ڈیجیٹل دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، مگر اسی کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے: ذاتی تصاویر یا ویڈیوز لیک ہونا۔
پاکستان میں آئے دن ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن میں کسی فرد کی نجی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی جاتی ہیں، جس سے نہ صرف اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ، معاشرتی مسائل اور بعض اوقات جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کی ذاتی تصویر یا ویڈیو لیک ہوتی ہے تو متاثرہ شخص گھبرا جاتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ متعلقہ اداروں میں شکایت درج کرواتا ہے، تب تک وہ مواد واٹس ایپ، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہزاروں افراد تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ یہ تاخیر نقصان کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
ذاتی تصاویر یا ویڈیوز لیک ہو جائیں تو کیا کریں؟
اگر خدا نخواستہ آپ کی یا کسی جاننے والے کی ذاتی تصویر یا ویڈیو کہیں اپلوڈ ہو جائے تو سب سے پہلا اور فوری قدم یہ ہونا چاہیے کہ آپ اسے مزید وائرل ہونے سے روکیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان میں ایک نہایت اہم اور مؤثر ویب سائٹ موجود ہے۔
یہ ویب سائٹ خاص طور پر غیر اخلاقی، نجی یا حساس ڈیجیٹل مواد کی فوری ریمووَل کے لیے بنائی گئی ہے۔
شکایت درج کرنے کا طریقہ
سب سے پہلے اوپر دیے گۓ ویب سائٹ StopNCII.org پر جائیں۔ وہاں موجود “Create Your Case” کے آپشن پر کلک کریں۔ آپ کے سامنے اس طرح کا صفحہ کھلے گا ایگری پر کلک کریں۔ اگر آپ ہماری اسی ویب سائٹ پر کرییٹ یور کیس پر کلک کریں گے تو بھی آپ اپنا کیس بآسانی درج کر سکتے ہیں۔
آپ کے سامنے کچھ سوالات ظاہر ہوں گی وہاں اپنی مطلوبہ بنیادی معلومات پر کلک کرتے جائیں غالباً 10 سوالات ہوں گے احتیاط کے ساتھ پڑھ کر درست جواب پر کلک کرتے جائیں۔ پھر جو تصویر یا ویڈیو لیک ہوئی ہو وہ ، یا اس کا اسکرین شاٹ اپلوڈ کر کے کیس سبمٹ کر دیں۔
فائل سبمٹ ہوتے ہی وہ تصویر یا ویڈیو، چاہے وہ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم پر موجود ہو، فوری طور پر ہر جگہ سے ریموو کر دی جائے گی۔ یہ عمل اس لیے نہایت اہم ہے کیونکہ جتنا جلد مواد ہٹے گا، اتنا ہی کم نقصان ہوگا۔
جب آپ کا ذاتی مواد آن لائن پلیٹ فارمز سے ہٹ جائے، تب اگلا قدم قانونی کارروائی ہونا چاہیے تاکہ مجرم کو سزا مل سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس کے لیے پاکستان میں درج ذیل ادارے موجود ہیں۔
1. NCCIA نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)
یہ ادارہ سائبر کرائم کے معاملات میں جدید، مؤثر اور خصوصی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔
2. FIA سائبر کرائم ونگ
اگر آپ کے علاقے میں NCCIA کا دفتر موجود نہ ہو تو آپ قریبی FIA سائبر کرائم ونگ میں بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
قانون پاکستان کے مطابق:کسی کی ذاتی تصاویر یا ویڈیوز بغیر اجازت شیئر کرنا جرم ہے۔ بلیک میلنگ، ہراسانی اور کردار کشی قابلِ سزا جرائم ہیں۔
قانونی شکایت درج کروانا بے حد ضروری ہے، لیکن اس سے پہلے StopNCII.org کے ذریعے مواد کی فوری ریمووَل لازمی کروائیں۔ کیونکہ قانونی کارروائی میں وقت لگ سکتا ہے۔لیکن آن لائن مواد ہر سیکنڈ میں پھیلتا ہے۔
دوستو! اگر کبھی آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس مشکل صورتحال کا شکار ہو جائے تو گھبرائیں نہیں، خاموش نہ رہیں اور تاخیر بالکل نہ کریں۔ صحیح وقت پر اٹھایا گیا ایک قدم نہ صرف آپ کی عزت، ذہنی سکون اور مستقبل کو بچا سکتا ہے بلکہ مجرم کو قانون کے کٹہرے میں بھی لا سکتا ہے۔
اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی بروقت آگاہی حاصل کر سکیں اور ڈیجیٹل جرائم کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔