دل آگ میں فرقت کی جلتا ہے تو جلنے دو
دل آگ میں فرقت کی جلتا ہے تو جلنے دو
منزل کی تڑپ آخر پہنچائے گی منزل تک
گر گر کے سنبھلتا ہوں گر گر کے سنبھلنے دو
بے راہروی میری ہے درس عمل مجھ کو
الجھی ہوئی راہوں پہ چلتا ہوں تو چلنے دو
دنیا نے بدل ڈالا مفہوم محبت کا
اب ساز محبت کی آواز بدلنے دو
گرمیٔ عمل ہوگی پھر میری رگ و پے میں
یخ بستہ سے جذبوں کی یہ برف پگھلنے دو
ہر راہ پہ بکھرے ہیں انگارے تعصب کے
انگاروں پہ چلنا ہے انگاروں پہ چلنے دو
اس باغ وطن کی بھی کچھ فکر کرو یارو
للہ اسے بھی تو کچھ پھولنے پھلنے دو
لوگو یہ غنیمت ہے کیوں اس کو بجھاتے ہو
یہ شمع محبت ہے دن رات اسے جلنے دو