بچے ضد یا بدتمیزی کیوں کرتے ہیں

بچے ضد یا بدتمیزی کیوں کرتے ہیں بنیادی وجوہات 0

آج کل  گھروں میں اولاد کا ضدی نافرمان یا بگڑا رویہ والدین کے لیے  پریشان کن ہے کہ بچے ضد یا بدتمیزی کیوں کرتے ہیں، اس کے نفسیاتی سماجی اور دینی پہلو کون سے ہیں

بچوں کی تربیت ایک نہایت نازک اور اہم ذمہ داری ہے۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے فرمانبردار، سمجھدار اور بااخلاق ہوں، لیکن کبھی کبھار بچوں کا رویہ والدین کے لیے آزمائش بن جاتا ہے۔ وہ ضد کرتے ہیں، بات نہیں مانتے، یا ہر بات پر غصہ دکھاتے ہیں۔ 

والدین اکثر حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے، جبکہ وہ تو اپنے بچوں کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے کی ضد یا بدتمیزی کا تعلق صرف تربیت کے انداز سے نہیں بلکہ اس کے ماحول، جذباتی حالت اور والدین کے رویے سے بھی ہوتا ہے۔

بچے ضد یا بدتمیزی کیوں کرتے ہیں بنیادی وجوہات

اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ بچے جو گھر میں ماں باپ کے جھگڑوں، چیخ پکار یا بے اعتنائی کے ماحول میں پلتے ہیں، وہ باہر جا کر بھی اسی انداز میں ردعمل دیتے ہیں۔ جب بچہ روزانہ دیکھتا ہے کہ ماں اور باپ ایک دوسرے سے بدکلامی کر رہے ہیں یا ایک دوسرے کی بات کا مذاق اُڑا رہے ہیں، تو وہ یہ سب سیکھتا ہے۔ بچہ وہی کرتا ہے جو وہ دیکھتا ہے۔ 

اگر والدین ہر بات پر غصہ دکھاتے ہیں، تو بچہ بھی اپنی مرضی نہ ہونے پر غصہ دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے بچوں کے لیے غصہ ایک عام رویہ بن جاتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بات منوانے کا یہی طریقہ ہے۔

کچھ بچے ضد صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے والدین کی توجہ حاصل کر سکیں۔ آج کے دور میں جہاں والدین مصروف زندگی گزار رہے ہوں،وہاں  موبائل فون، کام اور دیگر ذمہ داریوں کے باعث وہ بچوں کے ساتھ اکثر وہ وقت نہیں گزار پاتے جو ان کے ذہنی سکون کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ توبچے جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی بات سنی نہیں جا رہی اور اُن پر توجہ نہیں دی جا رہی، تو وہ چیخ کر، روتے ہوئے یا چیزیں پھینک کر اپنی موجودگی ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر ایک بچہ جو ہر وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہتا ہے، دوسری طرف ماں بھی اُس سے بات کرنے کے بجائے موبائل میں مصروف رہتی ہے،جب اُس بچے کو کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ماں کو پکارتا ہے، لیکن ماں اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتی، تو وہ ضد کر کے یا شور مچا کر ماں کو تنگ کر کے توجہ حاصل کرتا ہے۔ اگر والدین اس لمحے غصے میں آ کر اسے ڈانٹ دیتے ہیں یا فوراً اس کی ضد پوری کر دیتے ہیں، تو بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ چیخنے یا ضد کرنے سے بات مانی جاتی ہے۔

بعض اوقات کسی معاملے میں والدین کی نیت نیک ہوتی ہے، لیکن طریقہ درست نہیں ہوتا۔ بچے سے بہت سختی سے پیش آتے ہیں، یا بچے کی ہر غلطی پر اُسے سزا دے دیتے ہیں، ہر حرکت پر ٹوکتے ہیں۔تو اس طرح بچہ خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ وہ والدین کے سامنے خاموش رہنے لگتا ہے  مگر دل میں بغاوت پنپتی رہتی ہے۔ ایسے بچے عموماً باہر جا کر اپنا غصہ نکالتے ہیں،  کبھی اسکول میں، کبھی دوستوں کے ساتھ۔

 دوسری طرف کچھ والدین حد سے زیادہ نرم دل ہوتے ہیں، وہ بچوں کو ہر چیز فوراً لا کر دے دیتے ہیں۔ ایسے بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دنیا ان کی مرضی کے مطابق گھومتی ہے۔ جب ان کی خواہش پوری نہ ہو، تو وہ چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔ تربیت کا مطلب سختی یا نرمی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں، بلکہ توازن قائم کرنا ہے۔

کئی دفعہ بچے کا رویہ محض اس کی طبی یا نفسیاتی کیفیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کچھ بچے زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، وہ بات بات پر رو پڑتے ہیں یا جلد مشتعل ہو جاتے ہیں۔ کچھ بچے سیکھنے میں سست ہوتے ہیں، ان پر دباؤ ڈالنے سے وہ مزید چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ 

ایک والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ہر وقت غصے میں رہتا تھا، کوئی بات مانتا ہی نہیں تھا۔ جب ماہرِ نفسیات سے رجوع کیا گیا تو پتہ چلا کہ بچے کی نیند پوری نہیں ہوتی ، اس وجہ سے وہ ہر وقت چڑچڑا رہتا ہے۔ صرف نیند کا معمول درست کرنے سے بچہ کافی حد تک پر سکون ہو گیا۔

آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ سوشل میڈیا اور موبائل ہے۔ بچے جب کم عمری میں موبائل کے عادی ہو جاتے ہیں، تو ان کی برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا مزاج کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ  ہر چیز فوری چاہیے، جو منہ سے بولیں وہی ملے، اور جب فوری نہ ملے تو غصہ اور ضد بڑھ جاتی ہے۔ 

والدین اگر چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پر سکون اور فرمانبردار رہیں، تو سب سے پہلے انہیں خود موبائل کے استعمال میں توازن لانا ہوگا۔ بچوں کے سامنے ہر وقت فون استعمال کرنا، ان کے ساتھ گفتگو کے دوران توجہ کہیں اور رکھنا، یہ سب بچے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ والدین کی ترجیح نہیں۔ پھر وہ اپنی اہمیت جتانے کے لیے منفی طریقے اپناتے ہیں۔

بچے کے رویے کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے والدین کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ بچے کی غلطی پر غصے سے ردعمل دینے کے بجائے تھوڑا رک جائیں۔ سوچیں کہ وہ یہ حرکت کیوں کر رہا ہے۔ کیا وہ بھوکا ہے؟ کیا اسے نیند پوری نہیں ملی؟ کیا وہ صرف توجہ چاہتا ہے؟ 

اگر بچہ اسکول سے آ کر چیزیں پھینک رہا ہے تو فوراً ڈانٹنے کے بجائے اس سے پیار سے پوچھیں، “بیٹا، آج اسکول میں کیا ہوا؟  کوئی بات ہوئی؟” اکثر بچے اپنی پریشانی بیان نہیں کرتے، بلکہ رویے کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ والدین اگر تحمل سے بات سن لیں تو بچہ ضد کے بجائے بات چیت کا عادی ہو جاتا ہے۔

بچوں کی تربیت میں سب سے زیادہ اثر والدین کے باہمی تعلق کا ہوتا ہے۔ اگر ماں باپ کے درمیان اتفاق ہو، دونوں ایک دوسرے کی بات کا احترام کریں، تو بچے بھی باادب اور متوازن بنتے ہیں۔ لیکن اگر ایک ماں ڈانٹتی ہے اور باپ فوراً بچہ کا دفاع کرنے لگتا ہے، یا ایک بات کا انکار کرتا ہے اور دوسرا اجازت دے دیتا ہے، تو بچے کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ صحیح کیا ہے۔ وہ ایک فریق کو خوش کرنے کے لیے دوسرے کے خلاف رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح ضد اس کی عادت بن جاتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ گھر کے اصول طے کریں اور ان پر قائم رہیں۔

تعریف اور حوصلہ افزائی بھی تربیت کا لازمی جزو ہے۔ بچے اگر اچھا کام کریں تو ان کی تعریف ضرور کریں۔ مثلاً اگر بچے نے اپنا بیگ خود سنبھال لیا یا بہن کی مدد کی، تو یہ جملہ کہنا بہت مؤثر ہوتا ہے: “واہ شاباش، تم نے بہت اچھا کام کیا، مجھے تم پر فخر ہے۔” اس سے بچے کو احساس ہوتا ہے کہ اچھا رویہ اس کے لیے فائدہ مند ہے۔ تعریف بچے کو اندر سے مضبوط کرتی ہے، جب کہ بار بار ڈانٹنے سے بچہ یا تو ضدی بنتا ہے یا خوداعتمادی کھو دیتا ہے۔

کبھی کبھی والدین خود بہت دباؤ میں ہوتے ہیں ، مالی مشکلات، کام کا بوجھ، یا معاشرتی دباؤ ، ایسے میں ان کا صبر کم ہو جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں، بچہ والدین کے غصے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس کا ذہن ابھی ناپختہ ہے۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ صبر سیکھے، تو انہیں خود صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بچے ہمارے کہنے سے نہیں بلکہ دیکھنے سے سیکھتے ہیں۔

آخر میں یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ ضد یا بدتمیزی کوئی بیماری نہیں، بلکہ ایک علامت ہے ، ایک اشارہ ہے کہ بچے کو کسی پہلو سے توجہ، محبت یا رہنمائی کی ضرورت ہے۔ تربیت کا مقصد بچے کو توڑنا نہیں بلکہ اس کی شخصیت کو درست سمت دینا ہے۔ اگر والدین نرمی، مستقل مزاجی، اور سمجھداری سے پیش آئیں تو کوئی ضد اتنی بڑی نہیں کہ ختم نہ ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ ہر والدین کو صبر، فہم اور محبت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی اولاد کو وہ تربیت دے سکیں جو انہیں ایک بہتر انسان بنائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں