آپکے گناہ کا خمیازہ آپکی نسل پر ۔ کیا آپ کے گناہوں کے اثرات آپ کی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں؟ اسلام کی تعلیمات اور جدید سائنس اس حقیقت کو کیسے واضح کرتی ہیں؟
ہم میں سے اکثر یہ گمان کرتے ہیں کہ ہماری زندگی محض ہماری اپنی ذات تک محدود ہے، کہ ہم کیا کھاتے ہیں، کن ذہنی دباؤ سے گزرتے ہیں یا کن غلط عادات میں مبتلا رہتے ہیں۔ان سب کے اثرات صرف ہماری ذات تک ہی محدود رہتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ جب ہماری اولاد دنیا میں آئے گی تو وہ ایک شیشے کی مانند صاف شفاف ہوگی، جس کا ہمارے ماضی کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
مگر جدید سائنس، جسے ہم ایپی جینیٹکس کہتے ہیں، نے اس خوش فہمی کے پردے چاک کر دیے۔ آج کی سائنسی تحقیق ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے لا ئی ہے۔ ہمارے اعمال، ہماری سوچ اور ہماری عادات ہمارے ڈی این اے پر ایسے گہرے نقوش چھوڑتی ہیں جو صرف ہماری ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسل در نسل منتقل ہو سکتے ہیں۔ یوں ہماری زندگی کے فیصلے آنے والی نسلوں کی تقدیر کا حصہ بن جاتے ہیں۔
آپکے گناہ کا خمیازہ
ایک طویل عرصے تک اسکولوں اور کالجوں میں یہی تصور پڑھایا جاتا رہا کہ انسان کے جسمانی خلیات جیسے پٹھے یا دماغی خلیات میں ہونے والی تبدیلیاں کبھی اس کے تولیدی خلیات، یعنی اسپرم یا انڈے، تک منتقل نہیں ہوتیں۔ اس نظریے کو وائزمین بیریئر کا نام دیا گیا، جو یوں سمجھایا جاتا تھا کہ جسم اور نسل کے درمیان ایک ناقابلِ عبور دیوار حائل ہے۔
اس کے مطابق اگر کوئی شخص سخت محنت کر کے مضبوط پٹھے بنا لے تو اس کی اولاد پیدائشی طور پر مسلز کے ساتھ پیدا نہیں ہوگی، اور اگر کوئی فرد کسی ہنر یا مہارت میں کمال حاصل کر لے تو وہ صلاحیت اس کے بچے میں فطری طور پر منتقل نہیں ہوگی۔ یوں پرانی حیاتیات کے مطابق انسان کی ذاتی جدوجہد اس کی نسل سے کٹ کر رہ جاتی تھی۔
اس نظریے نے انسان کو ایک طرح کی جھوٹی آزادی دے رکھی تھی۔ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ جو چاہے مرضی کریں، چاہے شراب نوشی کریں، ذہنی دباؤ لیں یا غلط کاموں میں پڑیں، ان کے اسپرم ایک محفوظ تجوری کی طرح ہیں جن پر باہر کے حالات اثر انداز نہیں ہو سکتے ۔ لیکن اکیسویں صدی کے آغاز نے اس دیوار کو گرا دیا ہے۔
اب سائنس چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ آپ کا لائف اسٹائل، آپ کا کھانا، آپ کا خوف اور یہاں تک کہ آپ کے گناہ بھی آپ کے اسپرم کے کیمیائی ڈھانچے (Methylation Pattern) کو بدل دیتے ہیں، اور یہ بدلی ہوئی رپورٹ آپ کے بچے کو وراثت میں ملے گی ۔
ایپی جینیٹکس کیا ہے؟
عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ جینیٹکس کا مطلب صرف ڈی این اے کا وہ کوڈ ہے جو ہمیں والدین سے ملتا ہے۔ لیکن ایپی جینیٹکس اس کوڈ سے اوپر کی چیز ہے۔ اسے آپ یوں سمجھیں کہ ڈی این اے ایک کتاب کی طرح ہے جس میں معلومات لکھی ہوئی ہیں، لیکن ایپی جینیٹکس وہ ہائی لائٹر یا پینسل ہے جو طے کرتی ہے کہ کتاب کا کون سا باب پڑھا جانا ہے اور کون سا نہیں۔ سائنس کی زبان میں اسے جین ایکسپریشن (Gene Expression) کہتے ہیں ۔
آپ کا ماحول، آپ کی خوراک اور آپ کے جذبات اس پینسل کا کام کرتے ہیں۔ یہ ڈی این اے کے کوڈ کو تو نہیں بدلتے، لیکن یہ طے کر دیتے ہیں کہ کون سا جین آن ہوگا اور کون سا آف ۔ اگر آپ ایک برا لائف اسٹائل گزار رہے ہیں، تو آپ لاشعوری طور پر اپنے صحت مند جینز کو آف کر رہے ہیں اور بیماریوں والی جینز کو آن کر رہے ہیں ۔
خوف اور ذہنی صدمے وراثت میں
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ بچے پیدائشی طور پر ڈرپوک کیوں ہوتے ہیں؟ یا کیوں کچھ بچے کسی خاص چیز سے بغیر وجہ کے خوف کھاتے ہیں؟ 2014 میں ایموری یونیورسٹی میں ہونے والا ایک تجربہ اس کا جواب دیتا ہے۔ سائنسدانوں نے چوہوں کو ایک خاص خوشبو (چیری بلاسم) سنگھائی اور ساتھ ہی انہیں ہلکا سا کرنٹ دیا ۔ تو وہ چوہے اس خوشبو سے ڈرنے لگے۔
حیرت انگیز بات تب ہوئی جب ان چوہوں کی اولاد پیدا ہوئی ۔ ان بچوں نے کبھی وہ خوشبو نہیں سونگھی تھی اور نہ ہی کبھی کرنٹ کھایا تھا، لیکن جیسے ہی انہیں چیری بلاسم کی خوشبو سنگھائی گئی، وہ خوف سے کانپنے لگے ۔ یہاں تک کہ ان کی تیسری نسل میں بھی یہ خوف پایا گیا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ باپ کا ذہنی صدمہ یا خوف اس کے اسپرم کے ذریعے بچوں کے جینز میں منتقل ہو گیا ۔ یعنی جو ذہنی تناؤ یا ٹراما آپ آج بھگت رہے ہیں، وہ آپ کی اولاد کی نفسیات کا حصہ بن سکتا ہے ۔
کیا گناہ اور بدکاری نسلوں کو متاثر کرتے ہیں؟
یہ ایک بہت حساس لیکن اہم سوال ہے۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ اگر وہ کوئی غلط کام (جیسے زنا یا فحاشی) کر رہے ہیں اور اس سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہو رہی، تو ان کے جینز پر کیا اثر پڑے گا؟ سائنس کہتی ہے کہ آپ کی فیکٹری (جہاں اسپرم بنتے ہیں) ہر وقت کام کر رہی ہے ۔ اسپرم بننے کا عمل (Spermatogenesis) تقریباً 74 دن لیتا ہے ۔ جب انسان کسی غلط کام میں ملوث ہوتا ہے، تو اس کے دماغ میں کیمیکلز کا ایک طوفان آتا ہے، جیسے ڈوپامائن کا غیر فطری بہاؤ یا گناہ کے احساس سے پیدا ہونے والا تناؤ (Cortisol) ۔
یہ کیمیکلز آپ کے خون کے ذریعے ان اسٹیم سیلز تک پہنچتے ہیں جو اسپرم بناتے ہیں ۔ اس عمل سے وہاں ایپی جینیٹک نشانات (Epigenetic Scarring) لگ جاتے ہیں۔ اب فرض کریں کہ آپ نے وہ غلط کام چھوڑ دیا اور پانچ سال بعد شادی کی، تو آپ کی وہ نشان زدہ فیکٹری ہی اسپرم پیدا کرے گی جو آپ کی جائز اولاد کی بنیاد بنیں گے ۔ آپ نے اپنی فیکٹری کو جو نقصان پہنچایا، اس کا اثر اب آپ کے معصوم بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر ظاہر ہوگا ۔
اسلام کی حکمت اور جدید سائنس
یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جو باتیں آج کی ایپی جینیٹکس بتا رہی ہے، اسلام نے صدیوں پہلے ان کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔ قرآن کہتا ہے: “زنا کے قریب بھی مت جاؤ” ۔ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ صرف عمل مت کرو، بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع کیا، کیونکہ فحاشی دیکھنے سے ہی دماغ اور ہارمونز میں وہ تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں جو آپ کے جینز کو متاثر کرتی ہیں ۔
اسی طرح اسلام میں عدت کا تصور بھی نسل کی پاکیزگی اور تحفظ کے لیے ہے ۔ جدید تحقیق (Microchimerism) بتاتی ہے کہ جنسی تعلقات کے اثرات اور ڈی این اے کے کچھ اجزاء طویل عرصے تک جسم میں رہ سکتے ہیں، جنہیں فلٹر کرنے کے لیے اسلام نے ایک باقاعدہ نظام دیا ہے ۔
اگر آپ یہ پڑھ کر پریشان ہو گئے ہیں کہ آپ کا ماضی آپ کی نسلوں کو تباہ کر دے گا، تو ایپی جینیٹکس ایک امید بھی دیتی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ ایپی جینیٹک نشانات کو مٹایا جا سکتا ہے (Reversibility) ۔ جس طرح برا لائف اسٹائل جینز کو خراب کرتا ہے، اسی طرح ایک مکمل اور مثبت تبدیلی ان نشانات کو دھو بھی سکتی ہے ۔
یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کی ایک تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا کہ جینیاتی تبدیلیوں کے لیے دہائیاں نہیں چاہئیں ۔ انہوں نے صحت مند مردوں کو صرف ایک ہفتہ تک بہت زیادہ چینی اور چکنائی والی خوراک کھلائی ۔ صرف سات دن بعد ان کے اسپرم میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئیں جو بچے کے دماغ اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتی ہیں ۔ اگر ایک ہفتے کی خراب خوراک آپ کے اسپرم کو بدل سکتی ہے، تو سالوں کی بدکاری اور ذہنی گندگی آپ کے آنے والے بچوں کے ساتھ کیا کرے گی؟ یہ زہر آپ کے جسم میں جمع ہو رہا ہے اور آپ کی مستقبل کی نسلوں کا انتظار کر رہا ہے ۔
جب اسلام سچی توبہ کی بات کرتا ہے، تو یہ صرف زبانی کلامی بات نہیں ہوتی۔ سچی ندامت اور طرز زندگی کی مکمل تبدیلی انسان کے اندر ایک شدید جذباتی اور کیمیائی شفٹ لاتی ہے ۔ اللہ کے خوف اور ندامت سے پیدا ہونے والے مثبت ہارمونز پرانے برے مارکرز کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک طرح کا اسپریچوئل ایپی جینیٹک ری سیٹ ہے ۔