نمک کا استعمال اگر حد سے زیادہ ہو تو صحت کے لیے خطرناک بن جاتا ہے۔ دل، بلڈ پریشر اور گردوں پر نمک کے اثرات تفصیل سے پڑھیں۔
نمک (Salt) انسانی غذا کا ایک بنیادی جز ہے اور صدیوں سے کھانوں کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ آج کے جدید دور میں فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ، پراسیسڈ اشیاء اور ریڈی میڈ کھانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے نمک کے زیادہ استعمال کو ایک سنگین صحتِ عامہ کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ اکثر لوگ اس حقیقت سے لاعلم ہوتے ہیں کہ وہ روزانہ کتنی زیادہ مقدار میں نمک استعمال کر رہے ہیں، اور یہی لاعلمی کئی خطرناک بیماریوں کی بنیاد بنتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ایک تندرست بالغ انسان کو روزانہ صرف 5 گرام نمک جو تقریباً ایک چائے کے چمچ کے برابر ہے کافی ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اس تجویز کردہ مقدار سے کہیں زیادہ، یعنی روزانہ 10 سے 15 گرام نمک استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔
انسانی جسم میں نمک کا کردار
نمک بنیادی طور پر سوڈیم کلورائیڈ (Sodium Chloride) پر مشتمل ہوتا ہے، جس کا اہم جزو سوڈیم انسانی جسم کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سوڈیم جسم میں پانی کے توازن کو برقرار رکھنے، اعصابی پیغامات کی درست ترسیل، پٹھوں کے سکڑاؤ اور پھیلاؤ کے عمل، اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بشرطیکہ اس کا استعمال مناسب مقدار میں کیا جائے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نمک جسم کے لیے ضروری ہے تو اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ کیوں ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جب جسم میں نمک (سوڈیم) کی مقدار حد سے بڑھ جاتی ہے تو خون میں پانی کی مقدار بھی بڑھنے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس اضافی دباؤ کی وجہ سے دل کو خون پمپ کرنے کے لیے معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
دوسری طرف گردے اضافی سوڈیم کو جسم سے خارج کرنے میں رفتہ رفتہ کمزور ہونے لگتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر بلڈ پریشر میں اضافہ، دل اور گردوں کی کارکردگی میں خرابی اور دیگر دائمی بیماریوں کے خطرات کو جنم دیتے ہیں۔ یوں سوڈیم کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو یہی مفید عنصر جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے لگتا ہے اور مختلف طبی مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔
نمک کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریاں
1. ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) نمک کا سب سے عام اور خطرناک اثر بلند فشارِ خون ہے۔ زیادہ سوڈیم خون کی نالیوں میں دباؤ بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں مستقل ہائی بلڈ پریشر، سر درد، چکر آنا اور دل پر دباؤ۔ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر علامات کے ہوتا ہے، اسی لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
2. دل کی بیماریاں نمک کی زیادتی دل کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے دل کی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، دل کو خون پمپ کرنے میں دشواری ہوتی ہے، دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور نمک اس کا بنیادی محرک ہے۔
3. فالج (Stroke) زیادہ نمک کے استعمال سے دماغ کی شریانیں کمزور ہو جاتی ہیں، شریان پھٹنے یا بند ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے، اس کے نتیجے میں فالج ہو سکتا ہے، جو اچانک موت، مستقل معذوری، بولنے یا چلنے میں مشکل کا سبب بن سکتا ہے۔
4. گردوں کے امراض گردے جسم سے فاضل نمک اور پانی خارج کرتے ہیں۔ نمک کی زیادتی سے گردوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، گردے آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتے ہیں، گردوں کی پتھری بننے لگتی ہے، گردے فیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر خود بھی گردوں کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔
5. معدے کے مسائل اور معدے کا کینسرتحقیقات کے مطابق نمک کا زیادہ استعمال معدے کی اندرونی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ معدے میں جلن اور السر پیدا کرتا ہے، معدے کے کینسر کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر اچار، نمکین مچھلی اور زیادہ نمک والی اشیاء اس خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔
6. جسم میں سوجن اور پانی کا جمع ہونا زیادہ نمک جسم میں پانی روک لیتا ہے، جس کے باعث چہرہ سوجا ہوا لگتا ہے، آنکھوں کے نیچے ورم، پاؤں اور ٹخنوں میں سوجن، جسم میں بھاری پن۔ یہ مسئلہ خاص طور پر دل اور گردوں کے مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے۔
7. ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis) نمک کی زیادتی پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج کو بڑھا دیتی ہے، جس سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خواتین میں آسٹیوپوروسس کا خدشہ بڑھتا ہے۔
نمک کے زیادہ استعمال کی عام علامات
بار بار پیاس لگنا، منہ کا خشک رہنا، سر درد، تھکن اور کمزوری، بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، پیشاب میں کمی اور جسم میں سوجن۔
نمک کم کرنے کے مؤثر طریقے
کھانے میں اوپر سے نمک ڈالنے کی عادت چھوڑیں، فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ محدود کریں، بازار سے کوئی بھی چیز خریدتے وقت اس کے پیکٹ پر سوڈیم (Sodium) کی مقدار ضرور دیکھیں۔ یعنی اس کے لیبل کو ضرور پڑھیں، کم سوڈیم نمک استعمال کریں، تازہ سبزیاں اور پھل زیادہ کھائیں، روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔ نمک کی جگہ لیموں، کالی مرچ، ادرک، لہسن اور دیگر قدرتی مصالحوں سے کھانے کو ذائقہ دار بنائیں۔
خلاصہِ کلام یہ ہےکہ نمک زندگی کے لیے ضروری ضرور ہے، لیکن صرف محدود مقدار میں۔ اس کا زیادہ استعمال دل، دماغ، گردوں اور معدے سمیت پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔ چونکہ نمک کے نقصانات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں، اس لیے بروقت احتیاط بے حد ضروری ہے۔
اگر ہم آج اپنی خوراک میں نمک کو قابو میں کر لیں تو کل ہائی بلڈ پریشر، دل کے دورے اور فالج جیسی مہلک بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
یاد رکھیں کم نمک، زیادہ صحت۔
انتباہ ! مزید معلومات کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔