ہمدردی وہ صفت ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے

ہمدردی وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے اور اس کے ازالے کے لیے اپنی توانائیاں استعمال کرتا ہے۔ 0

ہمدردی کا لفظ محض احساسِ افسوس یا کسی کے لیے اچھا سوچنے سے زیادہ گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ ہمدردی وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے اور اس کے ازالے کے لیے اپنی توانائیاں استعمال کرتا ہے۔

دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہے، بلکہ اس لیے کہ اس میں احساس ہے، نرم دلی ہے، محبت ہے، اور سب سے بڑھ کر ہمدردی ہے۔ یہی وہ جذبات ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستے دکھاتی ہے۔ یہی وہ خوشبو ہے جو دلوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتی ہے۔

ہمدردی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ ایک پوری طرزِ زندگی ہے۔ایک ایسا رویہ جو انسان کو دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے، ان کی تکلیف کم کرنے، ان کے لیے قربانی دینے، ان کے ساتھ خیرخواہی برتنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کی قدرت عطا کرتا ہے۔

انسانی تاریخ میں اگر کوئی جذبہ سب سے زیادہ قیمتی، سب سے زیادہ اثر انگیز اور سب سے زیادہ پاکیزہ سمجھا گیا ہے تو وہ ہمدردی ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ ہمدردی نہ صرف روحانی اور اخلاقی لحاظ سے بلند ترین مقام رکھتی ہے بلکہ معاشروں کی تعمیر، دلوں کی اصلاح، تعلقات کی مضبوطی اور اللہ کی رضا کے حصول کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔

یہ وہ روشنی ہے جو اندھیری زندگیوں میں امید کی کرن بن کر اُبھرتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ہمدردی کا جذبہ ماند پڑ جائے تو تعلقات کھوکھلے، دل سخت، رویے سرد اور دلوں میں فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جہاں ہمدردی سانس لیتی ہے، وہاں محبت، خیر خواہی اور ایک دوسرے کے لیے جینے مرنے کی طاقت بھی پیدا ہوتی ہے۔

ہمدردی میں تین بنیادی عناصر شامل ہیں

احساس  دوسرے کے درد یا پریشانی کا شعور۔ جذبہ  دل میں وہ نرم احساس جو مدد کے لیے ابھارتا ہے۔ عمل کسی نہ کسی صورت میں اس تکلیف کو کم کرنے کی کوشش۔صرف احساس ہمدردی نہیں۔ صرف جذبات ہمدردی نہیں۔ اصل ہمدردی وہ ہے جس میں انسان قدم اٹھاتا ہے۔

اسلام میں ہمدردی کو صرف جذبات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے عملی عبادت کا حصہ بنایا گیا ہے۔

خطیب بغدادی کی مشہور کتاب تاریخ بغداد میں امام واقدی کے بارے ایک ایسا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو ہمدردی اور ایثار کا شاہکار ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایمان تازہ کر دیتا ہے بلکہ انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ آخر وہ لوگ کون تھے جن کے سینے اس قدر نور اور وسعت کے مالک تھے؟

امام واقدیؒ کے گھر عید سے کچھ دن پہلے شدید مالی پریشانی تھی۔ گھر والوں نے پیغام بھیجا عید قریب ہے، اور گھر میں کچھ بھی نہیں۔ بڑے تو صبر کر لیں گے، مگر بچے بھلا کس طرح عید منائیں گے؟ یہ سن کر آپ ایک تاجر دوست کے پاس گئے۔ وہ آپ کی حالت دیکھتے ہی سمجھ گیا اور سربمہر بارہ سو درہم کی ایک تھیلی آپ کے ہاتھ میں رکھ دی۔

آپ گھر لوٹے ہی تھے کہ ایک ہاشمی دوست آیا جو خود سخت غربت میں مبتلا تھا۔ وہ قرض کے لیے آیا تھا۔ گھر جا کر آپ نے اہلیہ کو سارا معاملہ بتایا اور کہا کہ آدھے پیسے دے دیتے ہیں۔ دونوں کا کام ہو جائے گا۔ مگر اس عظیم خاتون نے جواب دیا آپ نے ایک عام آدمی سے قرض لیا، اس نے بارہ سو درہم دیے۔ اور اپنے دوست کے لیے نصف رقم؟ نہیں، پوری تھیلی اسے دے دیجیے۔ جو اللہ کی رضا کی خاطر دیتا ہے، وہ گھاٹے میں نہیں رہتا۔ آپ نے وہ تھیلی چہرہ دیکھے بغیر اس دوست کے حوالے کر دی۔

دوست تھیلی لے کر گھر گیا ہی تھا کہ آپ کا وہی تاجر دوست اسی کے گھر قرض لینے گیا۔ ہاشمی دوست نے سوچے بغیر وہی تھیلی اسے دے دی۔جب تاجر دوست نے تھیلی پہچانی تو حیران رہ گیا۔ وہ فوراً واقدیؒ کے پاس پہنچا اور سارے معاملے کی حقیقت سامنے آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب تین گھروں میں شدید تنگی تھی—مگر تینوں نے ایک دوسرے کو ترجیح دی۔ اللہ نے ان کے خلوص کو یوں ضائع نہ ہونے دیا۔

جب یہ خبر وزیر یحییٰ بن خالد تک پہنچی تو وہ دس ہزار دینار لے کر آئے اور کہا: دو ہزار امام واقدیؒ کے، دو ہزار ہاشمی دوست کے، دو ہزار تاجر دوست کے، اور چار ہزار اس عظیم خاتون کے لیے جن کا دل سب سے بڑا تھا۔

یہ وہ لوگ تھے جن کے کردار نے اسلام کو زندہ رکھا۔ ان کے اخلاق دیکھ کر غیر مسلم اسلام قبول کرتے تھے۔

اسلام کا پورا معاشرتی نظام ہمدردی، محبت اور تعاون پر قائم ہے۔

قرآن فرماتا ہے، وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود سخت ضرورت میں ہوں۔ (الحشر: 9)

یہ آیت اُس واقعے کے بعد نازل ہوئی جب ایک انصاری صحابی نے اپنا کھانا مہمان کے لیے بچّوں کے حصے سمیت قربان کر دیا۔ یہ ہمدردی نہیں بلکہ ایثار تھا۔ ہمدردی کی اعلیٰ ترین شکل، جہاں انسان اپنی ضرورت پر بھی دوسروں کو ترجیح دیتا ہے۔

پیغمبرِ اسلام ﷺ نے فرمایا،جو مسلمان کی دنیاوی پریشانی دور کرتا ہے، اللہ اس کی آخرت کی پریشانی دور کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے ہمدردی کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ فرمایا،اللہ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (مسلم)

ایک مرتبہ حضرت ابن عباسؓ مسجد نبوی میں اعتکاف میں تھے۔ ایک پریشان شخص آیا جس پر قرض تھا۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کیا میں تیرے قرض خواہ سے بات کروں؟ اس نے کہا جی شاید ہو سکتا ہے، آپ کی سفارش سے وہ مجھ پر نرمی کرے اور تھوڑی مہلت  دے دے۔

آپ مسجد سے باہر نکلے تو اس نے کہاآپ تو اعتکاف میں تھے۔ آپ نے جواب دیا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جو اپنے بھائی کی ضرورت میں کوشش کرتا ہے، وہ عمل دس سال کے اعتکاف سے افضل ہے۔

یہ ہمدردی کا وہ معیار ہے جو صحابہ نے سیکھا اور دنیا کو دکھایا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایااللہ بندے کی مدد اُس وقت تک کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔

یہ جملہ بتاتا ہے کہ ہمدردی صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اللہ کی نصرت کو اپنی طرف کھینچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اسی طرح ایک اور فرمان ہے، جو کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانی دور کرے گا، اللہ اس کی آخرت کی پریشانی دور کرے گا۔

اور جو اللہ کی بارگاہ میں آخرت کی پریشانی سے بچ گیا، وہ سب سے کامیاب انسان ہے۔

یعنی ہمدردی صرف دنیا کا سودہ نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کا عظیم ذریعہ بھی ہے۔

اجمیر میں ایک کسان خواجہ غریب نوازؒ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ سلطان التمش کے کارندے اس کی زمین چھین رہے ہیں۔ آپ نے فوراً سفر کی تیاری کی اور خود دہلی تشریف لے گئے کہ مظلوم کی سفارش کریں۔ اور فرمایا جو بندوں کی مدد کرتا ہے، اللہ کی رحمت بھی اسی پر رہتی ہے۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ولایت لمبے لمبے سجدے اور ساری رات عبادت سے ملتی ہے ۔ بلکہ اصل ولایت یہ ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچاۓ اورمخلوقِ خدا کی خدمت کرے۔

ہمدردی کے روحانی، نفسیاتی اور سائنسی فوائد

ہمدردی صرف اخلاق کا حصہ نہیں، یہ انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی صحت کے لیے حیرت انگیز فوائد رکھتی ہے۔

1. ہمدردی خوشی بڑھاتی ہے جب انسان کسی کی مدد کرتا ہے تو جسم کے اندر ڈوپامین اور آکسیٹوسن نامی خوشی کے ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وہ کیمیکل ہیں جو انسان کو سکون، لطف، اعتماد اور اندرونی خوشی عطا کرتے ہیں۔

2. تناؤ کم ہوتا ہے،تحقیقات کے مطابق ہمدردی کرنے والے لوگوں میں۔کورٹیسول 23% تک کم ہوجاتا ہے۔DHEA ہارمون 100% تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ دونوں عوامل انسان کو نوجوان رکھنے، ذہنی تناؤ کم کرنے اور عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

3. تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، ہمدردی کے ذریعے دل قریب آتے ہیں، غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں، اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ محبت کی جڑوں کو پانی دیتی ہے اور نفرت کے بیجوں کو ختم کرتی ہے۔

4. اللہ کی نصرت اور رحمت حاصل ہوتی ہے،جس کے دل میں اللہ کی مخلوق کے لیے جگہ ہو، اس کے لیے اللہ کے ہاں خاص مقام ہوتا ہے

ایک خدا ترس شخص حج کے لیے جا رہا تھا۔ بغداد کے بازار میں زادِ راہ خرید رہا تھا کہ اچانک اس نے ایک بڑھیا  کو مردہ مرغی اٹھاتے دیکھ لیا۔ وہ حیران ہوا، اس نے بڑھیا کا پیچھا کیا اور اس سے اس کی وجہ پوچھی تو بڑھیا نے بتایا میرے بچے تین دن سے فاقے میں ہیں۔ میرے پاس ان کو دینے کیلیے کوئی چیز نہیں تھی۔ ان کی جان بچانے کے لیے یہ مرغی اٹھائی ہے۔

اس نیک شخص نے سارا حج خرچ بڑھیا کے حوالے کیا اور حج چھوڑ کر گھر واپس ہو گیا۔

جب قافلہ واپس آیا تو سب اسے مبارک دینے لگے کہ “آپ کا حج قبول ہو گیا۔ اس نے حیران ہو کر کہا میں تو گیا ہی نہیں تھا۔انہیں بتایا گیا کہ اللہ نے اس کی ہمدردی کو حج سے افضل قبولیت عطا فرما دی۔

اسلام نے ہمدردی کی بہت سی صورتیں بتائی ہیں

بیمار کی عیادت، غم زدہ کی دلجوئی، رشتہ داروں کی مدد، مسلمانوں کی خیر خواہی، مظلوم کی حمایت، قرض دار کی سہولت، غریب کی مدد، ضرورت مند کو سہارا، پردہ پوشی، نیکی کی ترغیب

یہ سب ہمدردی کی شکلیں ہیں، اور ہر ایک کا اجر بے حساب ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ انسان، رنگ، مذہب، نسل سے پہلے انسان ہے۔ اور انسان ہونے کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ دوسرے کے کام آئے۔ ہمدردی وہ خوشبو ہے جو دینے والے کے ہاتھ میں بھی رہتی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو راستے میں دوسروں کو بھی دکھائی دیتی ہے اور اپنے دل کو بھی روشن کرتی ہے۔ اگر ہر شخص روز صرف ایک نیکی، ایک ہمدردانہ عمل، ایک رحم کا لمحہ دے دے تو دنیا بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں