امریکی کانگریس کی رپورٹ میں پاکستان کی مئی 2025 کی فوجی کامیابی، چین کے کردار، بھارتی ردعمل اور جنوبی ایشیا کی نئی جغرافیائی حقیقتیں۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ
امریکہ کی کانگریس میں جمع کرائی گئی حالیہ رپورٹ نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اس رپورٹ میں مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ جھڑپوں کو نہ صرف پاکستان کی فوجی برتری کے طور پر بیان کیا گیا ہے بلکہ چین کے کردار، تکنیکی تعاون، اسلحے کی نوعیت اور خطے میں بڑھتے ہوئے اس کے اثر و رسوخ کو بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ کسی امریکی سرکاری کمیشن نے ان جھڑپوں میں پاکستان کی عسکری برتری کا اس قدر واضح اور غیر مبہم ذکر کیا ہے، جس نے پاکستان میں سیاسی اور عوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ بھارت اور مغربی میڈیا میں بھی کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت خصوصاً وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس کا خیرمقدم کیا، وہیں بھارت کی حکومت، میڈیا اور اپوزیشن نے اس رپورٹ کے مختلف پہلوؤں پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کئی ماہ پہلے ہونے والی اس مختصر مگر شدید لڑائی میں پاکستان نے وہ عسکری جواب دیا جس کی گونج عالمی سطح پر بھی سنائی دی، اور کانگریس کی رپورٹ نے اس کامیابی کو مہرِ تصدیق دے دی ہے۔
اس بیان نے ملک کے اندر ایک نئی سیاسی گرما گرمی پیدا کر دی، جس میں حکومت نے اسے اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی صلاحیت کی کامیابی قرار دیا، جبکہ مخالفین نے اسے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کہا۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں ہونے والی ان جھڑپوں نے کئی نئی معلومات اور حقائق کو سامنے لایا جنہوں نے اس خطے کے مستقبل کے سیکورٹی حالات پر براہ راست اثر ڈالا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان نے اس مختصر جنگ میں جدید ترین چینی اسلحے پر انحصار کیا، جس میں ایچ کیو نائن ایئر ڈیفنس سسٹم، پی ایل 15 فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اور جے 10 سی لڑاکا طیارے قابلِ ذکر ہیں۔
اس لڑائی میں پہلی بار چین کے جدید ہتھیار کسی حقیقی جنگی ماحول میں آزمائے گئے، اور یہی وہ پہلو تھا جسے رپورٹ نے بار بار نمایاں کیا۔ امریکی کمیشن نے اس بات کو بھی اہم سمجھا کہ یہ جھڑپیں چین کے لیے نہ صرف ایک عسکری تجربہ گاہ ثابت ہوئیں، بلکہ اس نے انہیں اپنے دفاعی نظام کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا۔
پاکستان کا دعویٰ تھا کہ اس نے ان دنوں کے دوران بھارت کے سات جنگی طیارے مارگرائے، جبکہ بھارت نے اس کے جواب میں ایک ماہ بعد پاکستان کے چھ جہاز گرانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم بھارتی دعوے کے ساتھ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ دوسری طرف پاکستان نے اپنے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کئی مواقع پر ان جھڑپوں میں آٹھ جہازوں کی تباہی کا ذکر کیا، مگر کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ یہ نقصان کس ملک کا ہوا۔
کانگریس رپورٹ میں چین کے اس کردار کا بھی ذکر ہے جس کے مطابق نئی دہلی نے الزام لگایا کہ بیجنگ نے پاکستان کو بھارتی فوجی ٹھکانوں کی حقیقی وقت کی معلومات فراہم کیں۔ اگرچہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی، چین نے بھی نہ اس الزام کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔ مگر امریکی کمیشن کی رپورٹ میں اس امکان کو شامل کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں چین کا بڑھتا اثر اور پاکستان کے ساتھ اس کی عسکری قربت ایک حقیقت بن چکی ہے جسے عالمی ادارے بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔
چین اور پاکستان کے درمیان عسکری تعاون گزشتہ چند برسوں میں واضح طور پر بڑھا ہے۔ رپورٹ میں 2024 کے آخر اور 2025 کے آغاز میں پاکستان اور چین کی مشترکہ جنگی مشقوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں “وارئیر-8” انسداد دہشت گردی مشقیں اور پاکستان میں ہونے والی ملٹی نیشنل نیول مشقیں شامل ہیں جن میں چین کی بحریہ نے بھرپور شرکت کی۔ یہ مشقیں نہ صرف دونوں ممالک کے دفاعی اتحاد کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ بھارت کے لیے بھی واضح پیغام ہیں کہ خطے میں اس کی روایتی عسکری بالادستی اب ماضی کی بات ہوتی جا رہی ہے۔
امریکی رپورٹ میں ایک اہم نکتہ فرانسیسی لڑاکا طیاروں رفال سے متعلق چینی مبینہ گمراہ کن مہم کا ذکر تھا جس کے مطابق بیجنگ نے روایتی اور سوشل میڈیا پر ایسی معلومات پھیلائیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی ہتھیاروں نے بھارتی رفال طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ چین کی وزارتِ خارجہ نے اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کمیشن میں چین کے خلاف نظریاتی تعصب پایا جاتا ہے اور اس کی رپورٹ کی کوئی ساکھ نہیں۔ ان الزامات میں مصنوعی ذہانت اور ویڈیو گیمز کی تصاویر کے استعمال کا ذکر بھی سامنے آیا، جنہیں جعلی تباہ شدہ جہازوں کے ملبے کے طور پر پیش کیا گیا۔
خطے میں یہ جھڑپیں اُس وقت شروع ہوئیں جب بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر کشمیر کے علاقے میں ایک حملے کا الزام لگایا۔ اس کے بعد بھارت نے 7 مئی کو پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے، جس پر پاکستان نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بالآخر امریکی مداخلت پر 10 مئی کو ختم ہوئی، مگر اس دوران ہونے والے واقعات نے خطے میں طاقت کے توازن، عسکری صلاحیت اور عالمی سیاست کے نئے رخ متعین کر دیے۔
رپورٹ میں شامل وہ پہلو جس نے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ بحث چھیڑی، وہ پاکستان کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا اعلان تھا جو اسی سال کیا گیا۔ ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی مشکلات کا شکار تھا، دفاعی بجٹ میں اتنا بڑا اضافہ اپنے آپ میں ایک واضح اشارہ تھا کہ اسلام آباد خطے کی نئی اسٹریٹجک حقیقتوں کو سامنا کرنے کے لیے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اسی دوران چین نے پاکستان کو 40 جے 35 لڑاکا طیارے، کے جے 500 طیارے اور میزائل ڈیفنس سسٹمز کی پیشکش بھی کی جسے پاکستان کی عسکری صلاحیت میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔
اس پورے معاملے پر بھارت کا ردعمل خاصا محتاط رہا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، مگر بھارتی اپوزیشن نے اس رپورٹ پر سوالات اٹھائے، خاص طور پر اس بات پر کہ امریکی کمیشن نے کشمیر کے پلوامہ طرز کے واقعے کو باغیوں کا حملہ قرار دیا۔ بھارتی میڈیا میں بھی دفاعی ماہرین نے اس رپورٹ کی زبان، اس کے تضادات اور اس میں موجود کچھ نکات پر تنقید کی، مگر وہ اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکے کہ امریکی ادارہ پہلی بار پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی کو واضح برتری کے طور پر بیان کر رہا تھا۔
یہ رپورٹ کئی حوالوں سے خطے کی بدلتی ہوئی سیاست کی تصویر ہے۔ پاکستان کے لیے یہ نہ صرف سفارتی سطح پر ایک اخلاقی جیت تھی بلکہ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ عسکری میدان میں پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے ساتھ بھارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کے لیے یہ جھڑپیں ایک حکمتِ عملی کا حصہ تھیں جن کے تحت اس نے نہ صرف اپنے اسلحے کو حقیقی میدان میں آزمایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ اب عالمی اسلحہ مارکیٹ میں اس کے جدید نظام مغربی ہتھیاروں کے مقابلے میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف بھارت کے لیے یہ جھڑپیں اور اس پر آنے والی رپورٹ ایک سنجیدہ چیلنج ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف اس کی عسکری شہرت متاثر ہوئی ہے بلکہ چین اور پاکستان کے دفاعی اتحاد کے سبب اسے اپنے مستقبل کے اقدامات پر بھی نظرثانی کرنا پڑے گی۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کی یہ نئی شکل خطے کو مزید حساس بنا رہی ہے، خصوصاً جب دو جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ نے کئی ایسی پرتیں کھول دی ہیں جو پہلے دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔ اس نے پاکستان کی عسکری صلاحیت، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، بھارت کی دفاعی پالیسیوں اور خطے کی طاقت کے توازن کو ایک نئے تناظر میں پیش کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحث مزید گہری ہوگی کیونکہ اس رپورٹ نے پاکستان، چین، بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے نئے زاویے کھول دیے ہیں۔ یہ جھڑپیں اگرچہ چار دن کی تھیں، مگر ان کے اثرات طویل مدت تک جنوبی ایشیا کی سیاسی فضا کو متاثر کرتے رہیں گے۔