یہ سبق آموز کہانی ایک ایسے بادشاہ کی ہے جو جانتا تھا کہ اقتدار اور بادشاہت عارضی ہے مگر اس کی دانائی نے موت کے جزیرے کو زندگی کی جنت بنا دیا۔
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک عجیب و غریب ملک تھا، جو دنیا کے ایک گوشے میں سمندر کے بیچوں بیچ بسا ہوا تھا۔ وہاں کے لوگوں کا ایک منفرد اصول تھا۔ وہ ہر سال اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ یہ رواج صدیوں سے چلا آرہا تھا، اور کوئی اسے بدلنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ نئے بادشاہ سے عہد لیا جاتا کہ ایک سال مکمل ہونے کے بعد وہ تخت و تاج چھوڑ دے گا، اور اُسے ہمیشہ کے لیے ایک ویران جزیرے پر بھیج دیا جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔
یہ جزیرہ خوف اور موت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وہاں نہ انسان بستے تھے، نہ بستیوں کے آثار۔ صرف جنگلی جانور، خاموش درخت، اور سمندر کی چیختی لہریں۔ جب بھی بادشاہ کی مدت پوری ہوتی، اُس دن پورے ملک میں سوگ کی سی کیفیت چھا جاتی۔ بادشاہ کو ریشمی لباس پہنایا جاتا، سونے کے ہاتھی پر بٹھایا جاتا، اور پورے شہر میں جلوس نکالا جاتا۔ رعایا آبدیدہ ہوکر اُسے الوداع کہتی، اور پھر وہ قافلہ اُسے جزیرے پر چھوڑ آتا، جہاں اُس کا انجام ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن جاتا۔
ایک سال جب پرانے بادشاہ کو جزیرے پر چھوڑا جا رہا تھا، واپس آتے وقت اہلِ ملک نے سمندر کے بیچ ایک تباہ شدہ جہاز دیکھا۔ لہروں پر لکڑی کے ایک تختے سے لپٹا ایک نوجوان موت و زندگی کی کشمکش میں تھا۔ لوگوں نے اُسے بچایا، پانی پلایا، اور جب ہوش آیا تو اُس نے حیرت سے اردگرد دیکھا ایک انجان چہرے، ایک انجان ملک۔
عارضی بادشاہت
وزیروں نے مشورہ کیا کہ چونکہ اب نئے بادشاہ کی ضرورت ہے، تو کیوں نہ اسی نوجوان کو بادشاہ بنا دیا جائے؟ وہ نوجوان پہلے تو گھبرا گیا، مگر جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ بادشاہت صرف ایک سال کی ہے، تو وہ مسکرا دیا۔ زندگی بچی ہے، ایک سال کی بادشاہی کیوں نہ کر لوں؟ اُس نے دل میں سوچا۔
یوں وہ جوان ایک سال کے لیے بادشاہ بن گیا۔
بادشاہی کے تیسرے دن اُس نے اپنے وزیرِ اعظم سے پوچھا، مجھے وہ جزیرہ دکھاؤ جہاں میرے پیش روؤں کو بھیجا گیا۔
وزیر نے حیرت سے دیکھا اور کہا۔ بادشاہ سلامت! وہاں جانا مناسب نہیں۔ وہ مقام موت کی وادی ہے۔
میں وہاں ضرور جاؤں گا، نوجوان باشاہ نے پُرعزم لہجے میں کہا۔
کئی دنوں کے سفر کے بعد بادشاہ اُس جزیرے پر پہنچا۔ وہ واقعی ایک وحشی جنگل تھا۔ درختوں کے بیچ درندوں کی دھاڑ گونجتی تھی۔ وہ کچھ دور گیا تو اُسے انسانی ڈھانچے نظر آئے پچھلے بادشاہوں کے! وہ لرز گیا۔
تو یہی انجام میرا بھی ہونا ہے؟ اُس نے دل میں کہا۔ مگر فوراً ہی اُس کے اندر کوئی چنگاری بھڑک اٹھی۔ نہیں، میں اپنی تقدیر خود لکھوں گا۔
ملک واپس آکر اُس نے فوراً سو طاقتور مزدور بلائے۔ اُنہیں حکم دیا کہ اُس جزیرے پر جا کر جنگل صاف کریں، خطرناک درندے مار دیں، اور وہاں رہائش کے لیے زمین تیار کریں۔
وہ ہر ہفتے خود وہاں جا کر کام دیکھتا۔ مزدور دن رات محنت کرتے رہے۔ ایک ماہ میں جنگل صاف ہو گیا، دوسرے مہینے میں باغات لگنے لگے۔ تیسرا مہینہ آیا تو گھر تعمیر ہونے لگے۔
اُس نے وہاں گائیں، بکریاں، مرغیاں، درختوں کے بیج اور کاریگر بھیج دیے۔ آہستہ آہستہ وہ مقام جنت کا منظر پیش کرنے لگا۔ ندیوں کے کنارے روشنیوں کے چراغ جلے، باغوں میں پھول کھلے، اور پرندے چہکنے لگے۔
وہ بادشاہ شاہی محل میں کم ہی رہتا۔ سادہ لباس پہنتا، اپنے لیے شاہانہ دعوتوں سے گریز کرتا۔ دربار میں بھی عام لوگوں کے درمیان بیٹھتا۔ اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ اُس جزیرے کی تعمیر پر خرچ کرتا رہا۔
لوگ اُس کے انصاف، رحم دلی اور تدبر سے حیران تھے۔ کسی نے ایسا بادشاہ پہلے نہیں دیکھا تھا جو اپنی بادشاہت میں اتنا انصاف پسند ہو۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ ایک سال گزرنے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟ ایک دن وزیر نے بادشاہ سے کہا، جہاں پناہ! روایت کے مطابق اب آپ کو چند دنوں کے بعد جزیرے کیلیے روانہ کیا جائے گا۔
عوام سوگوار تھی، مگر بادشاہ کے چہرے پر ایک انوکھی مسکراہٹ تھی۔ جلوس نکلا، ہاتھی سجا، ساز بجے، مگر بادشاہ کی مسکراہٹ کم نہ ہوئی۔
ایک بوڑھے وزیر نے پوچھا، بادشاہ سلامت! آپ اتنے خوش کیوں ہیں؟ حالانکہ آپ کو ایک حساب سے تو موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اِس وقت باقی سب بادشاہ تو روتے تھے۔
نوجوان باشاہ مسکرایا اور کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے موت سے پہلے زندگی کا راز پا لیا ۔
لوگ خاموش ہو گئے۔ بادشاہ بولا:
میں نے سنا تھا کہ انسان اس دنیا میں روتے ہوئے آتا ہے اور لوگ ہنستے ہیں۔ مگر ایسی زندگی جیو کہ جب تم جاؤ تو تم ہنس رہے ہو اور لوگ رو رہے ہوں۔ میں نے وہی زندگی گزاری ہے۔
انسان کو اپنی زندگی کے آخری جزیرے کے لیے پہلے سے تیاری کرنی چاہیے۔ عیش و عشرت کی محلوں میں رہ کر مستقبل کو بھول جانا دانشمندی نہیں۔ کامیاب وہی ہے جو آج کی راحت کے بجائے کل کی حقیقت کو دیکھے۔
یہ بادشاہ دراصل ایک علامت ہے عقل، صبر اور تدبر کی۔ اُس نے اپنی حکومت کو وقتی اقتدار کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اُس نے اسے مستقبل کی بنیاد بنانے کا ذریعہ سمجھا۔ یہی انسان کی اصل دانش ہے۔
جب وہ جزیرے پر پہنچا تو وہاں اب کوئی وحشی جنگل نہیں تھا، بلکہ ایک خوبصورت شہر بس چکا تھا۔ درختوں کی چھاؤں، پھولوں کی خوشبو، اور پرندوں کی آوازیں اُس کے استقبال میں تھیں۔
اُس نے ریت پر بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھا، دل ہی دل میں شکر ادا کیا میں نے جلاوطنی کو جنت بنا لیا۔