ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور شناختی کارڈ بلاک

ٹریفک قوانین 0

ای چالان نہ بھرنے کی صورت میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بی فارم اور گاڑی ٹرانسفر جیسی اہم سرکاری سہولتیں بند ہو سکتی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی ضروری ہے۔

ای چالان کے حوالے سے اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ جرمانے بہت زیادہ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی ہمیشہ سزا کی مستحق ہوتی ہے اور اس سزا کا تعین حکومت کرتی ہے۔ جرمانے کا مقصد عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ انہیں قانون کی پابندی کی طرف لانا ہے تاکہ سڑکیں محفوظ رہیں اور حادثات میں کمی آئے۔ اگر قوانین کی پاسداری کی جائے تو نہ چالان بنتے ہیں اور نہ ہی کوئی اضافی پریشانی پیدا ہوتی ہے۔

ہماری بے احتیاطی اکثر بڑے نقصانات کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایااللہ تعالی چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ دیکھیں چور معمولی چیز چراتا ہے اور ہاتھ جیسے قیمتی عضو سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ چھوٹی سی کوتاہی بھی بڑی سزا کا باعث بن سکتی ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی بظاہر معمولی لگتی ہے مگر اس کے نتیجے میں جان لیوا حادثات اور قیمتی نقصانات جنم لیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور اس کا نقصان

یہ جرمانے کسی ٹیکس کی طرح نہیں کہ جسے کم کرنے کی درخواست کی جائے، بلکہ یہ سزا ہے تاکہ لوگ دوبارہ وہ غلطی نہ دہرائیں۔ اگر سزائیں نرم ہو جائیں تو قانون شکنی بڑھ جائے گی، اس لیے سختی ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں کو ذمہ دار بناتی ہے اور انہیں قواعد کی پاسداری پر مجبور کرتی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ ای چالان کی عدم ادائیگی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ جب تک ڈرائیور اپنا ای چالان ادا نہیں کرتے، وہ قومی شناختی کارڈ کی تیاری یا ترمیم جیسی سہولت سے محروم رہیں گے۔ اسی طرح گاڑی کی ایکسائز ٹرانسفر، پاسپورٹ، بی فارم اور کریکٹر سرٹیفیکیٹ جیسی اہم خدمات بھی دستیاب نہیں ہوں گی۔ یعنی ای چالان صرف سڑکوں کی بہتری کا نظام نہیں، بلکہ شہری ذمہ داری کی ایک اہم کڑی ہے جسے نظرانداز کرنے سے متعدد ضروری سہولیات رک سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں