ای چالان کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

ای چالان 0

ای چالان ایک الیکٹرانک ٹریفک چالان ہے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں خودکار طریقے سے جاری ہوتا ہے۔ یہ چالان پولیس اہلکار کی مداخلت کے بغیر جدید کیمروں کی مدد سے تیار ہوتا ہے، اور بعد میں گاڑی کے مالک کے گھر ارسال کر دیا جاتا ہے۔

کیا ای چالان ہماری زندگی بدل سکتا ہے؟ کیا یہ شہری نظم و ضبط بحال کر سکتا ہے؟ کیا یہ حادثات کم کر سکتا ہے؟ کیا یہ رشوت کا خاتمہ کر سکتا ہے؟ کیا یہ ہمیں مزید مہذب شہری بنا سکتا ہے؟

ای چالان دراصل صرف ایک چالان نہیں بلکہ ملک میں ٹریفک اصلاحات کے ایک نئے دور کی علامت ہے۔ایک ایسا دور جہاں نظم و ضبط انسان نہیں بلکہ ایک خودکار نظام نافذ کرتا ہے؛ جہاں موقع پر بحث نہیں ہوتی، جہاں رشوت کا دروازہ بند ہوتا ہے، جہاں ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا ہے، اور جہاں جرمانہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جس نے واقعی غلطی کی ہے۔

اسی نظام کا اثر 2018 میں اس وقت نظر آیا جب پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نے لاہور میں آٹھ ہزار سے زائد جدید نگرانی کیمرے نصب کیے اور ایک ایسا مربوط نظام بنایا جس میں ہر جرم، ہر خلاف ورزی، ہر حرکت کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوتی رہی۔ یہی نظام آگے چل کر کراچی تک پہنچا، جہاں پہلے ہی دن صرف چھ گھنٹوں میں 2662 ای چالان جاری ہوئے اور سوا کروڑ سے زائد رقم جرمانوں کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ تعداد صرف ایک دن کا ریکارڈ نہیں بلکہ شہریوں کے رویوں میں پائی جانے والی گہری بے احتیاطی اور بد نظمی کا ثبوت بھی ہے۔

یہ نظام عام چالان سے کئی لحاظ سے بہتر ہے، پولیس کا اختیاری کردار ختم، رشوت خوری میں کمی، غلط چالان کی شرح میں کمی، ڈرائیور کی تصویر + گاڑی کا نمبر بطور ثبوت، گھر بیٹھے ادائیگی،  چالان کا خودکار ریکارڈ۔

پنجاب میں اسے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (PSCA) نے متعارف کروایا، جبکہ سندھ میں کراچی جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر کے لیے یہ نظام ایک حقیقی ضرورت بن چکا تھا۔

ٹریفک مسائل کی اصل جڑ اور ای چالان کا کردار

پاکستان میں ٹریفک افراتفری کی وجوہات بہت زیادہ ہیں، لیکن چند مسائل ای چالان کے ذریعے مؤثر طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں

1. خلاف ورزیوں کا عام ہونا، سرِعام سگنل توڑنا، غلط لین میں گاڑی چلانا، ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا، بیک ویو مرر نہ لگانا، حد رفتار سے تجاوز کرنا،یہ سب معمول بن چکا ہے۔ ہمارے شہروں میں ڈرائیونگ ایک ذمہ داری کے بجائے اک دوڑ بن چکی ہے۔ ہر شخص جلدی میں ہے اور کوئی بھی قانون کی پابندی کو اہم نہیں سمجھتا۔ اس بے احتیاطی کا مُکمل علاج صرف ای چالان ہے، کیونکہ یہ فیصلہ انسان کی مرضی نہیں بلکہ مشین کی آنکھ کرتی ہے۔

2. ہیوی گاڑیوں کی بلا روک ٹوک آمد و رفت، کراچی میں یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ممنوعہ اوقات کے باوجود ڈمپر، ٹرالر، ٹینکر، اور دیگر بھاری گاڑیاں سڑکوں پر گھومتی رہتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی غلطی کئی جانیں لے سکتی ہے۔ ای چالان اس معاملے میں ایک مضبوط حل ہے کیونکہ کیمرہ نہ سفارش سنتا ہے نہ رشتہ داری۔ خلاف ورزی ہوئی؟ چالان جاری!

3. موٹر سائیکل سواروں کی بد احتیاطی، چین کور نہ ہونا، بیک ویو مرر غائب، ہیلمٹ استعمال نہ کرنا، خواتین کے دوپٹے چین میں پھنس کر جان لیوا حادثات، نوجوانوں کا کرتب بازی کرنا، یہ سب وہ مسائل ہیں جو صرف سخت اور مسلسل نگرانی سے کم کیے جا سکتے ہیں، جو ای چالان سسٹم فراہم کرتا ہے۔

4. رشوت ستانی کا مستقل خاتمہ، پہلے ٹریفک اہلکار موقع پر جرمانہ معاف کر کے رقم اپنی جیب میں ڈال لیتے تھے۔ شہری بھی یہی چاہتے تھے کہ پیسے کم جائیں اور قانون سے بچ جائیں۔ مگر جب چالان گھر آتا ہے، کوئی بحث نہیں، کوئی سفارش نہیں، کوئی مک مکا نہیں، یہ شفافیت پاکستان جیسے ملک میں کسی نعمت سے کم نہیں۔

ای چالان سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

یہ نظام جدید ٹیکنالوجی، کیمرے اور ڈیٹا بیس کی مدد سے منسلک ہے۔

1. کیمرے خلاف ورزی ریکارڈ کرتے ہیں، ہر سگنل، چوک اور اہم سڑک پر جدید HD کیمرے نصب ہیں۔ یہ کیمرے،گاڑی کا نمبر، ڈرائیور کی تصویر، خلاف ورزی کی قسم، وقت اور مقام، سب کچھ محفوظ کرتے ہیں۔

2. نادرا اور ایکسائز ڈیٹا سے مالک کا سراغ، کیمرے نمبر پلیٹ پڑھتے ہیں۔ نظام خود بخود نادرا اور ایکسائز کے ڈیٹا سے متعلقہ مالک کا پتہ اور شناخت حاصل کرتا ہے۔

3. چالان گھر بھیج دیا جاتا ہے،رپورٹ تیار ہوتی ہے، تصویر منسلک ہوتی ہے، اور چالان ڈاک کے ذریعے گھر پہنچ جاتا ہے۔

4. جرمانہ ادا نہ کیا جائے تو ریکارڈ بلاک ہو جاتا ہے،گاڑی فروخت، ٹرانسفر یا لائسنس کے مراحل تب تک ممکن نہیں جب تک تمام چالان ادا نہ ہوں۔

ہم اپنا ای چالان آن لائن کیسے چیک کرسکتے ہیں؟

اگر کوئی شہری گھر بیٹھے اپنا ای چالان دیکھنا چاہے تو طریقہ انتہائی آسان ہے۔

 سرکاری ویب سائٹ پر جائیں echallan.psca.gop.pk اپنی تفصیلات درج کریں،شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، یا چیسس نمبر پھرچالان کی تفصیل دیکھیں بٹن پر کلک کریں، خلاف ورزی کی تاریخ، مقام، جرمانے کی رقم، تصویر بطور ثبوت۔ موبائل ایپ کے ذریعے بھی یہی سہولت موجود ہے۔

PSCA Public Safety App میں آپ اپنا ریکارڈ ہر وقت چیک کر سکتے ہیں۔

ای چالان کی ادائیگی بھی انتہائی آسان ہے۔ ایزی پیسہ، جاز کیش، بینک ایپس، یا بینک آف پنجاب کی برانچ سے آپ آسانی سے جمع کروا سکتے ہیں۔

ادائیگی کے بعد سسٹم خود بخود اپڈیٹ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اگر  غلط چالان ہو جائے تو؟ یہ وہ مسئلہ ہے جو عوام کو سب سے زیادہ پریشان کرتا ہے۔ لیکن ای چالان میں غلطی کی شکایت کا نظام بھی بے حد آسان ہے۔ PSCA ویب سائٹ پر جائیں، تصاویر یا ویڈیوز ثبوت کے طور پر اپلوڈ کر کے درخواست درج کروائیں۔

درخواست ملتے ہی ٹیم موقع پر تصدیق کرتی ہے اور غلط چالان فوری منسوخ کر دیا جاتا ہے۔

ای چالان کے فوائد

پہلے شہری ٹریفک پولیس کو الزام دیتے تھے کہ وہ چالان نہیں کرتے۔ پھر کہتے تھے کہ وہ ناجائز چالان کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لا متناہی جھگڑا تھا جو دہائیوں تک ختم نہ ہوا۔ لیکن ای چالان کے بعد صورتحال بدل گئی۔

بحث ختم، پسند ناپسند ختم، سفارش ختم، چھوٹ ختم۔ اب صرف قانون ہے، اور کیمرہ ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔

ای چالان نے شہریوں کو آہستہ آہستہ پہلے سے زیادہ ذمہ دار بنایا ہے۔ اب لوگ جانتے ہیں کہ اگر اشارہ توڑیں گے تو چالان ہو کر رہے گاچاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ۔

سیف سٹی منصوبے کے کیمرے صرف ٹریفک کے لیے نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

لاہور میں دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کے بعد انہی کیمروں کی مدد سے سہولت کار کی شناخت ممکن ہوئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نظام صرف ٹریفک نہیں بلکہ شہری تحفظ کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ای چالان کے بڑے اور طویل المدت فوائد بھی ہیں۔

جب ہر موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے، جب ہر گاڑی رفتار کی حد میں رہے، جب ہر ٹرک اپنے وقت کی پابندی کرے تو حادثات کم ہونا فطری بات ہے۔

 ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے۔ غلط لین، غلط پارکنگ، یا سگنل توڑنے کی وجہ سے ٹریفک جام ہوتا ہے۔ ای چالان نے اس کو بڑی حد تک کم کیا ہے۔

شہری تربیت اور اخلاقی بہتری، جب قانون ہر ایک پر یکساں لاگو ہوتو یہ شفافیت شہریوں کا اعتماد بڑھاتی ہے۔  شہری خودکار طور پر مہذب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ 

پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں، مسئلہ ہمیشہ نفاذ کا رہا ہے۔ ای چالان وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے نفاذ کو خودکار، غیر جانب دار اور ناقابلِ بحث بنا دیا۔ جب کیمرہ ہر چیز دیکھ رہا ہے تو شہری بھی خود کو دیکھنے لگتے ہیں۔ یہی اصل تبدیلی ہے۔ یہ محفوظ، شفاف اور جدید پاکستان کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

ای چالان ہماری زندگی صرف آج نہیں بلکہ آنے والے سالوں تک بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ محض ایک جرمانہ نہیں، یہ شعور ہے، یہ نظم و ضبط ہے، یہ شفافیت ہے، یہ انصاف ہے، یہ جدیدیت ہے، یہ امن ہے، اگر یہ نظام پورے ملک میں مکمل طور پر نافذ ہو جائے تو ٹریفک حادثات، بد نظمی، رشوت، اور جرائم میں کمی یقینی ہے۔

اور یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب ہم سب دیکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں