2026 میں غربت کے اسباب اور ان کے مؤثر حل

غربت کے اسباب اور ان کے مؤثر حل 0

ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان میں ہر تیسرا شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح اور بے قابو آبادی نے لاکھوں لوگوں کو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے سے بھی محروم کر دیا ہے۔

دنیا میں غربت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ جس معاشرے میں انسان بھوک، بیروزگاری اور محرومی کے اندھیروں میں زندگی بسر کرے، وہاں نہ صرف امید دم توڑتی ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی قدریں بھی ماند پڑنے لگتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر غربت بڑھ کیوں رہی ہے؟ کیا یہ محض معاشی مسئلہ ہے یا ایک سماجی اور اخلاقی بحران بھی؟ اور سب سے بڑھ کر، اس مسئلے کا حل کہاں سے شروع کیا جائے؟ اس غربت کے اسباب کیا ہیں ؟

دنیا کے ہر ملک میں غربت ایک سنگین مسئلہ کے طور پر موجود ہے، مگر جنوبی ایشیا کے ممالک  خصوصاً پاکستان  میں اس کی شدت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ حالیہ عالمی اور ملکی معاشی بحرانوں، مہنگائی، بیروزگاری، کمزور حکومتی حکمتِ عملیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

غربت کی جڑیں

پاکستان سمیت بیشتر ترقی پذیر ممالک میں غربت صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ ایک ایسا جال ہے جو تعلیم، صحت، روزگار، سماجی انصاف اور حکومتی نظام کی کمزوریوں سے مل کر بنتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں قدرتی وسائل بے شمار ہیں، غربت کی بڑھتی ہوئی شرح ایک لمحہ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جنہوں نے ہمیں اس حالت تک پہنچایا؟ اور ہم بطور قوم اس دلدل سے نکلنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

غربت کے اسباب

اگر ہم غیر جانبداری سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ غربت کا سب سے بڑا سبب صرف دولت کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ چند خاندانوں کے پاس دولت کے انبار ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ زمینیں، فیکٹریاں، اور کاروبار ایک مخصوص طبقے کی ملکیت ہیں۔ یہی طبقہ ملکی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے، اور نتیجہ یہ کہ دولت اوپر کے طبقے میں گردش کرتی رہتی ہے جبکہ نچلے طبقے کا حصہ صرف مایوسی رہ جاتی ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : تاکہ یہ مال تمہارے امیروں کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ (سورۃ الحشر، آیت 7)

یہ آیت دراصل ایک مکمل معاشی فلسفہ ہے۔ جب دولت کا بہاؤ چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے تو معاشرے میں طبقاتی تقسیم پیدا ہوتی ہے، اور یہی تقسیم غربت کی بنیاد بنتی ہے۔

پاکستان کی آبادی ہر سال کئی لاکھ کے اضافے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ یہ اضافہ وسائل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ جب روزگار، تعلیم اور صحت کے مواقع محدود ہوں اور آبادی تیزی سے بڑھے، تو غربت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے چین نے بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ اس نے آبادی کو قابو میں رکھتے ہوئے تعلیم اور صحت پر توجہ دی، اور آج وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

اسلام بھی اعتدال اور ذمہ داری کا سبق دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ (صحیح بخاری)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اولاد صرف خوشی نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم اپنی اولاد کو تعلیم، اخلاق اور بہتر زندگی نہیں دے سکتے تو ہمیں اپنے فیصلوں میں حکمت اور توازن اختیار کرنا چاہیے۔

پاکستان میں غربت کی ایک بڑی وجہ بری طرزِ حکمرانی ہے۔ وسائل موجود ہیں مگر ان کا استعمال درست سمت میں نہیں ہوتا۔

ترقیاتی بجٹ سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے جن سے عام آدمی کا براہِ راست فائدہ نہیں ہوتا۔

تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار جیسے بنیادی مسائل پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ اگر حکومت ان شعبوں پر توجہ دے تو غربت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ دنیا کے جن ممالک نے غربت پر قابو پایا، انہوں نے سب سے پہلے اچھی حکمرانی قائم کی۔

مثلاً چین، ملیشیا، ویتنام اور بنگلہ دیش نے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی، اور آج یہی ان کی ترقی کی بنیاد ہے۔

دنیا کا موجودہ معاشی ڈھانچہ سرمایہ دارانہ اصولوں پر استوار ہے، جہاں دولت کا بہاؤ امیروں کی طرف رہتا ہے۔ غریب طبقہ قرض کی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ بینکنگ سسٹم اس طبقاتی فرق کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ سرمایہ داروں اور بڑی کمپنیوں کو کم شرح سود پر قرضے دیے جاتے ہیں، جبکہ چھوٹے کاروباری افراد یا غریب شہریوں کو سخت شرائط کے ساتھ مہنگے قرضوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔

فرض کریں ایک مزدور نے بھینس خریدنے کے لیے دو لاکھ روپے کا قرض 20 فیصد شرح سود پر لیا، اور چند ماہ بعد وہ جانور مر گیا۔ نقصان کے باوجود بینک قسطیں وقت پر مانگے گا۔ یوں قرض، روزی کا ذریعہ بننے کے بجائے غربت کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ مائیکرو فنانس قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ حکومت اگر ان قرضوں پر بلاسود اسکیمیں متعارف کرائے تو ہزاروں چھوٹے کاروبار زندہ رہ سکتے ہیں۔

اسلام نے اسی لیے سود کو حرام قرار دیا، کیونکہ یہ انسان کی محنت کا استحصال کرتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۃ البقرہ، آیت 276)

اسلام نے غربت کے خاتمے کے لیے جو نظام دیا وہ نہایت منصفانہ اور مؤثر ہے۔ زکوٰۃ، صدقہ، عطیہ اور وقف جیسے تصورات معاشرتی توازن کے ضامن ہیں۔ اگر صاحبِ نصاب افراد اپنی زکوٰۃ ایمانداری سے ادا کریں،

اگر امیر طبقہ اپنی دولت کا ایک حصہ غریبوں کے لیے وقف کر دے، اگر شادیوں اور عیش و عشرت پر خرچ ہونے والے لاکھوں روپے کسی محتاج کے کام آ جائیں، تو معاشرہ خودبخود متوازن ہو سکتا ہے۔

یہی وہ روح ہے جس کی طرف قرآن اور سنت ہمیں بار بار متوجہ کرتے ہیں۔ اسلام میں دولت رکھنا گناہ نہیں، مگر اس کو دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال نہ کرنا ایک اجتماعی جرم ہے۔

سماجی ماہرین کے مطابق، اگر حکومت صرف تین بنیادی شعبوں پر توجہ دے  تعلیم، صحت، اور صاف پانی  تو غربت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں اکثریت غریب گھرانوں کی ہے۔ یہ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے ہوٹلوں، ورکشاپوں اور کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں۔ غربت ان کے تعلیمی سفر کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 

اسی طرح صحت کا شعبہ بھی غریب کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے۔ صحت کے شعبے میں نجی اسپتالوں کا راج ہے، جہاں علاج مہنگا اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے کسی بڑی بیماری کا مطلب ہے کہ وہ برسوں پیچھے چلا جائے۔ اگر حکومت سرکاری اسپتالوں میں معیاری اور مفت علاج فراہم کرے تو یہ بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

اسی طرح  پینے کے صاف پانی کی کمی بھی غربت کو بڑھاتی ہے۔ آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں علاج کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں۔ اگر حکومت بڑے پیمانے پر واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے تو لاکھوں لوگ بیماریوں اور اخراجات سے بچ سکتے ہیں۔

غربت کے خلاف جنگ صرف حکومت نہیں جیت سکتی۔

اس میں عوام کی شرکت ضروری ہے۔ پاکستان میں اخوت، ایدھی اور انجمن فیض الاسلام جیسے ادارے امید کی کرن ہیں۔انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت ہو تو وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ہر خوشحال شخص کسی ایک غریب خاندان کی کفالت کرے، کسی بچے کی تعلیم یا کسی بیوہ کے علاج کی ذمہ داری لے،

تو ہزاروں زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ یہی وہ اجتماعی شعور ہے جو ایک مردہ معاشرے کو زندہ قوم میں بدل دیتا ہے۔

دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستانی نوجوان جدید ٹیکنالوجی، آن لائن روزگار، فری لانسنگ، اور چھوٹے ڈیجیٹل کاروبار میں قدم رکھیں تو غربت کے خلاف ایک نئی راہ کھل سکتی ہے۔ 

کورونا وبا نے دنیا کو یہ سکھایا کہ کام کرنے کے لیے دفتر کی ضرورت نہیں۔ آن لائن تعلیم، کاروبار، اور ملازمت کے مواقع نے غریب طبقے کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل اسکل پروگرامز شروع کرے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ یہی وہ سرمایہ کاری ہے جو مستقبل میں سب سے زیادہ منافع دے گی۔

غربت کے خاتمے کے لیے کسی ایک طبقے یا ادارے پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہے جس میں حکومت، عوام، مذہبی رہنما، تعلیمی ادارے اور میڈیا سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر حکومت انصاف، شفافیت اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنائے، اور عوام اپنے اندر احساسِ ذمہ داری، اخوت اور قربانی پیدا کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اس تاریکی سے روشنی کی طرف نہ بڑھ سکے۔

یہ سفر لمبا ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نیت بھی کریں اور قدم بھی اٹھائیں۔ کیونکہ غربت کے خلاف سب سے پہلا قدم احساس سے شروع ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں