دنیا کے 5 تیز ترین بیٹسمین
دنیا کے 5 تیز ترین بیٹسمین جنہوں نے اپنی برق رفتار بیٹنگ سے نہ صرف مداحوں کو حیران کیا بلکہ مخالف ٹیموں کو بھی دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔
کرکٹ کی دنیا میں ہمیشہ ایسے کھلاڑیوں کو یاد رکھا جاتا ہے جو اپنی بیٹنگ سے میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تکنیکی بیٹسمین بھی اہم ہوتے ہیں لیکن تیز رفتار بیٹسمین اپنی برق رفتاری اور جارحیت کی وجہ سے شائقین کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی بدولت ہی کرکٹ کو “جنٹلمینز گیم” کے ساتھ ساتھ “انٹرٹینمنٹ گیم” بھی کہا جاتا ہے۔
1 کرس گیل – یونیورس باس
کرس گیل کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے ان کو کرکٹ کی دنیا میں “یونیورس باس” کہا جاتا ہے۔ ان کا بیٹنگ اسٹائل مکمل طور پر جارحانہ ہے اور وہ چھکوں کے بادشاہ مانے جاتے ہیں۔
کرس گیل نے 2013 میں آئی پی ایل میں پونے واریئرز کے خلاف صرف 30 گیندوں پر دنیا کی تیزترین سنچری اسکور کی اور 175 رنز بنائے، جو آج تک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز بھی ہے۔
انہوں نے ODI، 301 میچوں میں، 10,480 رنز، 25 سنچریاں اور 103 ٹیسٹ میچوں میں، 7,215 رنز، 2 ٹرپل سنچریاں اور 79 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 1,899 رنز بناۓ۔
ان کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ انکے نام ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ ہے (22 سنچریاں)، جو آج تک کوئی اور بیٹسمین نہیں توڑ سکا۔
2 اے بی ڈی ویلیئرز – مسٹر 360
اے بی ڈی ویلیئرز کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے ان کو کرکٹ کی تاریخ کے سب سے جدید بیٹسمینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں “مسٹر 360” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ گراؤنڈ کے ہر کونے میں شاٹس کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اے بی ڈی ویلیئرز نے 2015 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 31 گیندوں پر سنچری سکور کیا، جو آج بھی ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین سنچری ہے۔
انہوں نے ODI، 228 میچوں میں ، 9,577 رنز ، اسٹرائیک ریٹ 101+ کے حساب سے بناۓ اور 114 ٹیسٹ میچوں میں، 8,765 رنز اور 78 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 1,672 رنز جوڑے۔
اے بی ڈی ویلیئرز نے 44 گیندوں پر 149 رنز بھی اسکور کیے، جو ون ڈے کی تاریخ کی سب سے دھواں دھار اننگز میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے “انوکھے شاٹس” نے بولرز کو اکثر حیران و پریشان رکھا۔
3 شاہد آفریدی – بوم بوم کا جنون
شاہد خان آفریدی کا تعلق پاکستان سے ہے ان کو کرکٹ کی دنیا میں “بوم بوم” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کی بیٹنگ جارحیت کی سب سے بڑی مثال ہے۔
شاہد خان آفریدی نے 1996 میں سری لنکا کے خلاف صرف 37 گیندوں پر سنچری بنا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اس وقت یہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری تھی۔
شاہد خان آفریدی نے ODI، 398 میچوں میں، 8,064 رنز، جن کی اسٹرائیک ریٹ 117+ بنتی ہے جوڑے،اور 27 ٹیسٹ میچوں میں 1,716 رنز اور 99 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں، 1,416 رنز بناۓ۔
آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ عرصے تک سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ رکھا (351 چھکے)۔ وہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ لیگ اسپن بولنگ میں بھی ماہر تھے، اور کئی میچز اپنے جادوئی اسپیلز سے جتوائے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے 9 اوورز میں صرف 12 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کی
اس کے علاوہ شاہد آفریدی پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈز حاصل کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے یہ ایوارڈ 32 مرتبہ حاصل کیا۔
4 ویوین رچرڈز – کرکٹ کا کنگ
ویوین رچرڈز کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے یہ 1970 اور 80 کی دہائی میں سب سے زیادہ خوفناک بیٹسمین مانے جاتے تھے۔ ان کے اسٹروکس اور جارحانہ انداز نے ویسٹ انڈیز کو کرکٹ کا بادشاہ بنا دیا تھا۔
ویوین رچرڈز نے 1984 میں انگلینڈ کے خلاف 170 گیندوں پر 189 رنز کی اننگز کھیلی، جو اس وقت کی سب سے تیز اور شاندار اننگز تھی۔
انہوں نے ODI،187 میچوں میں، 6,721 رنز، اسٹرائیک ریٹ 90+ کے حساب سے بناۓ اور 121 ٹیسٹ میچوں میں، 8,540 رنز، 24 سنچریاں جوڑیں
ان کی ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ وہ ہیلمٹ کے بغیر تیز رفتار بولرز کا سامنا کرتے تھے اور چھکوں کی برسات کر کے تماشائیوں کو محظوظ کرتے تھے۔ ان کی خود اعتمادی اور جارحانہ بیٹنگ نے انہیں “کرکٹ کا کنگ” بنادیا۔
5 برینڈن میک کولم – جارحانہ کپتان
برینڈن میک کولم کو نیوزی لینڈ کرکٹ کا سب سے انقلابی کپتان اور جارحانہ بیٹسمین کہا جاتا ہے۔
برینڈن میک کولم نے 2016 میں آسٹریلیا کے خلاف صرف 54 گیندوں پر ٹیسٹ سنچری بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے تیز ترین سنچری ہے۔
برینڈن میک کولم نے 101 ٹیسٹ میچ کھیلے جس میں انہوں نے، 64+ اسٹرائیک ریٹ کے حساب سے 6,453 سکور کیے، اور ODI، 260 میچوں میں 6,083 رنز، 96+اسٹرائیک ریٹ کے حساب سے اور 71 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں، 2,140 رنز بناۓ۔
میک کولم نے اپنی پہلی ہی ٹی ٹوئنٹی اننگز میں 158 رنز بنا کر دنیا کو حیران کردیا اور بعد میں نیوزی لینڈ کو ورلڈ کپ 2015 کے فائنل تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ پانچوں بیٹسمین اپنی جارحیت، طاقت اور برق رفتاری کی وجہ سے کرکٹ کی تاریخ کے امر کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ شاہد آفریدی کے “بوم بوم شاٹس”، کرس گیل کی چھکوں کی بارش، اے بی ڈی ویلیئرز کی تخلیقی بیٹنگ، ویوین رچرڈز کا کرشمہ اور برینڈن میک کولم کا دبنگ انداز کرکٹ کو وہ رنگ دیتے ہیں جو اسے دیگر کھیلوں سے منفرد بناتا ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں ایسے کھلاڑی ہمیشہ شائقین کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
|
بیٹسمین |
ملک |
تیز
ترین سنچری (گیندوں پر) |
نمایاں
اننگز |
بین
الاقوامی رنز |
|
شاہد
آفریدی |
پاکستان |
37 گیندیں
(ODI) |
102 (37) بمقابلہ
سری لنکا |
11,000+ |
|
کرس
گیل |
ویسٹ
انڈیز |
30 گیندیں
(T20) |
175 (66) بمقابلہ پونے |
19,000+ |
|
اے
بی ڈی ویلیئرز |
جنوبی
افریقہ |
31 گیندیں
(ODI) |
149 (44) بمقابلہ
ویسٹ انڈیز |
20,000+ |
|
ویوین
رچرڈز |
ویسٹ
انڈیز |
جارحانہ
طرز (ODI) |
189 بمقابلہ
انگلینڈ |
15,000+ |
|
برینڈن
میک کولم |
نیوزی
لینڈ |
54 گیندیں
(ٹیسٹ) |
145 (79) بمقابلہ
آسٹریلیا |
14,000+ |