لاہور کے قریب رائیونڈ کے علاقے میں معمولی تنازع 30 روپے کے جھگڑے پر دو بھائی قتل ہونے پر پورا علاقہ سوگ میں۔
30 روپے کے جھگڑے پر دو بھائی قتل
لاہور کے قریب رائیونڈ کی ایک گلی میں شور مچا۔ کیلے اور آم سے لدی ریڑھیاں، گاہکوں کا ہجوم، شور و غل، اور پھر اچانک لاٹھیوں اور کرکٹ بیٹ کی گونج۔ لمحوں میں وہ منظر خون سے بھر گیا۔ دو جواں سال بھائی راشد اور واجد زمین پر گر چکے تھے۔ ایک بھائی دوسرے کا سر اپنی گود میں رکھے پانی پلانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اردگرد موجود سینکڑوں لوگ محض تماشائی بنے ہوئے تھے۔
یہ سب کچھ 30 روپے کے جھگڑے سے شروع ہوا۔
جھگڑا کہاں سے شروع ہوا؟
21 اگست کی شام، راشد اور واجد اپنی دکان پر دودھ پہنچا کر گھر واپس آ رہے تھے۔ راستے میں وہ پھل خریدنے کے لیے رُکے۔ اویس نامی پھل فروش نے ایک درجن کیلوں کی قیمت 130 روپے بتائی، جبکہ ان کے پاس صرف 100 روپے اور بڑے نوٹ موجود تھے۔ اویس نے پہلے کہا کہ “لے جاؤ”، لیکن پاس ہی کھڑے اس کے بھائی تیمور نے تلخ جملے کسے اور گالی گلوچ پر اتر آیا۔
بات بڑھی تو ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ اویس، تیمور اور ان کے ساتھیوں نے ڈنڈوں اور کرکٹ بیٹ سے حملہ کر دیا۔ لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا لیکن کوئی آگے نہ بڑھا۔ موبائل فون کے کیمرے آن تھے، لیکن کسی کا دل نہ کیا کہ دو بے بس جوانوں کو بچا لے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو آج بھی اس واقعے کی گواہ ہے۔ واجد زخمی حالت میں اپنے بھائی راشد کو گود میں اٹھائے پانی پلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خون میں لت پت راشد کی آنکھیں بند ہو رہی ہیں اور اردگرد موجود تماشائی صرف ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں۔ اسی دوران حملہ آور ایک بار پھر کرکٹ بیٹ سے ان پر وار کرتے ہیں۔
راشد موقع پر ہی دم توڑ دیتا ہے جبکہ واجد زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت طبی امداد مل جاتی تو واجد کی جان بچائی جا سکتی تھی، لیکن ایک سے دوسرے اسپتال منتقل کرنے میں تاخیر ہوئی اور وہ بھی دم توڑ گیا۔
ان دونوں بھائیوں کے والد سعید اقبال قصور کے گاؤں رتی پنڈی کے رہائشی ہیں۔ ان کے سات بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ راشد اور واجد ان کے کاروبار کے مضبوط بازو تھے۔
وہ کہتے ہیں میرے ایک بیٹے کی زندگی 15 روپے اور دوسرے کی بھی 15 روپے۔ دونوں شیر جوان صرف 30 روپے پر مار ڈالے گئے۔ ایسے تو جانوروں کو بھی نہیں مارتے جیسے میرے بچوں کو مارا گیا۔
سعید اقبال کے چہرے پر دکھ اور بے بسی کی لکیریں ہیں۔ وہ بار بار دہراتے ہیں کہ وہاں سیکڑوں لوگ کھڑے تھے لیکن کسی نے روکنے کی کوشش نہ کی۔
یہ الفاظ صرف ایک باپ کا غم نہیں، یہ ہمارے پورے سماج کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ ہم نے اپنی روزمرہ زندگی میں اتنی سختی اور غصہ پال لیا ہے کہ چھوٹی سی بات پر جان لینے اور دینے پر تُل جاتے ہیں۔
پولیس کا کردار اور نیا موڑ
قتل کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا اور دونوں مرکزی ملزمان اویس اور تیمور کو گرفتار کر کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا۔ لیکن معاملہ یہیں ختم نہ ہوا۔
پولیس نے ملزمان اویس اور تیمور کو گرفتار کیا، لیکن آج وہ بھی پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ حقیقت کیا ہے، شاید یہ بعد میں طے ہو۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سے مقتولین کے والد کے زخم بھر جائیں گے؟ کیا دو نوجوانوں کی موت کا دکھ مٹ جائے گا؟
یہ واقعہ ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھاتا ہے۔ یہ ہماری برداشت کے فقدان، ہمارے غصے اور ہماری بے حسی کا المیہ ہے۔ یہ واقعہ صرف رائیونڈ کا نہیں، یہ ہر اُس جگہ کا چہرہ ہے جہاں چھوٹی سی بات پر لوگ جان لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور باقی تماشائی بنے رہتے ہیں۔
ہم میں سے ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ یہ تو دوسروں کے ساتھ ہوا۔ لیکن کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ یہی معاشرہ ہمارا اپنا ہے؟ کل کو یہ سانحہ کسی کے بھی دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔
ایک آخری سوال
کیا ہمارے ہجوم میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں رہا جو ظلم کو روک سکے؟ کیا ہم سب کی اجتماعی انسانیت صرف موبائل کے کیمرے تک محدود رہ گئی ہے؟ اور کیا ہمارے بچوں کی زندگیاں اب اتنی ارزاں ہو چکی ہیں کہ صرف 30 روپے پر چھین لی جائیں؟
یہ سوالات جواب مانگتے ہیں ہم سے، آپ سے، اور پورے معاشرے سے۔