امریکہ نے وینزویلا کا صدر اغوا کر لیا، وینزویلا میں امریکی مداخلت: اور تاریخ میں اس کے علاوہ امریکا ماضی میں کن عالمی رہنماؤں کو اغوا کر چکا ہے؟
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی خبر نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ یہ واقعہ نہ صرف لاطینی امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال بن کر سامنے آیا، جہاں طاقتور ریاستیں اپنی سیاسی اور معاشی ترجیحات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں طاقت، سیاست اور مداخلت ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑی رہی ہیں، مگر جب کسی خودمختار ریاست کے سربراہ کو براہِ راست اغوا کیا جائے تو یہ عمل محض ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ عالمی نظام، بین الاقوامی قوانین اور طاقت کے توازن پر ایک گہرا سوال بن جاتا ہے۔
وینزویلا کا صدر اغوا
حالیہ واقعے میں امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا پر حملہ کیا گیا اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے اس اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
وینزویلا کی سپریم کورٹ نے فوری طور پر انتظامی خلا کو پُر کرنے کے لیے نائب صدر کو قائم مقام صدر مقرر کر دیا، تاکہ ریاستی امور میں تسلسل برقرار رہے۔ عدالت نے مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے ہٹانے سے گریز کیا، کیونکہ آئینی طور پر اس صورت میں نئے انتخابات کا اعلان لازم ہو جاتا، جو اس غیر یقینی صورتحال میں مزید انتشار پیدا کر سکتا تھا۔
اس اغوا کے فوری اثرات نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔ لاطینی امریکا کے کئی ممالک نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا۔ عالمی میڈیا میں یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ اگر ایک طاقتور ملک کسی صدر کو اس طرح اٹھا سکتا ہے تو عالمی خودمختاری کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے۔
امریکی قیادت نے اس کارروائی کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات میں بار بار منشیات، دہشت گردی اور بدعنوانی کے الزامات دہرائے گئے۔ امریکا کا کہنا تھا کہ مادورو نے وینزویلا کو جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا تھا اور اس کارروائی کا مقصد عالمی سلامتی کا تحفظ ہے۔
دوسری جانب وینزویلا اور اس کے حامی ممالک نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی، ان خدشات کو مزید تقویت دی۔ اس طرح یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات سے زیادہ مفادات فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
امریکا ماضی میں کن عالمی رہنماؤں کو اغوا کر چکا ہے؟
وینزویلا کے صدر کا اغوا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ تاریخ میں اس سے قبل بھی کئی عالمی رہنما طاقتور ممالک کی مداخلت کا نشانہ بن چکے ہیں۔
مینول نوریگا
1989 میں امریکا نے پاناما پر حملہ کر کے سابق فوجی حکمران مینول نوریگا کو گرفتار کیا۔ نوریگا ایک وقت میں امریکا کے اتحادی تھے، مگر بعد ازاں انہیں منشیات کے کاروبار میں ملوث قرار دے کر میامی منتقل کیا گیا، جہاں ان پر مقدمہ چلا اور قید کی سزا سنائی گئی۔
صدام حسین
دسمبر 2003 میں امریکی افواج نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کو گرفتار کیا۔ یہ واقعہ عراق پر حملے کے کئی ماہ بعد پیش آیا۔ امریکا نے صدام پر کیمیائی ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا، جو بعد میں ثابت نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود صدام کو عراقی عدالت کے ذریعے پھانسی دے دی گئی، جس نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل دیا۔
جووان اورلینڈو ہرنانڈیز
ہونڈوراس کے سابق صدر جووان اورلینڈو ہرنانڈیز کو 2022 میں امریکا منتقل کیا گیا، جہاں ان پر منشیات اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ امریکا لاطینی امریکا میں اپنی مرضی کے مطابق سیاسی نقشہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان تمام واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو ایک مشترکہ نکتہ سامنے آتا ہے: اغوا اور جبری گرفتاری کو خارجہ پالیسی کے ایک غیر اعلانیہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف کسی رہنما کو ہٹانا نہیں بلکہ پوری ریاست کو پیغام دینا ہوتا ہے کہ مزاحمت کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر کامیاب نظر آ سکتی ہے، مگر طویل مدت میں اس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ عوام میں نفرت، عدم اعتماد اور مزاحمت جنم لیتی ہے، جو بالآخر خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔
جب کسی ملک کے صدر کو اغوا کیا جاتا ہے تو سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوتا ہے۔ وینزویلا میں پہلے ہی معاشی بحران موجود تھا، اس واقعے کے بعد خوف اور بے یقینی میں مزید اضافہ ہوا۔ کاروبار ٹھپ ہو گئے، کرنسی مزید کمزور ہوئی اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
عالمی سطح پر بھی اس طرح کے واقعات مہاجرین کے بحران، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سیاسی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں، جس کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔
وینزویلا کے صدر کا اغوا ایک خطرناک مثال ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس پر واضح اور مضبوط مؤقف اختیار نہ کیا تو مستقبل میں ایسے واقعات معمول بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی قوانین کو محض کتابی اصول نہ سمجھا جائے بلکہ ان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہو۔
طاقتور ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال سے وقتی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر پائیدار امن صرف مکالمے، احترامِ خودمختاری اور انصاف سے ہی ممکن ہے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا اغوا عالمی سیاست میں ایک نیا اور خطرناک باب ہے۔ طاقت کا بے لگام استعمال عالمی نظام کو کس قدر غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اغوا، مداخلت اور جبر نے کبھی دیرپا استحکام نہیں دیا۔ اگر دنیا نے اس سبق کو نظرانداز کیا تو آنے والا وقت مزید انتشار اور تنازعات لے کر آ سکتا ہے۔