جھوٹ کی پہچان انسان کیوں اور کیسے دھوکہ دیتا ہے

جھوٹ کی پہچان 0

 چہرے، الفاظ اور رویے سے تو انسان کو پرکھنا اکثر گمراہ کن ہوتا ہے تو پھر جھوٹ کیسے پہچانا جائے۔سائنسی تحقیق اور انسانی نفسیات کی روشنی میں بھی جھوٹ کی پہچان آسان نہیں۔

جھوٹ کی پہچان

انسانی معاشرہ سچ اور جھوٹ کے درمیان توازن پر قائم ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہم سب کبھی نہ کبھی جھوٹ سنتے ہیں، اور بعض اوقات خود بھی بولتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم یہ پہچان سکتے ہیں کہ کوئی شخص سچ بول رہا ہے یا جھوٹ؟

اکثر لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چہرہ یا جسمانی حرکات دیکھ کر فوراً جان لیتے ہیں کہ سامنے والا جھوٹا ہے۔ مگر سائنسی تحقیق کچھ اور کہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کی پہچان ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے، جس میں جذبات، تجربات، تعصبات اور انسانی نفسیات سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

صدیوں سے انسان یہ سمجھتا آیا ہے کہ چہرے کے خدوخال انسان کی نیت اور سچ اور جھوٹ ظاہر کرتے ہیں۔ قدیم زمانوں میں فزیوگنومی نامی ایک علم رائج تھا، جس میں لوگوں کے چہروں سے ان کی شخصیت کے بارے میں اندازے لگائے جاتے تھے۔ 19ویں صدی میں تو مجرموں کی شناخت کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال ہوتا رہا  بڑے جبڑے، نمایاں بھنویں یا گہری آنکھوں والے افراد کو خطرناک سمجھا جاتا تھا۔

لیکن جدید سائنس نے یہ خیال باطل ثابت کیا ہے۔ انسانی چہرہ سچائی کا پیمانہ نہیں۔ بہت سے تجربات سے معلوم ہوا کہ ہم اکثر چہروں کو ان کی خوبصورتی یا پُرکشش تاثر کی بنیاد پر قابلِ اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سمجھنے لگتے ہیں۔یعنی جو خوبصورت نظر آتا ہے، ہم لاشعوری طور پر اسے بہتر، ذہین اور سچا سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔

جھوٹ کیسے پہچانا جائے

لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ پھر جھوٹ کیسے پہچانا جائے لیکن تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ خوش چہروں پر لوگ زیادہ جلدی بھروسہ کر لیتے ہیں۔ 2008 میں پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے ثابت کیا کہ مسکراتا چہرہ عام چہرے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مصنوعی مسکراہٹ بھی کسی دھوکے باز کو مخلص ظاہر کر سکتی ہے۔

دراصل ہمارا دماغ چند سیکنڈز میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ کوئی شخص قابلِ اعتماد ہے یا نہیں  اور یہ فیصلہ اکثر غلط ہوتا ہے۔ یہ فطری عمل ہالو ایفیکٹ کہلاتا ہے۔ یعنی ایک مثبت خصوصیت (جیسے مسکراہٹ یا خوبصورتی) باقی تمام پہلوؤں پر سایہ ڈال دیتی ہے۔ یہی فریب ہمیں بارہا دھوکے بازوں کے جال میں پھنسا دیتا ہے۔

انسان صرف اپنی عقل پر نہیں بلکہ گروہی ذہنیت سے بھی اثر لیتا ہے۔ جب کوئی گروپ کسی بات پر متفق ہو جاتا ہے، تو افراد کے لیے اس سے اختلاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ٹیم، دفتر یا معاشرے میں کئی لوگ ایک جھوٹ پر ایمان لے آتے ہیں صرف اس لیے کہ سب یہی کہہ رہے ہیں۔

ماہرین اسے Groupthink یا ریوڑ کی ذہنیت کہتے ہیں۔ اس میں فرد کے فیصلے اجتماعی اثر کے تابع ہو جاتے ہیں، اور وہ ایسے شواہد کو نظرانداز کر دیتا ہے جو حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔

جھوٹ پکڑنے کے عام اشارے

ہم میں سے اکثر سمجھتے ہیں کہ جھوٹا شخص نظریں چرائے گا، پسینہ بہائے گا، یا غیر ضروری حرکتیں کرے گا۔ مگر نفسیاتی مطالعات کے مطابق یہ علامات حتمی نہیں ہیں۔ ایک شرمیلا یا نروس شخص بھی یہی رویہ دکھا سکتا ہے، چاہے وہ سچ بول رہا ہو۔

اسی طرح ایک ماہر جھوٹا شخص پورے اعتماد کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے۔

نظریں چرانا ہمیشہ جھوٹ کی علامت نہیں۔ پسینہ آنا یا لبوں کو تر کرنا اضطراب کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ الفاظ بدلنا یا تفصیل میں جانا بھی بعض اوقات یادداشت کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ دھوکہ دہی کا۔ لہٰذا یہ تمام اشارے صرف شک کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں، مگر ثبوت نہیں۔

جھوٹ بولنے والا عام طور پر اپنے بیان کو سادہ اور مختصر رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ بعد میں بھی دہرا سکے۔ وہ غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرتا ہے، کیونکہ تفصیل میں غلطی پکڑے جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

جبکہ سچ بولنے والا شخص زیادہ کھلے دل سے بات کرتا ہے، اور اس کے جملوں میں فطری بہاؤ ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو بار بار ایک ہی واقعہ بیان کرنے کو کہا جائے، تو سچا شخص مزید تفصیلات شامل کرتا جاتا ہے کیونکہ وہ تجربہ اس کے ذہن میں واقعی موجود ہوتا ہے۔

جھوٹا شخص الٹا، ہر بار کم معلومات دیتا ہے تاکہ تضاد ظاہر نہ ہو۔

جھوٹ پکڑنے کی جدید تکنیکیں

پولیس اور انویسٹی گیشن ماہرین نے جھوٹ کی شناخت کے لیے کئی حکمت عملیاں تیار کی ہیں، جن میں سب سے مؤثر تین تکنیکیں مانی جاتی ہیں۔

 SUE (Strategic Use of Evidence) اس میں تفتیش کار بغیر یہ بتائے کہ اس کے پاس کیا ثبوت ہیں، سوالات کرتا ہے۔ سچا شخص کھلے دل سے جواب دیتا ہے، جبکہ جھوٹا شخص بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

VA (Verifiable Accounts): اس تکنیک میں انٹرویو دینے والے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسے شواہد فراہم کرے جن کی تصدیق کی جا سکے۔ سچے لوگ عام طور پر دوسرے افراد یا تفصیلات کا حوالہ دیتے ہیں، جب کہ جھوٹے احتیاط سے مبہم بات کرتے ہیں۔

CCA (Cognitive Credibility Assessment): اس میں انٹرویو دینے والے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی کہانی کئی بار سنائے۔ سچ بولنے والے افراد ہر بار نئی تفصیلات شامل کرتے ہیں، جبکہ جھوٹے ایک ہی کہانی دہراتے ہیں تاکہ تضاد نہ ہو۔

یہ تمام تکنیکیں جسمانی اشاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ اعتماد ثابت ہوئی ہیں۔

جھوٹ پکڑنے کا فارمولہ

جھوٹ کی غلط تشخیص بعض اوقات کسی معصوم کی زندگی برباد کر دیتی ہے۔ دنیا میں کئی ایسے کیسز سامنے آئے جہاں صرف رویہ دیکھ کر افراد کو مجرم سمجھ لیا گیا۔

کسی نے پرسکون ردعمل دکھایا تو اسے سنگدل قاتل کہا گیا، کسی نے زیادہ رونا دھونا کیا تو اسے جھوٹی اداکاری کا الزام لگا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا غم یا صدمہ ظاہر کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ظاہری تاثرات پر فیصلہ کرنا انصاف کے منافی ہے۔

سینکڑوں مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان جھوٹ کی پہچان میں حیران کن حد تک ناکام ہے۔ ماہرین کے مطابق جھوٹ کی شناخت کی اوسط کامیابی صرف 54 فیصد ہے، جو تقریباً سکہ اچھالنے جتنی ہے۔ یعنی اگر آپ اندازے سے کہیں کہ سامنے والا جھوٹ بول رہا ہے، تو آپ کی درستگی کا امکان بھی تقریباً اتنا ہی ہے جتنا اتفاق سے۔

یہ بات پولیس افسران، طلبا، یا ماہرین سب پر لاگو ہوتی ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ جھوٹ پکڑنے کا فارمولہ ​ سائنسی لحاظ سے تاحال موجود نہیں۔

جھوٹ بولنے والے کیوں کامیاب ہوتے ہیں؟

جھوٹ بولنے والے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جسمانی رویہ کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نروس نظر نہیں آنا، نظریں ملائے رکھنا اور آواز مستحکم رکھنا لازمی ہے۔ بعض تو جھوٹ بولنے سے پہلے ذہنی مشق بھی کرتے ہیں تاکہ کہانی کو قدرتی انداز میں بیان کر سکیں۔ دوسری طرف، سچ بولنے والا فرد اکثر جذباتی ہوتا ہے اور اپنے احساسات پر قابو نہیں رکھ پاتا — جس سے وہی جھوٹا نظر آنے لگتا ہے۔ یہی تضاد جھوٹ کی پہچان کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

ہر جھوٹ برائی نہیں ہوتا۔ ماہرین نفسیات کے مطابق سماجی جھوٹ (Social Lies) انسانی تعلقات کو قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثلاً، اگر آپ کسی دوست سے کہیں کہ تم بہت اچھے لگ رہے ہو یا تمہارا خیال بہترین ہے، تو یہ جھوٹ تعلق مضبوط بناتا ہے۔ ایسے جھوٹ نقصان دہ نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ تاہم وہ جھوٹ جو کسی کے اعتماد، عزت یا حق تلفی کا باعث بنیں، اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہیں۔

ٹیکنالوجی اور جھوٹ پکڑنے کے جدید آلات

جھوٹ پکڑنے والی مشینیں یا پولی گراف ٹیسٹ کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہے ہیں، مگر ان کی سائنسی حیثیت متنازع ہے۔

یہ مشینیں دل کی دھڑکن، سانس اور پسینہ ناپتی ہیں  مگر یہ سب جذباتی ردِعمل ہیں، جو سچ بولنے والے میں بھی ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے جدید ماہرین ان پر انحصار کے بجائے  بیانی تجزیہ (verbal analysis) کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں۔ اب کئی ممالک میں سائنس بیسڈ انٹرویو طریقے متعارف ہو رہے ہیں جن میں کسی پر دباؤ ڈالنے کے بجائے گفتگو کے ذریعے تضاد تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں ابھی تک جھوٹ پکڑنے کا فارمولہ کوئی نہ بنا سکا

جھوٹ کی پہچان کا اسلامی اور اخلاقی زاویہ

اسلام میں جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔

قرآن کریم میں فرمایا گیا:

اللہ کی لعنت ہے جھوٹ بولنے والوں پر”(سورہ آل عمران: 61)

اسلامی تعلیمات کے مطابق جھوٹ صرف دنیاوی نقصان کا باعث نہیں بلکہ روحانی زوال کی علامت بھی ہے۔ ایک جھوٹ سے نہ صرف اعتماد ختم ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرتی ڈھانچہ متزلزل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سچائی پر قائم رہنا انسانیت کا بنیادی فریضہ ہے۔

جھوٹ کی پہچان محض آنکھوں، الفاظ یا رویے سے نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی عمل ہے جس میں تعصب، خوف، تجربہ اور توقعات سب شامل ہوتے ہیں۔ سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ انسان کی فطری بصیرت جھوٹ کی شناخت میں قابلِ بھروسہ نہیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ:

فوری فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ شواہد پر انحصار کریں، اندازوں پر نہیں۔ اپنی گروہی سوچ اور تعصبات کا ادراک کریں۔ اور سب سے بڑھ کر، خود سچ بولنے کی عادت اپنائیں۔ کیونکہ جھوٹ کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے کہ سچا انسان خاموش ہوتا ہے، مگر اس کی آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں