حکمران کی لاپروائی اور جہالت کسی ملک کے زوال کی سب سے بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ حکمران کی لاعلمی اور غفلت قوموں کو تباہی کے دہانے پر لے جاتی ہے
تاریخ گواہ ہے کہ کسی قوم کی ترقی یا زوال میں اس کے حکمران کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر بادشاہ عاقل، دیانتدار، اور ذمہ دار ہو تو وہ اپنی رعایا کے لیے امن، انصاف اور خوشحالی کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن اگر وہ لاپرواہ، جاہل یا خودغرض ہو تو اس کے فیصلے ملک کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ بادشاہ کی لاپروائی اور جہالت صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے مقدر پر اثر ڈالنے والا زہر ہے۔
بادشاہ کی لاپروائی اور جہالت
حکمرانی محض تخت پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ جب بادشاہ اپنی رعایا کے دکھ درد، ملک کے نظم و نسق، یا عالمی حالات سے لاپرواہ ہو جاتا ہے تو تباہی یقینی ہو جاتی ہے۔
ایسا بادشاہ اپنے محل کی عیش و عشرت میں گم ہو کر عوام کی فریادیں نہیں سنتا۔ عدالت کے فیصلے سست روی کا شکار ہوتے ہیں، افسران بدعنوانی میں ملوث ہو جاتے ہیں، اور عوام ناامیدی میں ڈوب جاتی ہے۔
لاپرواہی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ حکمران مشورہ لینے یا سچ سننے سے کتراتا ہے۔ اس کے دربار میں صرف چاپلوس اور خوشامدی لوگ باقی رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بادشاہ حقیقت سے کٹ جاتا ہے، اور ملک ایک ایسے جہاز کی طرح ہو جاتا ہے جس کا کپتان سو گیا ہو۔
حکمران کی لاپروائی سب سے پہلے عام آدمی کو متاثر کرتی ہے۔ جب بادشاہ رعایا کے مسائل سے بے خبر رہتا ہے، تو غربت، بے روزگاری، اور ناانصافی بڑھتی جاتی ہے۔ عوام کا اعتماد ختم ہوتا ہے، اور وہ حکمران سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ فوج کمزور ہو جاتی ہے، معیشت ڈوب جاتی ہے، اور دشمنوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ ملک پر قبضہ کر لیں۔
یہی لاپرواہی تاریخ میں کئی سلطنتوں کے زوال کا سبب بنی۔ سلطنتِ عثمانیہ کے آخری ادوار میں کچھ حکمرانوں کی غفلت نے ایک عظیم اسلامی سلطنت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ اسی طرح مغل بادشاہت کے آخری دور میں بھی یہی لاپرواہی دیکھی گئی، جب بادشاہ دربار میں رقص و سرود میں مصروف رہے اور انگریز ان کے قدموں تلے زمین کھسکاتے گئے۔
جہالت صرف علم کی کمی نہیں، بلکہ حقیقت کو سمجھنے سے انکار بھی ہے۔ ایک جاہل بادشاہ کے لیے ملک کا نظام چلانا ایسا ہی ہے جیسے کسی اندھے کے ہاتھ میں مشعل دے دی جائے۔ جب بادشاہ کو سیاست، معیشت، اور عوامی نفسیات کا شعور نہ ہو تو وہ ایسے فیصلے کرتا ہے جو وقتی طور پر تو خوشنما لگتے ہیں، مگر طویل المدت میں تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
ناقص پالیسیاں اور کمزور فیصلے
جہالت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکمران غلط پالیسیاں اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی انا کو ملک کے مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔ ایسے بادشاہ وزیروں اور مشیروں کی باتوں میں آ کر فیصلے کرتا ہے، بغیر تحقیق کے۔
مثلاً ایک جاہل بادشاہ فوجی بجٹ میں کٹوتی کر کے محل کی تزئین پر پیسہ لگا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب دشمن حملہ کرتا ہے تو ملک دفاع کے قابل نہیں رہتا۔
کہا جاتا ہے کہ ایک سلطنت میں بادشاہ بہت لاپرواہ اور جاہل تھا۔ اسے رعایا کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ایک دن ایک بزرگ دربار میں آئے اور کہا
جہالت اور غفلت بادشاہت کے دو دشمن ہیں۔ اگر تم نے انہیں نہ پہچانا تو یہ تمہارا تاج چھین لیں گے۔
بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور کہا، میرے پاس فوج ہے، خزانہ ہے، اور عوام میرا حکم مانتی ہے، مجھے کسی دشمن کا خوف نہیں۔
بزرگ خاموشی سے چلے گئے۔ کچھ سال بعد وہی بادشاہ تخت سے محروم ہوا۔ فوج نے بغاوت کر دی، خزانہ خالی ہو گیا، اور عوام نے دربار کے دروازے جلا دیے۔
تب اسے بزرگ کی بات یاد آئی مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
یہ کہانی کسی مخصوص بادشاہ کی نہیں بلکہ ہر اُس حکمران کی ہے جو علم کو حقیر سمجھتا ہے اور عوام کو بھول جاتا ہے۔
علم اور شعور
ایک دانشمند حکمران جانتا ہے کہ طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ علم اور شعور سے آتی ہے۔ جب حکمران خود تعلیم یافتہ ہو، سیکھنے کا شوق رکھتا ہو، اور ماہرین سے مشورہ کرتا ہو تو ملک ترقی کرتا ہے۔
جہالت کے مقابلے میں علم وہ چراغ ہے جو قوموں کے مستقبل کو روشن کرتا ہے۔
لاپرواہی کے برعکس، ایک باشعور اور دانشمند حکمران وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔
وہ عوام کے مسائل سمجھتا ہے، ٹیکنالوجی اپناتا ہے، اور انصاف کے نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ ایسا بادشاہ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے، جیسے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، جنہوں نے عدل و انصاف کے ذریعے رعایا کے دل جیت لیے۔
جب کوئی بادشاہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل اور علم سے عاری ہو تو انجام ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ زوال۔
ایسے بادشاہ کے لیے تاریخ میں کوئی عزت نہیں رہتی۔ محل خالی ہو جاتے ہیں، اور ان کے نام عبرت کی مثال بن جاتے ہیں۔ رعایا خوش نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلیں ان کی غلطیوں کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔
قوموں کی ترقی کسی معجزے سے نہیں ہوتی۔ یہ اس وقت ممکن ہوتی ہے جب دانشمند حکمران خود کو قوم کا خادم سمجھے، علم حاصل کرے، اور فیصلے سوچ سمجھ کر کرے۔
بادشاہ کی لاپروائی اور جہالت اگر جاری رہے تو ایک دن ایسا آتا ہے کہ نہ تخت بچتا ہے، نہ تاج۔ تاریخ یہی کہتی ہے، اور یہی آئندہ نسلوں کے لیے سبق ہے۔