پاک سعودی دفاعی معاہدہ: ایک غیر معمولی تجزیہ

پاک سعودی دفاعی معاہدہ 0

پاک سعودی دفاعی معاہدہ

تاریخ کے اوراق پر کبھی کبھار ایسے واقعات ثبت ہوتے ہیں جو آنے والے برسوں تک قوموں کے مقدر کا رخ بدل دیتے ہیں۔حالیہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ ، تاریخ کا نیا باب ہے

حالیہ “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA)” بھی انہی تاریخی موڑوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جس نے نہ صرف دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی ہے بلکہ خطے کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ریاض کی فضاؤں میں سعودی ایف-15 طیاروں نے پاکستانی وزیراعظم کے جہاز کا حصار،  گارڈ آف آنر، توپوں کی سلامی اور سعودی قیادت کی پرتپاک میزبانی نے واضح کردیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے لیے محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک “اعتماد کا ساتھی” بھی ہے۔  یہ محض ایک رسمی اعزاز نہیں تھا،بلکہ  یہ اعلان تھا کہ دو برادر ملک اب ایک دوسرے کے دفاع میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ

معاہدے کے اہم نکات

یہ معاہدہ دفاعی، سفارتی اور سلامتی کے کئی پہلوؤں کو محیط ہے۔ اہم شقیں درج ذیل ہیں:

اجتماعی دفاع: اگر کسی ایک ملک پر بیرونی جارحیت ہوتی ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مقدس مقامات کا تحفظ: پاکستان کو پہلی بار یہ اعزاز ملا کہ وہ حرمین الشریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کا باقاعدہ شراکت دار ہوگا۔

مشترکہ فوجی تعاون: دونوں ممالک کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے اپنی فوجی صلاحیتیں یکجا کریں گے۔ اس میں مشترکہ مشقیں، آپریشنل تیاری، اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہے۔

دفاعی صنعت میں اشتراک: ٹیکنالوجی کی منتقلی، فوجی سازوسامان کی مشترکہ پیداوار اور دفاعی صنعت میں تعاون معاہدے کا حصہ ہے

نئے شعبوں میں تعاون: سائبر سیکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی اور خلائی دفاعی نظام میں مشترکہ منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

جارحیت کا جواب: دشمن کی کسی بھی کارروائی کا دونوں ممالک یکجہتی اور طاقت سے جواب دیں گے۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ماضی میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات زیادہ تر مالی امداد، افرادی قوت اور مذہبی رشتوں پر مبنی تھے۔ لیکن اب یہ تعلق دفاعی اور تزویراتی (Strategic) شراکت داری کی صورت اختیار کر رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر اسرائیل اور بھارت پر پڑنے کا امکان ہے۔

سعودی عرب نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اب وہ اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ ایک ادارہ جاتی دفاعی ڈھانچے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مستقبل میں ایک “اسلامی نیٹو” کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے، جس میں ترکیہ، مصر اور دیگر اسلامی ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

عالمی ردعمل اور قیاس آرائیاں

اس معاہدے نے مغربی دنیا میں خاصی ہلچل مچائی ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں ایٹمی تحفظ یا جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے خفیہ شقیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے ہمیشہ واضح مؤقف رکھا ہے کہ اس کی جوہری صلاحیت صرف اپنے دفاع کے لیے ہے، مگر پھر بھی مغرب خاص طور پر واشنگٹن اسے ایک “خطرے کی گھنٹی” کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

سعودی عرب اور بھارت کے درمیان توانائی اور تجارتی تعلقات خاصے مضبوط ہیں۔ لیکن یہ معاہدہ بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس کے قریبی دوست سعودی عرب اور اس کے دیرینہ حریف پاکستان اب ایک دوسرے کے دفاعی شراکت دار بن گئے ہیں۔ نئی دہلی محتاط ردعمل دیتے ہوئے صرف یہ کہہ سکا کہ وہ “اس کے مضمرات کا مطالعہ کرے گا”۔ 

دنیاکے لیے یہ معاہدہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ اب سعودی عرب اکیلا نہیں ہے۔

پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے اور یہ دکھائے کہ وہ محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی کھلاڑی ہے۔

سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ اس کی کثیرالجہتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں وہ چین، روس اور امریکا سب کے ساتھ تعلقات رکھ کر اپنی سلامتی کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں