پاکستان نے حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے میدان، خصوصاً ڈرون سسٹم، سائبر سیکیورٹی اور الیکٹرانک وارفئر میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔
ڈرون سسٹم کا کپتان پاکستان
دفاعی اداروں اور مقامی انجینئرز کی کاوشوں سے پاکستان نے نہ صرف ڈرون ٹیکنالوجی میں خودکفالت حاصل کی بلکہ الیکٹرانک سرویلنس، کمیونیکیشن جامنگ، اور سائبر ڈیفنس کے میدان میں بھی تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ یہ ترقی پاکستان کو اس قابل بنا رہی ہے کہ وہ خطے میں الیکٹرانک وارفئر کا ایک مضبوط کھلاڑی بن سکے۔
وہ زمانہ گزر گیا جب جنگیں صرف بندوقوں، توپوں اور لڑاکا طیاروں سے لڑی جاتی تھیں۔ اب میدانِ جنگ میں انسان کم اور بغیر پائلٹ کے اڑنے والی مشینیں زیادہ نظر آتی ہیں۔
الیکٹرانک وارفئر کے جدید نظام دشمن کی کمیونیکیشن، ریڈار، اور نیویگیشن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور پاکستان کی اس سمت میں بڑھتی ہوئی مہارت اسے دفاعی لحاظ سے مزید مستحکم بنا رہی ہے۔ ڈرونز، سائبر حملوں سے دفاع، اور ہیکنگ کے میدان میں تجربات نے پاکستان کو تکنیکی طور پر زیادہ خودمختار اور اسٹریٹیجک برتری کے قریب کر دیا ہے۔ اگر یہ پیش رفت اسی رفتار سے جاری رہی تو مستقبل قریب میں پاکستان خطے میں الیکٹرانک وارفئر کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔