دنیا میں سب سے آسان مگر سب سے خطرناک کام جھوٹ بولنا ہے۔ زبان سے نکلنے والا ایک جملہ، بعض اوقات ایک پورے گھر، خاندان یا معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
بظاہر یہ محض چند الفاظ ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات برسوں تک انسانوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی اور فساد کی دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جھوٹ کو نہ صرف ایک اخلاقی برائی بلکہ گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و سنت نے اس کی مذمت واضح انداز میں بیان کی ہے۔ دوسری طرف جدید نفسیات بھی اس بات پر متفق ہے کہ جھوٹ بولنا محض زبان کی حرکت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کمزوری، خودفریبی اور عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔
عربی میں جھوٹ کو کَذِب کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں واقعے کے برعکس بات کرنا۔ یعنی کسی ایسی بات کو بیان کرنا جو حقیقت کے مطابق نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں جھوٹ کو ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا
مؤمن بزدل ہو سکتا ہے، بخیل بھی ہو سکتا ہے، مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ (موطأ امام مالک)
یہ حدیث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایمان اور جھوٹ کا اکٹھا رہنا ناممکن ہے۔ مومن کا دل جھوٹ کی آلودگی قبول نہیں کرتا۔
قرآنِ کریم میں جھوٹ بولنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَى الْکَاذِبِیْنَ (آل عمران61)
اللہ کی لعنت ہو ان پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔
ایک اور جگہ فرمایا:
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (الإسراء: 36)
جس بات کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو۔
یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ بغیر تحقیق کسی بات کو آگے پھیلانا جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نیت بری نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ (ق: 18)
انسان جو بھی لفظ زبان سے نکالتا ہے، اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو اسے لکھ لیتا ہے۔
یہ آیت انسان کو احساس دلاتی ہے کہ جھوٹ بولنے کا کوئی موقع ایسا نہیں جہاں وہ اللہ کی نگاہ سے چھپ سکے۔
جھوٹ ایمان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم تک پہنچاتی ہے۔ (بخاری)
ایک جھوٹ دوسرے جھوٹ کی بنیاد بنتا ہے، اور انسان رفتہ رفتہ خود اپنے جال میں پھنس جاتا ہے۔ شروع میں وہ صرف دوسروں کو دھوکہ دیتا ہے، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ خود کو دھوکہ دینے لگتا ہے۔
جھوٹ کی پہچان
تحقیقات کے مطابق جھوٹ بولنے والے انسان کے جسم اور چہرے پر کئی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں، مثلاً غیر معمولی ہاتھوں کی حرکت۔ بار بار موضوع بدلنا، سوال کا تاخیر سے جواب دینا، چہرے کا بایاں حصہ زیادہ متحرک ہونا، غیر متوازن مسکراہٹ، بار بار ٹانگ یا پاؤں ہلانا۔
یہ اشارے انسانی ذہن کے دباؤ اور خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ جھوٹ بولتے وقت دماغ بیک وقت کئی عمل انجام دیتا ہے۔ ایک طرف کہانی گھڑتا ہے، دوسری طرف سامنے والے کے ردِعمل کا اندازہ لگاتا ہے۔ یہی دباؤ جسمانی حرکات میں جھلکتا ہے۔ لیکن ان کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔
جھوٹ بولنا اور اس کی نفسیاتی وجوہات
جدید تحقیق کے مطابق انسان جھوٹ کئی وجوہات سے بولتا ہے
خوف کسی نقصان یا سزا کے ڈر سے۔
احساسِ کمتری خود کو بڑا دکھانے کے لیے۔
عادت بعض لوگ مسلسل جھوٹ بول بول کر اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔
مفاد پرستی وقتی فائدے کے لیے دوسروں کو دھوکہ دینا۔
خوشامد دوسروں کو خوش کرنے یا ہنسانے کے لیے جھوٹ گھڑنا۔
امام علیؓ نے فرمایا جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو عزت کو کھا جاتی ہے اور اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔
نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والے افراد کے دماغ میں ایک وقتی سکون پیدا ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اضطراب اور خود ناپسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر خوف اور عدم اعتماد کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔
جھوٹ کے معاشرتی اثرات
جھوٹ صرف انفرادی گناہ نہیں بلکہ سماجی زہر ہے۔
یہ رشتوں میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے، دوست دشمن بن جاتے ہیں، قوموں میں بگاڑ آتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا جھوٹ انسان کو خیانت تک پہنچاتا ہے، اور خیانت ایمان کو زائل کر دیتی ہے۔
جب معاشرے میں جھوٹ عام ہو جائے تو انصاف ختم ہو جاتا ہے، قیادت بےاعتماد ہو جاتی ہے، اور عوام کا نظامِ عدل سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ یہی وہ زوال کی ابتدا ہے جو قوموں کو تباہ کر دیتی ہے۔
جھوٹ کی احادیث کی روشنی میں مضرتیں
جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری)
جھوٹ رحمت کے فرشتوں کو دور کر دیتا ہے۔ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے۔ (ترمذی)
جھوٹ لعنت کا سبب بنتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا اللہ کی لعنت ہو جھوٹوں پر۔ (آل عمران: 61)
جھوٹ جہنم کا راستہ ہے۔ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم تک پہنچاتی ہے۔ (بخاری و مسلم)
اسلام میں جھوٹ کے برعکس سچائی کو نجات کی کنجی قرار دیا گیا ہے۔
قرآن فرماتا ہے یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ (التوبہ: 119)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے، نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور انسان برابر سچ بولتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے۔
یہی وہ عمل ہے جو انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، دل کو مطمئن کرتا ہے، اور معاشرے میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔
جھوٹ سے بچنے کے طریقے
بات کرنے سے پہلے سوچیں۔ اگر کسی بات کی سچائی معلوم نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے۔
جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (بخاری)
تحقیق کے بغیر بات نہ پھیلائیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا بھی جھوٹ میں شامل ہے۔
اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ عملی مثال بنیں، کیونکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو دیکھتا ہے۔
توبہ اور اصلاح کا عزم۔ اگر کوئی شخص جھوٹ کی عادت میں مبتلا ہے تو اسے چاہیے کہ فوراً توبہ کرے، اور سچائی کو شعار بنائے۔
اسلام میں جھوٹ ہر حال میں حرام ہے، لیکن چند خاص مواقع پر مصلحتاً اجازت دی گئی ہے۔
جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے۔ دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے۔ کسی کی جان یا عزت بچانے کے لیے۔
لیکن یہاں بھی توریہ (اشارہ کنائیہ) کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ صریح جھوٹ نہ ہو۔
جھوٹ کا انجام
مشہور قصہ ہے کہ ایک چرواہا روز گاؤں والوں سے مذاق کرتا زور زور سے شور مچاتا کہ بھیڑیا آگیا بھیڑیا آگیا۔ لوگ دوڑ کر آتے تو وہ ہنسنے لگ جاتا۔ جب ایک دن واقعی بھیڑیا آیا تو کسی نے اس کی بات پر یقین نہ کیا، نتیجتاً اس کی بھیڑیں بھیڑیا نے مار دیں۔
یہی جھوٹ کا انجام ہے اعتماد ختم، عزت ختم، انجام تباہ۔
عصرِ حاضر میں جھوٹ کی نئی صورتیں آ گئی ہیں، آج کے دور میں جھوٹ صرف زبان سے نہیں، بلکہ عمل، رویے، حتیٰ کہ آن لائن موجودگی میں بھی شامل ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جھوٹے پروفائل، جعلی خبریں (Fake News)، اشتہارات میں مبالغہ، سیاست و تجارت میں دوغلاپن۔
یہ سب جھوٹ کے ہی مختلف چہرے ہیں جنہوں نے معاشرتی اخلاق کو گہرا زخم دیا ہے۔
جھوٹ ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے بولنے والے کو جلاتی ہے۔ یہ ایمان کو برباد کرتا ہے، اعتماد کو ختم کرتا ہے اور دل کو بے سکون کرتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ اعتماد، انصاف اور محبت سے بھر جائے تو سب سے پہلے خود سچ بولنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
نبی ﷺ کو جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت ناپسند نہ تھی۔ جب کسی کے بارے میں معلوم ہوتا کہ وہ جھوٹا ہے تو آپ ﷺ کے دل میں اس کے لیے نفرت پیدا ہو جاتی تھی۔ (مسند احمد)
لہٰذا آئیے آج ہم سب یہ عہد کریں کہ
ہم سچ بولیں گے، چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ سچائی میں ہی حقیقی نجات ہے۔