے لیے قسمت اور تقدیر کے حوالے دینے لگتے ہیں۔
اس آیت نے ایک حکیمانہ اور عادلانہ ضابطہ بتلا دیا کہ جو کمالات و فضائل غیر اختیاری ہیں ان میں انسان کی کوشش موثر نہیں اور جو فضائل و کمالات اختیاری ہیں جو محنت اور عمل سے حاصل ہو سکتے ہیں ان کی تمنا مفید ہے بشرطیکہ تمنا کے ساتھ کوشش بھی ہو۔ اور اس ایت میں یہ بھی وعدہ کیا کہ عمل کرنے والے کی محنت ضائع نہ کی جائے گی۔ بلکہ ہر ایک کو بقدر محنت حصہ ملے گا چاہے مرد ہو یا عورت۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک دن غریب و مفلس مہاجرین کا ایک گروہ رسولِ اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ مال دار لوگ ہم سے فضیلت لے گئے ہیں۔ وہ بھی نماز پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، مگر وہ اپنی دولت کے باعث حج، عمرہ، صدقہ و خیرات اور جہاد میں مال کے ذریعے حصہ لے کر ہم پر سبقت حاصل کرلیتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں جسے اگر تم کرو تو تم بھی ان کے برابر ہوجاؤ، اپنے پیچھے رہنے والوں سے آگے بڑھ جاؤ، اور تمہارے برابر وہی ہوسکے جو یہ عمل کرے؟
سب صحابہؓ نے خوشی سے کہا، کیوں نہیں، یارسول اللہ ﷺ
تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہر فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی)
یوں اسلام نے واضح کر دیا کہ سچی سبقت اور رشک اس بات میں ہے کہ انسان نیکی، عبادت اور محنت کے ذریعے اللہ کی رضا اور کامیابی حاصل کرے، نہ کہ دوسروں کی نعمتوں کے زوال کی آرزو رکھے۔
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ چوری ڈاکہ اور دوسرے ناجائز طریقوں سے کسی کا مال لینا یا قتل و غارت گری کرنا ان تمام جرائم کا اصل منشا یہی ہوتا ہے کہ ایک انسان جب دوسرے انسان کو مال و دولت وغیرہ میں اپنے سے فائق اور بڑھا ہوا پاتا ہے تو پہلے اس کے دل میں اس کی برابری یا اس سے برتری کی خواہش و تمنا پیدا ہوتی ہے پھر یہ تمنا ہی اس کو ان تمام جرائم تک پہنچا دیتی ہے۔ قرآن نے ان تمام جرائم کے سرچشموں کو بند کر دیا۔
اس آیت کے آخر میں اللہ تعالی فرماتے ہیں وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ یعنی اب مطلب یہ بنے گا کہ جب تم کسی کو کسی کمال میں اپنے سے زائد دیکھو تو بجائے اس کے کہ اس خاص کمال میں اس کے برابر ہونے کی تمنا کرو، تمہیں کرنا یہ چاہیے کہ اللہ تعالی سے اس کے فضل و کرم کی درخواست کرو کیونکہ فضل خداوندی ہر شخص کے لیے جدا جدا صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، کسی کے لیے مال و دولت فضل الہی ہوتا ہے، اگر وہ فقیر ہو جائے تو گناہ اور نافرمانی میں مبتلا ہو جائے، اور کسی کے لیے تنگی اور تنگدستی ہی میں فضل ہوتا ہے۔
اس تحریر سے حاصل ہونے والے اسباق
اگر وہ غنی اور مالدار ہو جائے تو ہزاروں گناہوں کا شکار ہو جائے۔ اسی طرح کسی کی عزت و جاہ کی صورت میں فضل خداوندی ہوتا ہے کسی کے لیے گمنامی اور کسم پرسی ہی اس کے فضل کا ظہور ہوتا ہے اوراگرانسان حقیقت حال پر نظر کرے تو معلوم ہو جائے ۔ کہ اس کو عزت و جاہ اگر ملتی تو بہت سے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا۔ اس لیے اس آیت نے یہ بات واضح کی کہ جب اللہ سے مانگو تو کسی خاص وصف معین کو مانگنے کے بجائے اللہ کا فضل مانگو، تاکہ وہ اپنی حکمت کے مطابق تم پر اپنے فضل کا دروازہ کھول دے۔
اب آیت کے آخر میں اللہ فرما رہے ہیں اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا
یعنی اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے اس میں اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالی کی تقسیم عین حکمت اور عین عدل و انصاف ہے جس کو جس حال میں پیدا کیا اور رکھا ہے وہی مقتضائے حکمت و عدل تھا مگر چونکہ انسان کو اپنے اعمال کے انجام کا پورا پتہ نہیں ہوتا اس کو اللہ تعالی ہی خوب جانتے ہیں کہ کس کو کس حال میں رکھنا اس کے لیے مفید ہے۔
ہر چیز انسان کے اختیار میں نہیں ہے.
غیر اختیاری چیزوں کی تمنا فضول ہے.
اللہ کی تقسیم پر راضی رہے۔
اللہ سے دعائیں کرے۔بجائے حسد کے محنت کرے۔
حسد مختلف جرائم کا سبب بنتا ہے.
اختیاری چیزوں کی تمنا کے ساتھ ساتھ ان کے لیے محنت کرے.
بغیر محنت کے کچھ نہیں ملتا.