نکاح اور زنا میں فرق، اسلام اور سائنس کا نظریہ

نکاح اور زنا میں فرق 0

نکاح اور زنا میں فرق یہ ہے کہ نکاح ایک باقاعدہ شرعی اور قانونی بندھن ہے جو مرد و عورت کے تعلق کو حلال، جائز اور معاشرتی طور پر معتبر حیثیت دیتا ہے۔ اس کے برعکس زنا مرد و عورت کا ایسا ناجائز اور غیر شرعی تعلق ہے جو نکاح کے بغیر قائم کیا جائے۔

نکاح اور زنا میں فرق

نکاح جیسے مقدس رشتے کے ذریعے خاندان کی تشکیل ہوتی ہے، نسل کی حفاظت ہوتی ہے اور عفت و پاکدامنی کو مضبوط بنیاد ملتی ہے۔ نکاح محبت، ذمہ داری اور باہمی حقوق و فرائض کا نام ہے جو معاشرے میں استحکام اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔

زنا ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی اقدار، خاندانی نظام اور اخلاقی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ زنا رسوائی، بے سکونی اور سخت دینی و معاشرتی نتائج کا باعث بنتا ہے، اسی لیے اسلام اور معاشرہ دونوں اسے ناپسند اور قابلِ سزا قرار دیتے ہیں۔

ہم اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اسے دو واضح حصوں میں تقسیم کریں گے۔ سب سے پہلے ہم اسلام کے نقطۂ نظر کا جائزہ لیں گے کہ اس معاملے میں دینِ اسلام کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اس کے احکامات و تعلیمات کیا ہیں۔ اس کے بعد ہم جدید دور کی سائنس کے نظریے پر نظر ڈالیں گے، جو غیر معمولی ترقی کے مراحل طے کر چکی ہے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ سائنسی تحقیق اور جدید علم اس بارے میں کیا کہتا ہے اور اس کے نتائج کس حد تک ہماری سمجھ میں اضافہ کرتے ہیں۔

اسلام کا نقطہ نظر

انسانی تاریخ کے ہر دور میں کچھ سوالات ایسے رہے ہیں جو محض ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے نازک اور حساس سوال انسانی تعلقات، خصوصاً مرد و عورت کے باہمی رشتے کا ہے۔ جدید دور میں یہ سوال مزید پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ ایک طرف مذہبی اقدار اور روایات ہیں اور دوسری طرف جدید فکر، شخصی آزادی اور لبرل نظریات کا دباؤ ہے۔ انہی دو انتہاؤں کے درمیان زنا، نکاح اور انسانی قربت کا موضوع کھڑا ہے، جسے اکثر یا تو جذباتیت سے دیکھا جاتا ہے یا محض جسمانی ضرورت کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

بظاہر ایک ہی جیسے جسمانی افعال کو اسلام نے دو بالکل مختلف خانوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک کو زنا کہا گیا، جسے سختی سے ممنوع قرار دیا گیا، اور دوسرے کو نکاح کے دائرے میں لا کر عبادت، سکون اور اجر کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ یہ تقسیم محض مذہبی حکم تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی حکمتیں کارفرما ہیں۔

جدید معاشرے میں عام طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر دو بالغ افراد باہمی رضامندی سے تعلق قائم کریں تو اس میں برائی کیا ہے۔ اس سوچ کی بنیاد یہ ہے کہ انسان کو محض ایک جسم سمجھا جائے، جس کی ضروریات بھی دوسری حیاتیاتی مخلوقات جیسی ہوں۔ مگر یہ نقطۂ نظر انسان کے اس پہلو کو نظرانداز کر دیتا ہے جو اسے جانور سے ممتاز کرتا ہے، یعنی شعور، ذمہ داری، اخلاق اور مستقبل کی فکر۔

اسلام انسان کو محض جسم نہیں بلکہ روح، عقل اور سماجی رشتوں کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے وہ انسانی خواہشات کو دبانے کے بجائے انہیں ایک باقاعدہ نظام کے تحت ڈھالتا ہے۔ نکاح اسی نظام کا مرکزی ستون ہے۔ نکاح صرف دو افراد کے درمیان ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سماجی اعلان، اخلاقی ذمہ داری اور نفسیاتی تحفظ کا ذریعہ ہے۔

جب کوئی تعلق خفیہ، غیر یقینی اور عارضی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے تو اس میں بے اعتمادی، خوف اور عدم استحکام لازمی طور پر شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے دینی زبان میں زنا کہا گیا ہے۔ ایسے تعلق میں وقتی کشش تو ہو سکتی ہے، مگر دیرپا سکون، اعتماد اور قلبی اطمینان پیدا نہیں ہو پاتا۔ اسی لیے ایسے رشتے اکثر جلد ختم ہو جاتے ہیں اور ان کے بعد احساسِ خلا، پچھتاوا اور ذہنی انتشار جنم لیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ نکاح کا مقصد محض خواہش کی تکمیل نہیں بلکہ سکونِ قلب ہے۔ قرآن میں میاں بیوی کے رشتے کو سکون، رحمت اور مودّت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ الفاظ محض شاعرانہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب انسان ایک ذمہ دار رشتے میں بندھتا ہے تو اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ آتا ہے، وہ خود غرضی سے نکل کر ایثار کی طرف بڑھتا ہے۔

جبکہ زنا کے بارے میں قرآن واضح کہتا ہے کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بری راہ ہے۔

سائنس کا نقطہ نظر

نکاح کے دائرے میں قائم مضبوط اور مستقل تعلق اور زنا جیسے غیر مستحکم اور عارضی تعلق انسانی جسم، دماغ اور نفسیات پر بالکل مختلف حیاتیاتی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جدید سائنس نے اس موضوع پر تفصیلی تحقیق کی ہے اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ محفوظ، بااعتماد اور طویل المدت رشتے انسانی ذہنی سکون، ہارمونل توازن اور نفسیاتی استحکام کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ غیر محفوظ اور غیر مستقل تعلقات ذہنی دباؤ، بے چینی اور جذباتی عدم توازن کا سبب بنتے ہیں۔

انسانی جسم محض گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نہایت پیچیدہ نیورو کیمیکل سسٹم ہے۔ انسان کے جذبات، وابستگی، اعتماد، خوف اور سکون   سب ہارمونز اور اعصابی نظام کے ذریعے منظم ہوتے ہیں۔ جب بھی مرد و عورت کے درمیان قربت پیدا ہوتی ہے تو جسم میں متعدد Neurochemicals خارج ہوتے ہیں، جو اس تعلق کے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں۔

اہم سوال یہ نہیں کہ قربت ہوئی یا نہیں، یا کیوں ہوئی؟  بلکہ  سائنس میں اصل سوال یہ ہے کہ یہ قربت کس ذہنی، سماجی اور اخلاقی ماحول میں ہوئی؟  یوں سائنسی مطالعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ تعلق کی نوعیت انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔ آئیے ذرا سائنس کو دیکھتے ہیں

انسانی جسم میں موجود Dopamine کو عام طور پر Pleasure Hormone کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ Reward-Seeking Chemical ہے۔ یہ انسان کو کسی عمل کی طرف کھینچتا ہے، وقتی خوشی اور Excitement پیدا کرتا ہے۔ مگر اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جب اس کا اخراج  زیادہ مقدار میں ہو تو  خارج ہونے کے بعد  اس میں شدید کمی (Crash) آ جاتی ہے

ایک غیر مستحکم تعلق  یعنی زنا میں،  Dopamine  تیزی سے خارج ہوتا ہے۔  دماغ اسے ایک  پُرلطف  مگر خطرناک تجربہ سمجھتا ہے۔عمل کے فوراً بعد Dopamine Crash ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اداسی، خالی پن، بے چینی اور دوبارہ اسی لذت کی طلب (Addictive Loop) ہوتی ہے۔ اسی لیے ایسے تعلقات میں انسان ایک پارٹنر سے دوسرے پارٹنر کی طرف جاتا رہتا ہے، مگر اندرونی سکون حاصل نہیں ہوتا۔

اسی طرح Cortisol اور Adrenaline جسم کے Stress Hormones ہیں۔ یہ اس وقت خارج ہوتے ہیں جب خطرہ ہو، عدم تحفظ ہو، مستقبل غیر یقینی ہو، تو جب کوئی تعلق، خفیہ ہو، غیر مستقل ہو، سماجی یا اخلاقی تحفظ سے خالی ہو، تو دماغ کا حصہ Amygdala (خطرے کا مرکز) مسلسل متحرک رہتا ہے۔ جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن تیز، اعصابی تناؤ، ذہنی بے سکونی، تعلق کے دوران بھی مکمل اطمینان پیدا نہیں ہو پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی قربت کے باوجود روحانی اور ذہنی سکون غائب رہتا ہے۔

ہمارے جسم میں ایک Oxytocin نام کا ہارمون بھی ہے۔ Oxytocin کو Bonding Hormone کہا جاتا ہے یعنی تعلق اور وابستگی کا ہارمون۔ یہ اعتماد پیدا کرتا ہے، جذباتی وابستگی کو مضبوط کرتا ہے، دو انسانوں کے درمیان ہم  کا یعنی اپنے پن کا  احساس پیدا کرتا ہے۔

نکاح کے بغیر تعلق میں Oxytocin خارج تو ہوتا ہے مگر چونکہ مستقل Commitment نہیں ہوتی، سماجی تحفظ نہیں ہوتا اور نہ ہی مستقبل کا یقین ہوتا ہے اس لیے Oxytocin مکمل اثر نہیں دکھا پاتا۔ جس کے نتیجے میں جذباتی الجھن، Attachment Anxiety، ایک کے قریب ہو کر بھی تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔ 

جبکہ  نکاح ایک نفسیاتی سگنل ہے۔ جب دماغ جانتا ہے کہ یہ تعلق جائز ہے، مستقل ہے اور ذمہ داری پر مبنی ہے تو Amygdala پرسکون ہو جاتی ہے۔ اور دماغ کا حصہ Prefrontal Cortex (سکون، فیصلہ سازی، شعور) متحرک ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں Oxytocin بھرپور مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ Vasopressin (وفاداری کا ہارمون) بھی شامل ہوجاتا ہے۔ جس سے جذباتی بندھن مضبوط ہوتا ہے۔ اسی کو سائنس میں Pair Bonding کہا جاتا ہے۔

جسم کا Parasympathetic Nervous System یعنی حالتِ سکون

انسانی اعصابی نظام کے دو بڑے موڈ ہوتے ہیں

1    Fight or Flight (خطرہ، تناؤ)                    2     Rest and Digest (سکون، بحالی)

زنا میں  جسم Fight or Flight میں رہتا ہے یعنی لڑو اور بھاگو۔ مکمل ذہنی ریلیکسیشن ممکن نہیں ہوتی۔ جبکہ نکاح میں Parasympathetic System مکمل فعال، بلڈ پریشر متوازن، نیند بہتر،  اکثر میاں بیوی کو بعد میں نیند آنے لگ جاتی ہے جو اس جائز تعلق اور ہارمون کا صحیح ورک کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر مدافعتی نظام مضبوط قرآن کا لفظ لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا عین اسی حیاتیاتی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جدید تحقیق کے مطابق قربت محض جذباتی نہیں بلکہ حیاتیاتی سطح پر بھی گہرا اثر چھوڑتی ہے۔  مطلب ایک فرد کے خلیاتی اجزاء کا اثر  دوسرے کے جسم میں طویل عرصے تک باقی رہتاہے۔ تحقیقی شواہد بتاتے ہیں عورت کے جسم اور دماغ میں مرد کے جینیاتی اجزاء برسوں تک موجود رہ سکتے ہیں۔ متعدد غیر مستحکم تعلقات سے حیاتیاتی کنفیوژن، جذباتی عدم توازن اور Attachment Disorders کا باعث بنتا ہے۔

اسی لیے اسلام میں زنا کی ممانعت، عدت کا تصور،ان سب کا مقصد حیاتیاتی، نفسیاتی اور نسبی تحفظ ہے۔  جدید نیورو سائنس، نفسیات اور حیاتیات اب اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہیں کہ انسانی جسم حدود کے اندر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ غیر منظم تعلقات جسمانی نظام کو بگاڑ دیتے ہیں، مستقل اور محفوظ رشتہ ذہنی و جسمانی صحت کو فروغ دیتا ہے۔ اسی لیے نکاح حیاتیاتی توازن، ذہنی سکون، جذباتی استحکام کا ذریعہ ہے۔ جبکہ زنا ہارمونل بے ترتیبی، ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن کا باعث ہے۔ جو اسلام کی حقانیت کو ظاہر کرتا ہے۔

خلاصہ کلام  (One-Line Scientific Conclusion) یہ ہے کہ ایک ہی جسمانی قربت، مختلف اخلاقی و سماجی ماحول میں، انسانی دماغ اور جسم میں بالکل مختلف حیاتیاتی نتائج پیدا کرتی ہے۔ اب آپ کی مرضی  چاہیں تو تعلق جائز رکھ کر اپنے ہارمون اور اعصاب  کو مضبوط بنائیں یا نا جائز تعلق قائم کر کے اپنے آپ کو کمزور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں