قبل از وقت بالوں کا سفید ہونا

قبل از وقت بالوں کا سفید ہونا، اس کی وجوہات اور حقائق 0

قبل از وقت بالوں کا سفید ہونا، اس کی وجوہات اور حقائق

دنیا بھر میں بالوں کا سفید ہونا ایک قدرتی عمل سمجھا جاتا ہے، مگر جب یہ عمل وقت سے پہلے شروع ہو جائے تو اکثر لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔

 آج کے دور میں یہ مسئلہ صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں، حتیٰ کہ نوعمروں میں بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بالوں کی قبل از وقت سفیدی (Premature Greying) کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ جن میں سب سے اہم جینیات، غذائی کمی، طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔

بالوں کا سفید ہونا اور اس کا بنیادی عمل

انسانی جسم میں ہر بال اپنی جڑ یعنی ہیئر فالیکل (Hair Follicle) سے اگتا ہے۔ ان جڑوں میں میلانوسائٹس (Melanocytes) نامی خلیے موجود ہوتے ہیں جو میلانِن (Melanin) بناتے ہیں۔ یہی مادہ بالوں، جلد اور آنکھوں کو رنگ دیتا ہے۔ میلانن کی دو اقسام ہیں یومیلانن (Eumelanin) جو بالوں کو سیاہی یا بھورا رنگ دیتا ہے، اور فیومیلانن (Pheomelanin) جو بالوں میں ہلکا سرخی مائل یا زرد رنگ پیدا کرتا ہے۔

جب کسی وجہ سے میلانوسائٹس اپنا کام کرنا بند کر دیتے ہیں یا کم فعال ہو جاتے ہیں، تو بالوں کو رنگ دینے والا مادہ پیدا ہونا رک جاتا ہے۔ نتیجتاً نئے اگنے والے بال سفید، سرمئی یا چاندی جیسے ہو جاتے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق جیسے جیسے بال بار بار گرتے اور دوبارہ اگتے ہیں، جڑوں میں موجود میلانوسائٹ سٹیم سیلز کمزور پڑنے لگتے ہیں اور ان کی حرکت رک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ بالوں میں رنگ پیدا کرنے کا عمل سست یا مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔

بالوں کی سفیدی کا آغاز مختلف نسلوں میں مختلف عمر میں ہوتا ہے۔ عام طور پر یورپی نسل کے افراد میں یہ عمل 35 سال کے قریب، ایشیائی نسل میں 45 سال کے لگ بھگ اور افریقی نسل میں 50 سال کے آس پاس شروع ہوتا ہے۔ اگر بال اس عمر سے پہلے سفید ہونا شروع ہو جائیں تو اسے پری میچیور گریئنگ (Premature Greying) کہا جاتا ہے۔

جینیات، غذائیت اور طرزِ زندگی کا کردار

ڈاکٹر سرمد مظہر کے مطابق بالوں کے سفید ہونے میں جینیاتی عوامل سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے خاندان میں کسی کے بال کم عمری میں سفید ہوئے ہیں، تو امکان ہے کہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو۔ تاہم، جینیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ غذائی کمی، وٹامنز کی قلت اور ماحولیاتی اثرات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وٹامن B12 کی کمی کو بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کی سب سے عام وجہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وٹامن خون کے سرخ خلیے بنانے میں مدد دیتا ہے جو آکسیجن کو بالوں کی جڑوں تک پہنچاتے ہیں۔ جب آکسیجن کی مقدار مناسب ہو تو بالوں کا رنگ برقرار رہتا ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کی غذا میں B12 کی کمی ہو، خاص طور پر ویگن افراد جو جانوروں سے حاصل شدہ غذائیں نہیں کھاتے، تو بالوں کے خلیے آہستہ آہستہ رنگ بنانا بند کر دیتے ہیں۔

اسی طرح تانبے (Copper) کی کمی بھی بالوں کی سفیدی کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ تانبہ ایک اہم انزائم ٹائروسنیز (Tyrosinase) کو فعال کرتا ہے جو میلانن بنانے کے عمل میں مدد دیتا ہے۔ تانبے سے بھرپور غذاؤں میں کلیجی، جھینگے، تل، اور سبز پتوں والی سبزیاں شامل ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جسم میں کسی ایک غذائی عنصر کی زیادتی دوسرے کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ مثلاً زیادہ زنک (Zinc) یا وٹامن سی لینے سے جسم میں تانبے کا جذب متاثر ہوتا ہے۔

غذائیت کی ماہر ماریا مارلو کے مطابق، کووِڈ کے دوران بہت سے لوگ زنک سپلیمنٹس لینے لگے تاکہ مدافعتی نظام مضبوط رہے، مگر ان سپلیمنٹس کے غلط استعمال سے بعض افراد میں تانبے کی کمی پیدا ہو گئی، جس نے بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کو بڑھاوا دیا۔ ان کے مطابق زنک اور تانبے کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ ایک کی زیادتی دوسرے کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اسی طرح آئرن (Iron)، فولیٹ، وٹامن ڈی اور زنک کی کمی بھی بالوں کی سفیدی میں کردار ادا کرتی ہے۔ اگر جسم میں معدنیات کی کمی ہو تو اس کے ساتھ دیگر علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جیسے تھکن، کمزوری، جلد کی خشکی یا خارش، اور بالوں کا جھڑنا۔

ذہنی دباؤ، بیماریاں اور ماحولیاتی اثرات

امریکہ اور برازیل کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں یہ انکشاف کیا کہ شدید ذہنی دباؤ (Stress) بھی بالوں کی سفیدی کو تیز کر سکتا ہے۔ اگرچہ تناؤ براہِ راست بالوں کا رنگ نہیں بدلتا، لیکن یہ ان خلیوں کو متاثر کرتا ہے جو بالوں کا رنگ برقرار رکھتے ہیں۔ مسلسل دباؤ سے جسم میں کورٹیسول نامی ہارمون بڑھ جاتا ہے جو میلانوسائٹس کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق تھائیرائیڈ، ڈرمیٹائٹس اور ایلوپیشیا ایریاٹا جیسی بیماریاں بھی بالوں کے سفید ہونے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کینسر کے علاج کے دوران کیموتھراپی سے گزر رہا ہو یا ایچ آئی وی، سسٹک فائبروسس جیسی بیماریوں کا شکار ہو تو اس کے بال وقت سے پہلے سفید ہو سکتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی، سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعیں اور تابکاری بھی بالوں کے خلیوں پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ دہلی کے اپولو ہسپتال کے ماہر امراض جلد ڈاکٹر ڈی ایم مہاجن کے مطابق، شہری علاقوں میں فضائی آلودگی بالوں کے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے نہ صرف بالوں کی سفیدی بلکہ جھڑنے کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔

اسی طرح سگریٹ نوشی اور الکحل کے استعمال سے بھی بالوں میں آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، جس سے میلانوسائٹس کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر اور قدرتی طریقہ علاج

بالوں کا سفید ہونا ایک ایسا عمل ہے جسے مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، مگر ماہرین کے مطابق اسے سست ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے چند بنیادی اصولوں پر عمل کرنا مفید ہے۔

متوازن غذا: اپنی خوراک میں پروٹین، وٹامن بی کمپلیکس، آئرن، تانبہ، اور زنک شامل کریں۔ ان غذائی اجزاء سے نہ صرف بالوں کا رنگ برقرار رہتا ہے بلکہ ان کی ساخت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

ذہنی سکون: روزمرہ کی زندگی میں ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں۔ مراقبہ (Meditation)، یوگا، یا واک جیسے معمولات ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔

کیمیائی مصنوعات سے پرہیز: بالوں پر بار بار رنگ، بلیچ یا اسٹائلنگ پروڈکٹس کے استعمال سے بالوں کے خلیے متاثر ہوتے ہیں۔ قدرتی تیل جیسے ناریل، بادام اور زیتون کا باقاعدہ استعمال فائدہ مند ہے۔

 

سگریٹ نوشی ترک کریں: تحقیق سے ثابت ہے کہ سگریٹ نوش افراد میں بال سفید ہونے کا امکان غیر سگریٹ نوش افراد کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔

وٹامن سپلیمنٹس : اگر غذائی کمی ثابت ہو تو سپلیمنٹس لینے سے مدد مل سکتی ہے، مگر ان کا بے جا استعمال نقصان دہ  بھی ہو سکتا ہے۔

بالوں کی سفیدی کو اکثر لوگ بڑھاپے یا کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے جسے مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ تاہم، اگر ہم اپنی خوراک، ذہنی صحت اور طرزِ زندگی پر توجہ دیں تو اس عمل کو خاصا سست کیا جا سکتا ہے۔

آج کل دنیا بھر میں “سالٹ اینڈ پیپر” یعنی آدھے سفید اور آدھے سیاہ بال ایک فیشن اسٹائل بن چکے ہیں۔ بہت سے لوگ اب اپنی فطری سفیدی کو قبول کرتے ہیں اور اسے شخصیت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ آخرکار، بالوں کا رنگ بدل جانا زندگی کے سفر کا ایک قدرتی مرحلہ ہے ۔ جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ وقت کی گاڑی رکنے والی نہیں۔ مگر خوداعتمادی اور صحت مند زندگی کے ساتھ ہم ہر رنگ میں خوبصورت دکھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں