ذہنی دباؤ ہمارے کھانے اور صحت پر کیوں اثر کرتا ہے

ذہنی دباؤ 0

ماہرین ذہنی دباؤ یا سٹریس کو ایک ایسی کیفیت قرار دیتے ہیں جس میں انسان خود کو بے بس، دباؤ میں، یا کسی چیلنج کا مقابلہ نہ کر پانے کی حالت میں پاتا ہے۔

ذہنی دباؤ جسم کے ہارمونز، نیند، سوچ، جذبات اور کھانے کی خواہش پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ کیسے وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے، اور اس کا حل کیا ہے۔ یہ بڑے دلچسپ سوالات ہیں۔

جسم اور دماغ کا بریک سسٹم

جب کوئی مشکل، خوف، یا جذباتی ٹکراؤ ہوتا ہے تو دماغ کا ہائیپوتھیلمس فعال ہو جاتا ہے۔ یہی وہ چھوٹا سا حصہ ہے جو پورے جسم میں خطرے کا سگنل بھیجتا ہے۔ نتیجتاً دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، اڈرینالین اور کارٹیسول جیسے ہارمونز میں اضافہ ہوتا ہے، جسم توانائی کو فوری استعمال کے لیے تیار کر دیتا ہے،

قلیل مدت کے لیے تو یہ نظام نہایت فائدہ مند ہے، لیکن اگر یہ مسلسل متحرک رہے تو جسم کی طاقت، نیند، ہارمونز، موڈ، اور خوراک سب تباہ ہو جاتے ہیں۔

سٹریس ہماری کھانے کی عادت کو کیسے بدل دیتا ہے؟

 ذہنی دباؤ خوراک پر گہرا اثر ڈالتا ہے اور یہ اثر دو صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

1️⃣ کچھ لوگ بہت زیادہ کھانے لگتے ہیں

2️⃣ کچھ لوگ کھانا چھوڑ دیتے ہیں

لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟

1. دماغ اور معدہ کے درمیان رابطہ ٹوٹنے لگ جاتا ہے۔ ہمارے جسم میں ویگس نرو نام کی ایک شریان دماغ اور معدے کے درمیان رابطہ رکھتی ہے۔ یہی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے۔ سٹریس کے دوران یہ رابطہ کمزور ہو جاتا ہے، دماغ کو  پیٹ بھرنے کا سگنل نہیں ملتا، نتیجتاًانسان کھاتا رہتا ہے، خاص طور پر میٹھی چیزوں کی طلب بڑھتی ہے

2. شوگر لیول کا بگڑ جانا جب جسم ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے تو، جگر خون میں زیادہ گلوکوز خارج کرتا ہے، انسولین اسے کم کرنے کے لیے بہت زیادہ خارج ہوتی ہے، شوگر تیزی سے نیچے جاتی ہے، نتیجتاً دوبارہ بھوک لگتی ہے، انسان میٹھا، تیز، نمکیات والا کھانا ڈھونڈتا ہے۔ یہی وہ سائیکل ہے جو موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کی بنیاد بنتا ہے۔

3. نیند کی کمی، نیند پوری نہ ہو تو دماغ کو زیادہ توانائی چاہیے، بھوک بڑھتی ہے، ایک دن میں تقریباً 385 کیلوریز زیادہ لی جاتی ہیں۔ کنگز کالج لندن کی تحقیق بھی یہی ثابت کرتی ہے۔

ذہنی دباؤ اور وزن

برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے ڈاکٹر گائلز ییو نے اپنے اوپر تجربہ کیا۔ انہوں نے تناؤ بھرے دن کے دوران مشکل حسابی سوالات، ٹھنڈا پانی، ذہنی پریشر،کے ٹیسٹ دیے۔ نتیجہ حیران کن تھا:

✔ شوگر لیول نارمل پر واپس آنے میں 3 گھنٹے لگے

✔ عام دن سے 6 گنا زیادہ وقت

✔ بھوک میں غیر معمولی اضافہ

یہی وجہ ہے کہ ذہنی دباؤ میں انسان کی خوراک بے قابو ہو جاتی ہے۔

جب کارٹیسول زیادہ بنتا ہے تو پیٹ کے اردگرد چربی بڑھتی ہے، وزن تیزی سے اوپر جاتا ہے، بھوک بڑھتی ہے، جسم غذائی چربی زیادہ محفوظ کرتا ہے۔ بالوں میں کارٹیسول کی پیمائش سے بھی ثابت ہوا کہ جن افراد میں یہ ہارمون طویل عرصے تک زیادہ رہا وہ زیادہ موٹے تھے۔

برازیل کی تحقیق کے مطابق سبزی خور افراد میں ڈپریشن گوشت کھانے والوں سے دوگنا ہوتا ہے، وجہ غذائی کمی نہیں، بلکہ سماجی دباؤ، معاشرتی بے دخلی، اور جذباتی حساسیت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ مزید تحقیق ضروری ہے مگر یہ نقطہ اہم ہے کہ انسانی ذہن صرف غذائیت سے نہیں بلکہ ماحول سے بھی متاثر ہوتا ہے۔

ماہر غذائیت ڈاکٹر لونیت بترا کے مطابق، سٹریس کی حالت میں یہ چیزیں ہرگز نہ کھائیں۔

❌ کیک، پیسٹری، زیادہ میٹھا
❌ مصنوعی شکر
❌ کیفین کی زیادتی
❌ تلی ہوئی اشیاء
❌ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس (میدہ، بیکری آئیٹمز)

یہ تمام خوراکیں سوزش بڑھاتی ہیں، شوگر لیول بگاڑتی ہیں، بے چینی بڑھاتی ہیں، ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔

غصہ، مایوسی، منفی خیالات، گھریلو جھگڑے، شادی کے بعد نئی ذمہ داریاں، خوف، جذباتی کمی۔ ان تمام صورتوں میں دماغ خوشی حاصل کرنے کے لیے خوراک کا سہارا لیتا ہے۔ اسی لیے اسے emotional eating کہا جاتا ہے۔

ذہنی دباؤ کم کرنے اور کھانے کی عادت کو کنٹرول کرنے کے بہترین طریقے

1. سانس لینے کی مشق کریں ناک سے 5 سیکنڈ گہری سانس لیں پھر 5 سیکنڈ میں آہستہ سانس چھوڑیں، اندازہ 5 منٹ یہ عمل دہرائیں۔ اس سے کارٹیسول کم ہوجاتا ہے۔

 2. نیند کو کبھی متاثر نہ ہونے دیں کیونکہ نیند دماغ کی مرمت کرتی ہے۔ نیند کم ہو تو میٹھے کی طلب بڑھتی ہے،فیصلہ سازی کمزور ہوتی ہے، بھوک کے سگنلز بگڑ جاتے ہیں

3. کھانے کا وقت منظم رکھیں، دن میں وقفے وقفے سے کھائیں تاکہ شوگر لیول مستحکم رہے، ذہنی دباؤ کا اثر کم ہو۔

4. گھر میں جنک فوڈ نہ رکھیں، اگر کوئی  چیز موجود نہ ہو تو کھانے کا امکان بھی کم ہوگا۔

5. جسمانی سرگرمیاں جیسے واک، جم، یوگا، باغبانی، کھیل یہ سب کارٹیسول کم کرتے ہیں اور موڈ بہتر کرتے ہیں۔

6. ذہنی دباؤ کے دوران 20 منٹ کا فارمولہ، جب کھانے کا شدید دل کرے تب کوئی کتاب پڑھیں، موسیقی سنیں، فون پر کسی سے بات کریں، باہر تھوڑی دیر ٹہلیں، 20 منٹ بعد craving ختم ہو جاتی ہے۔

7. جذبات کو قبول کریں اپنے آپ کو بتائیں ہاں، میں دباؤ میں ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں کھانے کی طرف مائل ہوں۔ یہ پہلا قدم ہے۔

8. ازدواجی سکون کی اہمیت گھریلو ماحول، خصوصاً شادی شدہ زندگی کے جھگڑے بھی جذباتی کھانے کا سبب بنتے ہیں۔ کمرے کا سکون، مالی اتفاق، بچوں کی تربیت یہ سب ذہنی صحت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ذہنی دباؤ ایک حقیقت ہے۔ یہ جسم اور دماغ دونوں کو متاثر کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں کھانے کی عادت بدل جاتی ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ چکر توڑا جا سکتا ہے۔ صحت مند غذا، مناسب نیند، ورزش، ذہنی سکون کے طریقے، مثبت رویّے اور ماحول—یہ سب کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ذہن اور جسم کے پیغامات کو سننا سیکھ جائیں تو نہ صرف ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے بلکہ overeating، موٹاپا اور دوسرے مسائل سے بھی نجات مل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں