فیصل مسجد میں غیر شائستہ ویڈیوز پر پابندی کی درخواست
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان کی سب سے معروف اور تاریخی عبادت گاہ،فیصل مسجد میں غیر شائستہ ویڈیوز پر پابندی کی درخواست ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسجد کے تقدس سے متعلق ایک نہایت اہم درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پولیس، انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
یہ درخواست ایک شہری، مشرف زین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حالیہ عرصے میں فیصل مسجد کے احاطے میں بننے والی نامناسب ویڈیوز اور رقص کی سرگرمیوں نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے اور مسجد کے تقدس پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق گزشتہ چند مہینوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد فیصل مسجد کے احاطے میں نیم عریاں یا غیر شائستہ لباس میں ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ ان ویڈیوز میں بعض لوگ موسیقی کے ساتھ رقص کرتے یا تفریحی مواد ریکارڈ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو نہ صرف عوامی سطح پر ناپسندیدگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ مسجد کی حرمت کے منافی بھی ہے۔
مشرف زین نے مؤقف اپنایا کہ فیصل مسجد صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ عبادت، روحانیت اور قومی تشخص کی علامت ہے۔ ایسے غیر اخلاقی مناظر اس کے تقدس کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے احترام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے اس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے، وزارتِ مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، آئی جی اسلام آباد پولیس، اور فیصل مسجد کے انچارج کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو پہلے ہی تحریری شکایات بھجوائی جا چکی ہیں، مگر اس کے باوجود کسی سطح پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو شاید صورتحال اس حد تک نہ پہنچتی۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں ہم کن اداروں کو ہدایت جاری کریں؟
جس پر وکیلِ درخواست گزار نے جواب دیا کہ تمام متعلقہ سرکاری محکمے اور انتظامی افسران کو فریق بنایا گیا ہے تاکہ اجتماعی سطح پر ایک واضح ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) نافذ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت یا متعلقہ ادارے واضح پالیسی مرتب کریں تو مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فیصل مسجد نہ صرف اسلام آباد کی علامت ہے بلکہ یہ پاکستان کے اسلامی تشخص کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں ہر روز ہزاروں مقامی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں، مگر کچھ افراد اس جگہ کو صرف فوٹوشوٹ یا تفریحی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ مسجد کا مقصد عبادت اور روحانی سکون حاصل کرنا ہے، نہ کہ سوشل میڈیا ویڈیوز یا رقص و موسیقی کے لیے پس منظر فراہم کرنا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت مسجد میں فحش یا غیر اسلامی لباس میں داخلے پر پابندی عائد کرے اور مسجد کے احاطے میں رقص یا موسیقی پر مبنی ویڈیوز بنانے کو قانوناً جرم قرار دے۔
درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مسجد کے انچارج اور دیگر انتظامی افسران کو متعدد بار اس معاملے پر تحریری شکایات دی گئیں، مگر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اسی طرح صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، لیکن کسی نے بھی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ شہری کے مطابق یہ غفلت دراصل مسجد کے تقدس کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات کی توہین بھی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، پاکستان میں عبادت گاہوں کے اندر یا قریب کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی یا تفریحی سرگرمی قانونی طور پر ممنوع ہے۔ آئینِ پاکستان مذہبی مقامات کی حرمت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
تاہم، ایسے واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب انتظامیہ نگرانی میں کوتاہی کرتی ہے یا کوئی واضح ضابطہ نافذ نہیں ہوتا۔
کچھ سماجی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیصل مسجد ایک سیاحتی مقام ہونے کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے، اس لیے انتظامیہ کو واضح حد بندی (boundaries) قائم کرنی چاہیے کہ کون سا حصہ صرف نمازیوں کے لیے ہے اور کہاں تک سیاح جا سکتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابتدائی طور پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ ادارے اپنی رپورٹ پیش کریں اور بتائیں کہ مسجد کے تقدس کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے یا آئندہ کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق، آئندہ سماعت میں ممکن ہے کہ عدالت فیصل مسجد کے لیے خصوصی ضابطہ اخلاق یا سیکیورٹی پلان مرتب کرنے کا حکم دے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کو روکا جا سکے۔
عوامی سطح پر اس درخواست کو بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فیصل مسجد صرف ایک عمارت نہیں بلکہ اسلامی تشخص، روحانیت اور قومی وقار کی علامت ہے، اس لیے اس کا احترام ہر فرد پر لازم ہے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین نے بھی عدالت کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ اگر عدالت سخت فیصلے کرے تو ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔