انسان کے باطن کی حقیقت صرف اللہ جانتا ہے۔ ہم آنکھوں سے دیکھے ہوئے ظاہری منظر کو ہی اصل سمجھ بیٹھتے ہیں، اور پھر اسی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔نور مسجد میں کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
نور مسجد کی داستان
ایک مولانا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ ایک رکشہ سے اترے۔ اردگرد نظر گھمائی تو دل میں گھبراہٹ تیر گئی۔ چاروں طرف وہ گھر تھے جنہیں لوگ بری نگاہ سے دیکھتے ہیں طوائفوں کے گھر۔ دروازے پر کھڑی عورتیں پان چبا رہی تھیں۔ مولانا نے فوراً کہا
چلو چلو جلدی یہاں سے واپس چلتے ہیں
بیوی حیران ہوئی۔ آپ مسجد میں اور میں گھر میں رہوں گی۔ بچے بھی نہیں، جو بازار گھومیں پھر ڈر کس بات کا؟ یہ سوال مولانا کے اندر کہیں چبھ گیا، مگر انہوں نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔
اسی دوران ایک نوجوان آگیا، وہ اپنا کام چھوڑ کر جلدی سے مولانا کا سامان اٹھانے لگا۔ سامان اٹھایا، اور مولانا صاحب کو مسجد تک لے گیا۔ مسجد چھوٹی اور سادہ تھی۔
مسجد میں داخل ہوئے تو مولانا نے پوچھا اس مسجد کا نام کیا ہے؟
نوجوان نے سادگی سے جواب دیا، کوئی نام نہیں لوگ بس ‘گلی والی مسجد’ کہتے ہیں۔ مولانا کو یہ بھی عجیب لگا، مگر خاموش رہے۔
نماز کے بعد چند بچے سبق پڑھنے آئے۔ مولانا انہیں پڑھانے بیٹھے تو نوجوان چائے اور بسکٹ لے آیا۔
مولانا نے پوچھا یہ تکلف کس نے کی؟
نوجوان نے مسکرا کر کہا یہ نوراں نے بھجوائی ہے۔ مولانا چونکے اور کہا یہ نوراں کون ہے؟
نوجوان نے کہا جی اُس کا اصل نام نور ہے، لوگ نوراں نوراں کہتے ہیں۔ بیوہ ہے۔ یہاں سے دوسری گلی میں رہتی ہے۔
مولانا کے چہرے پر سختی آ گئی۔ انہیں گلی کی بدنامی یاد آ گئی۔ فوراً غصے میں بولے لاحول ولا قوۃ …. مجھے پہلے کیوں نہ بتایا؟
نوجوان خاموش رہا۔ کوئی جواب نہ دیا۔
اگلے دن سبق پڑھتے ہوۓ ایک بچہ شور کر رہا تھا۔ مولانا نے غصے میں لاٹھی جو گھمائی تو بچے کے سر پر لگ گئی۔ خون بہنے لگا۔ وہ نوجوان اُسے فوراً کلینک لے گیا۔ واپس آئے تو بچہ دوبارہ سبق پڑھنے بیٹھ گیا۔
اتنے میں مسجد کے باہر ایک عورت کھڑی نظر آئی کہنے لگی۔ مولانا صاحب، میں نورا ہوں۔ مجھے پتا چلا میرا بچہ زخمی ہو گیا ہے۔
مولانا آگ بگولہ ہو گئے، تمہاری ہمت کیسے ہوئی مسجد کے قریب آنے کی؟! نوراں بیچاری خاموش آنسوؤں کے ساتھ واپس چلی گئی۔
نوجوان آہستہ سے بولا مولانا صاحب، وہ اپنے بچے کی چوٹ دیکھنے آئی تھی۔ مولانا کی زبان رک گئی، مگر دل کا غرور ابھی باقی تھا۔
کچھ دنوں بعد مولانا نے نوجوان سے کہا، ہم حج کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ جب ہم نہیں ہوں گے تو تم مسجد کا خیال رکھنا۔
نوجوان نے آہستہ سے کہا مولوی صاحب… تین ٹکٹ لے لیں۔
مولانا نے حیرت سے پوچھا تیسرا کس کے لیے؟ نوجوان نے نظریں جھکا کر کہا نوراں کے لیے۔مولانا کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تمہیں معلوم ہے حج پر کون جاتا ہے؟!میں اسے اپنے ساتھ حج پر نہیں لے جا سکتا۔نوجوان پھر خاموش رہا۔اُس کی خاموشی میں سینکڑوں کہانیاں چھپی تھیں۔
مولانا حرم پہنچ گۓ ، حرم میں غیر معمولی رش تھا۔ مولانا اپنی بیوی سے بچھڑ گئے۔ لوگوں کے دھکم پیل میں مولانا گر پڑے۔انہیں یقین تھا اب وہ مر جائیں گے ایسے لگا کہ آج موت سامنے کھڑی ہے۔ وہ وہیں شہید ہو جائیں گے۔ ایسے میں کسی نے اپنا ہاتھ تھمایا۔ اور اس نے مولانا کو کھینچ کر باہر نکال دیا… سانسیں بحال ہوئیں تع دیکھا سامنے ان کی بیوی کھڑی تھی۔
مولانا نے پلٹ کر دیکھاتو حیران رہ گئے، وجود کانپ گیا۔ وہ نور تھی۔وہی نور، جسے انہوں نے مسجد سے دھتکارا تھا، جس کا نام سن کر غصہ آجاتا تھا، جسے وہ گناہ کی علامت سمجھتے تھے، آج وہی ان کی جان بچا رہی تھی۔ اتنے میں نور بھیڑ میں کھو گئی جیسے کبھی آئی ہی نہ ہو۔
حج سے واپس آکر مولانا نے کہا،سب سے پہلے نورا سے معافی مانگیں گے۔ پھر مسجد جائیں گے۔ مولانا نورا کے گھر پہنچے تو سامنے ایدھی کی گاڑی کھڑی تھی۔
مولانا نے نوجوان سے پوچھا نورا حج سے آئی ہے؟ نوجوان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ نورا تو حج پر گئی ہی نہیں۔
مولانا کے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ کیا مطلب…؟
نوجوان نے لرزتی آواز میں بتایا، جس رات آپ حج کے لیے گئے تھے…اسی رات اس کے جمع کیے ہوئے حج کے پیسوں کے لیے کسی نے اسے ذبح کر دیا۔
اور آج ایدھی والے اس کے بچوں کو لینے آئے ہیں۔ نوجوان نے مزید بتایا یہ بچے نورا کے اپنے نہیں تھے۔
وہ سب یتیم تھے۔ نورا نے انہیں اپنی اولاد بنا رکھا تھا۔ نور ان کا خرچ چلاتی تھی۔ اس کا خواب تھا کہ وہ سب حافظ قرآن بنیں۔ اسی لیے وہ مسجد کی خدمت کرتی تھی، آپ کو چائے بھیجتی تھی اور بچوں کا خیال رکھتی تھی۔
مولانا کی آنکھوں سے اشکوں کی بارش ہونے لگی۔ انہیں سمجھ آ گیا حج پر نورا کی جگہ کون گیا تھا۔ نور نے حج نہیں کیا تھا لیکن اللہ نے اس کی نیت کے بدلے اسے وہ مقام دیا جو بڑی بڑی عبادتوں سے بھی نہیں ملتا۔
مولانا نے ایدھی والوں کو روکا اورکہا یہ بچے کہیں نہیں جائیں گے۔ یہ میرے بچے ہیں یہیں رہیں گے۔اور پھر اعلان کیا
آج سے اس مسجد کا نام نور مسجد ہوگا۔
نور ایک طوائف نہیں تھی۔ نورایک ماں تھی۔ ایک ولیہ تھی۔ ایک ایسی عورت جس کے اعمال آسمان تک پہنچتے تھے، مگر دنیا اس کا مقام سمجھ نہ پائی۔کیونکہ اس گلی میں اگر کسی نے دنیا اور آخرت کے لیے سب سے زیادہ نور پھیلایا ہے تو وہ نورا تھی۔
ہماری سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ ہم لوگوں کو اُن کے ظاہر سے پہچانتے ہیں۔ لیکن اللہ انسان کو اُس کے باطن سے پہچانتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں ہم زیادہ پاک ہیں، زیادہ بہتر ہیں،لیکن حقیقت وہ نہیں ہوتی جو آنکھیں دیکھتی ہیں۔حقائق وہ ہوتے ہیں جو دل جانتا ہے، جو اللہ جانتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے:
✔️ کسی کو اس کے ماضی سے نہ پرکھو
✔️ کسی کے لباس، علاقے، پیشے یا گلی سے اسے کم نہ سمجھو
✔️ ️ اللہ کے خاص بندے اکثر وہاں ہوتے ہیں جہاں ہم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے
✔️ خدمت، قربانی اور محبت، یہی اصل عبادت ہے
✔️ کبھی کسی کو حقیر مت سمجھو، ممکن ہے وہ اللہ کا ولی ہو