بلیوٹنگ وائرس کیا ہے ؟
بلیوٹنگ ایک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر چرنے والے جانوروں کو متاثر کرتی ہے، جن میں بھیڑ، بکری، گائے، ہرن، اونٹ اور دیگر مویشی شامل ہیں۔
اس بیماری کا نام بلیو ٹنگ اس لیے رکھا گیا کہ شدید صورتوں میں جانور کی زبان سوج کر نیلگوں رنگ اختیار کر لیتی ہے، جو دراصل جسم میں آکسیجن کی کمی اور اندرونی خون بہنے کی علامت ہوتی ہے ۔ یہ بیماری انسانوں کے لیے براہِ راست خطرناک نہیں، نہ ہی یہ گوشت یا دودھ کے استعمال سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، مگر مویشیوں کے لیے یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوڈ سیفٹی کے اعتبار سے محفوظ ہونے کے باوجود اس بیماری کو زرعی اور معاشی سطح پر انتہائی سنجیدہ خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
مویشی انسانی معاشرے کی قدیم ترین معاشی بنیادوں میں سے ایک ہیں۔ دودھ، گوشت، کھال، اون اور دیگر زرعی ضروریات کا انحصار بڑی حد تک صحت مند جانوروں پر ہوتا ہے۔ جب مویشی کسی متعدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف جانور تک محدود نہیں رہتے بلکہ کسان، منڈی، قومی معیشت اور خوراک کے نظام تک پھیل جاتے ہیں۔ بلیو ٹنگ وائرس ایسی ہی ایک بیماری ہے جو خاموشی سے پھیلتی ہے مگر اپنے پیچھے شدید معاشی اور زرعی نقصان چھوڑ جاتی ہے ۔
بلیو ٹنگ کوئی نئی بیماری نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس کا دوبارہ اور وسیع پیمانے پر پھیلاؤ دنیا بھر میں تشویش کا باعث بنا ہے۔ موسمی تبدیلی، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، جانوروں کی بین الاقوامی نقل و حرکت اور کاٹنے والے کیڑوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی نے اس وائرس کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
بلیو ٹنگ وائرس دنیا کے مختلف خطوں میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گرم اور مرطوب موسم کا غلبہ ہو اور کاٹنے والے چھوٹے کیڑے بکثرت موجود ہوں۔ افریقہ، ایشیا، آسٹریلیا، یورپ، شمالی امریکہ اور کئی جزائر میں یہ بیماری رپورٹ ہو چکی ہے ۔
پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، لبنان، اسپین، پرتگال، تیونس، نائجیریا، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں اس وائرس کی موجودگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ بیماری کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی۔ کئی ممالک میں اسے اینڈیمک بیماری سمجھا جاتا ہے، یعنی وہاں یہ وائرس مسلسل یا وقفے وقفے سے موجود رہتا ہے اور اس کے پھیلاؤ کا انداز کسی حد تک متوقع ہوتا ہے۔
بلیوٹنگ کی علامات
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ نیلی زبان بلیوٹنگ کی لازمی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سے متاثرہ جانوروں میں زبان کا رنگ نیلا نہیں ہوتا، مگر بیماری پھر بھی موجود ہوتی ہے۔
بلیوٹنگ وائرس سے متاثرہ بھیڑوں میں بیماری زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔ عام علامات میں منہ اور ناک میں چھالے، آنکھوں اور ناک سے پانی آنا، زیادہ رال ٹپکنا، ہونٹوں اور زبان کی سوجن، سر اور گردن کا پھول جانا اور کھروں کے قریب جلد کی سوجن شامل ہیں۔ بعض اوقات جلد سرخ ہو جاتی ہے کیونکہ خون اندرونی طور پر جمع ہونے لگتا ہے، جبکہ بخار اور سانس لینے میں دشواری بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔
گائیوں میں یہ بیماری اکثر نسبتاً ہلکی رہتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ نقصان کم ہوتا ہے۔ سستی، بھوک میں کمی، نتھنوں اور منہ کے گرد زخم، آنکھوں اور ناک کی سرخی، دودھ کی پیداوار میں واضح کمی اور عمومی کمزوری نمایاں علامات ہیں۔ بعض بالغ گائیں کئی ہفتوں تک کوئی علامت ظاہر کیے بغیر وائرس کو اپنے جسم میں رکھ سکتی ہیں، جو بیماری کے پھیلاؤ کا ایک خاموش ذریعہ بن جاتی ہیں۔
اگر گائے یا بھیڑ حمل کے دوران بلیوٹنگ وائرس سے متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات آئندہ نسل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بچھڑے اور میمنے کمزور، چھوٹے قد کے، پیدائشی نقائص کے ساتھ یا نابینا پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں حمل ضائع ہو جاتا ہے یا مردہ بچے کی پیدائش ہوتی ہے، جو کسان کے لیے براہِ راست معاشی نقصان ہے۔
بلیوٹنگ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
بلیوٹنگ جانوروں کے درمیان براہِ راست نہیں پھیلتی۔ یہ بیماری دراصل کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے، جو وائرس کے ویکٹر کہلاتے ہیں۔ جب یہ کیڑے کسی متاثرہ جانور کو کاٹتے ہیں تو وائرس ان کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہی کیڑے جب کسی صحت مند جانور کو کاٹتے ہیں تو وائرس اس تک منتقل ہو جاتا ہے .
یہ کیڑے عموماً گرم موسم میں زیادہ فعال ہوتے ہیں اور ہواؤں کے ساتھ طویل فاصلے تک سفر کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بلیو ٹنگ وائرس سرحدوں، سمندروں اور ملکوں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے پھیل سکتا ہے۔ یورپ میں 2023 کی وبا اس کی واضح مثال ہے، جہاں نیدرلینڈز سے شروع ہونے والی بیماری ہواؤں کے ذریعے برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقوں تک پہنچ گئی اور ہزاروں بھیڑیں ہلاک ہوئیں
عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمی تبدیلیاں بلیوٹنگ وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ علاقے جہاں پہلے سردیوں میں کیڑے مر جاتے تھے، اب وہاں بھی یہ کیڑے زندہ رہنے لگے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس سال کے زیادہ حصے میں موجود رہ سکتا ہے اور نئے علاقوں میں قدم جما سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بلیو ٹنگ مستقبل میں مزید ممالک کے لیے مستقل مسئلہ بن سکتا ہے۔
بلیوٹنگ کی ویکسین، علاج اور روک تھام
بلیوٹنگ کے خلاف ویکسینز موجود ہیں اور کئی ممالک میں کامیابی سے استعمال ہو رہی ہیں، جن میں امریکہ، انڈیا، برطانیہ، چین اور ملیشیا شامل ہیں۔ ویٹرنری ماہرین کے مطابق بیماری کی روک تھام کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے ۔
تاہم ویکسین کی دستیابی، قیمت، کسانوں کی معاشی حالت اور حکومتی پالیسیز اس کے استعمال میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان ممالک میں جہاں بلیو ٹنگ اینڈیمک ہے، وہاں اکثر واضح اور جامع پروٹوکول موجود نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بیماری وقتاً فوقتاً دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔
ویکسین کے ساتھ ساتھ بایوسکیورٹی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ جانوروں کی ذمہ داری سے خرید و فروخت، نئے جانوروں کو قرنطینہ میں رکھ کر ٹیسٹ کرنا، فارم کی صفائی، کیڑے مار اقدامات اور جانوروں کو ایسی جگہوں پر رکھنا جہاں کاٹنے والے کیڑوں کا داخلہ کم ہو، یہ سب اقدامات مل کر بیماری کے پھیلاؤ کو کم کر سکتے ہیں ۔
مزید یہ کہ فارم کے پالتو جانوروں کو اسقاط حمل یا ولادت کے بعد کے مواد سے دور رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
بلیوٹنگ بیماری ایک صدی سے جانوروں کے ساتھ موجود ہے، مگر بدلتے موسمی حالات اور عالمی نقل و حرکت نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس بیماری سے نمٹنے کے لیے صرف کسانوں کی کوششیں کافی نہیں، بلکہ حکومتی اداروں، ویٹرنری سروسز اور زرعی پالیسی سازوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہو گی ۔
آگاہی مہمات، بروقت ٹیسٹنگ، ویکسین کی دستیابی اور بین الاقوامی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو مستقبل میں اس بیماری کے اثرات کو محدود کر سکتے ہیں۔
بلیوٹنگ وائرس بظاہر جانوروں کی ایک بیماری ہے، مگر اس کے اثرات انسانی معیشت، خوراک کی فراہمی اور زرعی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ یہ بیماری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جانوروں کی صحت دراصل انسانی معاشرے کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر بروقت سائنسی، عملی اور پالیسی سطح پر اقدامات کیے جائیں تو اس خاموش مگر خطرناک وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے، ورنہ اس کے نتائج آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے ۔