دنیا بھر کی نظریں اس وقت ماسکو پر جمی ہوئی ہیں جہاں ایران اور روس کے درمیان ایک ایسی ملاقات جاری ہے جس نے واشنگٹن کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ ایک ہنگامی مشن پر ماسکو پہنچے ہیں، جہاں ان کی اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ بند کمرہ ملاقات جاری ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مغربی طاقتیں ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایران اور روس کے درمیان پس پردہ ملاقات سے کیا توقع کی جائے؟
ایران اور روس کے مابین ماسکو میں ہونے والے حالیہ مذاکرات محض روایتی سفارتی میل جول تک محدود نہیں ہیں، بلکہ باوثوق ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے پیچھے ایسے تزویراتی (Strategic) فیصلے چھپے ہیں جو عالمی سیاست کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان مذاکرات کے بنیادی اور حساس پہلو درج ذیل ہیں:
واشنگٹن کے لیے مشترکہ چیلنج: تہران اور ماسکو ایک ایسی ہمہ گیر حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد ڈالر کے تسلط کو کم کرنا اور امریکی پابندیوں کے اثرات کو باہمی تعاون کے ذریعے مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا ہے۔
ناقابلِ تسخیر دفاعی اتحاد: ایران اور روس کے درمیان عسکری تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس دفاعی شراکت داری کا مقصد خطے میں ایک ایسا ‘حصار’ قائم کرنا ہے جس کے بعد مغربی طاقتوں کی فوجی مداخلت یا دباؤ کی گنجائش ختم ہو کر رہ جائے۔
تزویراتی توازن کی تبدیلی: سفارتی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ تہران سے ایک انتہائی اہم اور خفیہ پیغام لے کر ماسکو پہنچے ہیں۔ اس پیغام کا محور مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مغرب کے خلاف اور اپنے حق میں تبدیل کرنا ہے۔
ٹرمپ کی دعوت اور ایران کی چال
ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں، تو دوسری طرف ایران نے ماسکو کا رخ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کی شرائط پر جھکنے کے بجائے نئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔ ماہرین اس ملاقات کو “سفارتی شطرنج” کی سب سے بڑی چال قرار دے رہے ہیں، جس میں ایران نے روس کو اپنا مہرہ بنا کر مغرب کو مات دینے کی کوشش کی ہے۔
عالمی برادری میں بے چینی
اس ملاقات کی تصاویر اور خبریں سامنے آتے ہی یورپی اور امریکی حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ماسکو اور تہران کے درمیان کوئی باقاعدہ دفاعی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔
اردو جہاں نیوز کا تجزیہ
یہ دورہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ ایران یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ عالمی تنہائی سے نکلنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ماسکو تہران کا کتنا ساتھ دیتا ہے اور واشنگٹن اس کا جواب کس انداز میں دیتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون صرف دوطرفہ تجارت تک محدود نہیں رہا۔ ماہرین کے مطابق، ایران کا روس کی طرف جھکاؤ دراصل صدر ٹرمپ کی “میکسی مم پریشر” پالیسی کا توڑ ہے۔ برسلز اور واشنگٹن کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماسکو تہران کو جدید ترین دفاعی نظام یا فضائی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر الٹ دے گا۔




