بلی کی خوراک بھینس اور چوہوں کا راج

بلی اور موٹی بھینس 0

پرانے زمانے کی بات ہے کہ کسی ملک میں بے وقوفوں کی ایک بستی آباد تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہاں کے لوگوں نے نہ کبھی بلی دیکھی تھی اور نہ ہی اپنی زندگی میں کبھی بلی کا نام سنا تھا۔

اسی وجہ سے بستی چوہوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ جدھر نظر ڈالو، ہر طرف چوہے ہی چوہے تھے۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جو ان کے شر سے محفوظ رہ سکا ہو۔ لوگ اس قدر پریشان ہو چکے تھے کہ وہ ہر حال میں ان سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی بار مل بیٹھ کر مشورے بھی کیے، مگر نتیجہ صفر  رہا، کوئی مؤثر تدبیر سمجھ میں نہ آ سکی۔

انتباہ! یہ کہانی بچوں کے ایک لٹریچر سے لی گئی۔

بلی اور چوہے

ایک دن شام کے وقت ایک مسافر اس بستی میں داخل ہوا اور رات گزارنے کے لیے سرائے کا رخ کیا۔ مسافر اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ ایک خوبصورت، موٹی پلی ہوئی بلی بھی تھی، جو چوہوں کے شکار میں نہایت ماہر تھی۔ سرائے کے اندر چوہے ہر طرف چھلانگیں لگاتے پھر رہے تھے۔

خوشی سے بلی کی باچھیں کھل گئیں، وہ پہلے تو ایک لمحے کے لیے ان موٹے تازے چوہوں کو ادھر ادھر گھومتے پھرتے دیکھتی رہی، آخر اس سے رہا نہ گیا۔ وہ ایک دم شست باندھ کر فوراً کود پڑی اور چوہوں پر حملہ کر دیا۔ کچھ مارے گئے، کچھ زخمی ہوئے، کچھ بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

موٹی پلی ہوئی بلی

سرائے میں جتنے لوگ موجود تھے وہ یہ بھگدڑ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور باہر سے لوگوں کو بلا بلا کر بلی دکھانے لگے، جو چوہے کھانے میں مصروف تھی۔ وہ سب اس عجیب و غریب جانور کو بڑے غور اور تعجب سے دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا اگر یہ کارآمد جانور ہمیں مل جائے تو چند ہی دنوں میں چوہوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد بلی کے مالک کو ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی پیش کی اور بلی خرید لی۔ مالک کو اور کیا چاہیے تھا، ٹکے کی بلی ایک ہزار اشرفیوں میں بیچ کر وہ پھولا نہ سماتا تھا، لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں یہ بات بھی بیٹھ گئی کہ بستی کے سارے لوگ بے وقوف ہیں، لہٰذا یہاں سے فوراً بھاگ جانا چاہیے۔

چنانچہ اگلے ہی روز وہ صبح سویرے وہاں سے چل پڑا، اسے خوف تھا کہ کہیں انہیں بلی کی اصل حقیقت کا پتہ نہ چل جائے اور وہ اس سے اپنی اشرفیاں واپس نہ لے لیں۔

اس کے جانے کے بعد بستی والوں کو خیال آیا کہ ہم نے مسافر سے یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ اس جانور کی خوراک کیا ہے۔ انہوں نے ایک آدمی اس کے پیچھے دوڑایا۔ جب مسافر نے دیکھا کہ کوئی شخص اس کا پیچھا کر رہا ہے تو اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، اس نے اپنی رفتار اور بھی تیز کر دی۔ اس آدمی نے چلا کر کہا او میاں  او بھائی  ہمیں اس جانور کی خوراک تو بتاتے جاؤ، وہ کھاتا کیا ہے؟ بلی کی صحت کے مطابق درست خوراک کیا ہونی چاہیے؟ یہ تو بتاتے جائیں بھائی۔

بھینس موٹی

مسافر نے جب سنا کہ وہ خوراک کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو اس کی جان میں جان آئی، وہ مڑا اور وہیں سے گلا پھاڑ کر اس نے کہا دودھ اور روٹی ۔ پیچھا کرنے والا چونکہ بستی کے تمام بے وقوفوں کا سردار تھا، لہٰذا وہ دودھ اور روٹی کو بھینس موٹی سمجھا، اس نے دل ہی دل میں کہااُف یہ جانور موٹی بھینس کھاتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟ اگر یہ جانور ہماری سب بھینسیں کھا گیا تو پھر ہم گھی اور دودھ کہاں سے کھائیں گے؟ ہمارے بچے دودھ کے بغیر کیسے جئیں گے؟

اسی پریشانی میں وہ بستی پہنچ گیا۔ جب بستی والوں نے یہ ماجرا سنا تو وہ بھی بہت پریشان ہوئے۔ سارے مل کر مشورہ کرنے لگے کہ موٹی بھینسیں تو چند ہی دنوں میں ختم ہو جائیں گی اور پھر وہ پتلی بھینسیں کھانا شروع کر دے گی اور جب وہ بھی ختم ہو جائیں گی تو بکرے بکریوں کی باری آ جائے گی، ان کے بعد مرغیاں اس کا لقمہ بنیں گی۔

 جب یہ بھی ختم ہو جائیں گی تو کیا عجب یہ ہمیں ہی کھانا شروع کر دے۔ یہ سن کر عورتوں نے بے تحاشہ رونا شروع کر دیا، ان کی دیکھا دیکھی بچے بھی رونے لگے۔ بچوں کو روتا دیکھ کر مردوں نے بھی دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ اس زور کا کہرام پڑا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔

جب وہ رو رو کر تھک گئے تو ایک بڑے بوڑھے نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا اب رونے دھونے سے کیا فائدہ، ہم سمجھدار ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی حل تلاش کریں۔ بستی کے تمام لوگ سر جوڑ کر بیٹھے، جتنے منہ اتنی باتیں، کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ، آخر ایک بہت بڑے عقل مند نے کہا سنو ۔ چاروں طرف خاموشی چھا گئی، سب اس کی بات سننے کے لیے بے چین نظر آنے لگے۔

عقل مند نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا اسے زہر دے دیا جائے۔ نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری۔ چاروں طرف سے واہ واہ کے نعرے بلند ہونے لگے، اتنے میں مجمع میں سے ایک آدمی اٹھا، اس کے چہرے پر ابھی تک خوف اور پریشانی کے آثار نظر آ رہے تھے، اس نے ایک لمبی اور ٹھنڈی سانس لینے کے بعد کہا

تم سب لوگ واقعی بے وقوف ہو، شاید تم یہ بھول گئے ہو کہ یہ جانور موٹی بھینس کھاتا ہے، زہر نہیں کھاتا۔ جس کے منہ کو خون لگا ہو وہ زہر کیسے کھا سکتا ہے؟

دوسرے ہی لمحے سارے مجمع پر موت کی سی خاموشی چھا گئی اور لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں، عورتوں نے رونا شروع کر دیا پھر بچے رونے لگے۔ غرض ساری کی ساری بستی پھر پہلے کی طرح رونے دھونے میں مصروف ہو گئی۔ 

آخر ایک اور عقل مند اٹھا اور اس نے کہا عورتیں روتی ہیں تو بچے بھی رونا شروع کر دیتے ہیں، بچوں کا رونا ہم سے دیکھا نہیں جاتا اور ہمیں بھی مجبوراً رونا پڑتا ہے، اس لیے عورتوں کو گھروں میں بھیج دیا جائے تاکہ ہم لوگ خاموشی سے کوئی ترکیب سوچ سکیں۔

یہ لوگ بلی سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ ان میں سے ایک نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم بچوں اور عورتوں کو اکیلے گھروں میں بھیج دیں، اس خوفناک جانور نے موٹی بھینس کھانے کے بجائے اگر انہیں کھانا شروع کر دیا تو ہم اس کا کیا بگاڑ لیں گے، اس کم بخت سے تو چوہے ہی ہزار درجے بہتر تھے۔

بے وقوفی کا انجام

آخر فیصلہ یہ ہوا کہ جب تک بلی کو مارنے کی کوئی معقول تجویز سمجھ میں نہ آ جائے، بچوں اور عورتوں کو کہیں نہ جانے دیا جائے۔ سب نے اس رائے کو پسند کیا اور سوچ بچار کرنے لگے، آخر ایک ترکیب ان کی سمجھ میں آ ہی گئی جس پر سب نے اتفاق کیا اور خوشی سے سب کے چہرے کھل اٹھے۔ ترکیب یہ تھی کہ بلی اس وقت جس گھر میں ہے اسے فوراً آگ لگا دی جائے۔

بلی نے خطرہ محسوس کیا

لہٰذا انہوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس گھر کو آگ لگا دی۔ جب شعلے پھیلنے لگے اور بلی نے خطرہ محسوس کیا تو اس نے بڑے اطمینان سے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی اور دوسرے مکان میں چلی گئی۔

جب انہوں نے بلی کو شعلوں میں سے صحیح سلامت نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپنے لگے اور انہوں نے فوراً ہی دوسرے گھر کو بھی آگ لگا دی۔ جب بلی وہاں سے تیسرے گھر میں کود گئی تو ان کی پریشانی اور غصے میں اور بھی اضافہ ہو گیا اور انہوں نے تیسرے گھر کو بھی جلا کر راکھ کر دیا۔

بلی کو شعلوں میں سے صحیح سلامت نکلتے ہوئے دیکھا

غرض مکانوں کو آگ لگانے کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ ساری بستی جل کر راکھ کا ڈھیر نہ بن گئی۔ آخر میں لوگوں نے دیکھا کہ بلی اس راستے پر بھاگی جا رہی ہے جس راستے سے صبح اس کا مالک گیا تھا، وہ لوگ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اس خوشی میں انہوں نے ایک جشن منایا اور دیر تک ایک دوسرے پر جلے ہوئے مکانوں کی راکھ ڈالتے رہے۔

کہانی سے ملنے والے اسباق

کہانی کا سب سے بڑا سبق تو یہ ہے کہ جہالت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے. بستی والوں نے اپنی نادانی کی وجہ سے ایک مددگار جانور (بلی) کو ایک فرضی درندہ سمجھ لیا. اگر وہ تھوڑی سی عقل استعمال کرتے اور بلی کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے تو اپنا اتنا بڑا نقصان نہ کرتے.

بستی کے سردار نے مسافر کی بات کو غلط سمجھا اور بغیر تصدیق کیے اسے پوری بستی میں پھیلا دیا. یہ سبق ملتا ہے کہ جب تک کسی بات کی مکمل تحقیق اور تصدیق نہ ہو جائے، اس پر یقین نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے. افواہیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں.
اس لیۓ قرآن بھی فرماتا ہے ، جب کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لاۓ تو پہلے اس کی تصدیق کرلیا کرو۔ الحجرات

بستی کے عقل مندوں نے بلی کو مارنے کے لیے گھر جلانے کا مشورہ دیا، جو کہ سراسر حماقت تھی. اس سے یہ  بھی سبق ملتا ہے کہ ہر وہ شخص جو خود کو عقل مند ظاہر کرے، ضروری نہیں کہ اس کا مشورہ درست ہو. اندھی تقلید ہمیشہ انسان کو لے ڈوبتی ہے.

یہ کہانی محض ایک اخلاقی قصہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی اور سیاسی تمثیل ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ طاقت کو پہچاننا، اس کے ارادوں کو سمجھنا اور اجتماعی شعور کے ساتھ فیصلے کرنا ناگزیر ہے۔ اگر عوام، بستی کے لوگوں کی طرح، صرف ظاہری سکون اور وقتی فائدے پر اکتفا کریں گے تو انجام کار انہیں اسی قیمت کی ادائیگی کرنا پڑے گی جو چوہوں نے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے ”بلی کی خوراک بھینس اور چوہوں کا راج

اپنا تبصرہ بھیجیں