گوگل کی سمارٹ عینکوں (Smart Glasses) کی تیاری

گوگل کی سمارٹ عینکوں (Smart Glasses) کی تیاری 0

گوگل کی سمارٹ عینکوں (Smart Glasses) کی تیاری ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا قدم ہے، خاص طور پر Gemini AI کو انسانی زندگی کا لازمی حصہ بنانے کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔

گوگل کی سمارٹ عینکوں (Smart Glasses) کی تیاری

یہ چشمے ان لوگوں کے لیے ہیں جو ٹیکنالوجی کو استعمال تو کرنا چاہتے ہیں لیکن ہر وقت آنکھوں کے سامنے اسکرین نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ دیکھنے میں بالکل عام چشموں جیسے ہوں گے، جن کا وزن بھی کم ہوگا۔ اس میں گوگل کا جیمینائی لائیو (Gemini Live) فیچر کام کرے گا۔ آپ اس سے بالکل ایسے بات کر سکیں گے جیسے کسی انسان سے کر رہے ہوں۔ اس میں نصب  کیمرے کے ذریعے جیمینائی وہ سب دیکھ سکے گا جو آپ دیکھ رہے ہوں گے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کسی پودے کو دیکھ کر پوچھیں کہ اسے کتنا پانی چاہیے؟  تو وہ فوری جواب دے دے گا۔آڈیو بلٹ ان اسپیکرز کے ذریعے معلومات براہ راست آپ کے کانوں تک پہنچیں گی۔

اس کے  ڈسپلے والے اے آئی چشمے   Augmented Reality (AR) کی جدید شکل ہیں، جہاں ڈیجیٹل معلومات آپ کی اصل دنیا کے اوپر نظر آتی ہیں۔ ان کے لینس (شیشے) کے اندر ایک باریک ڈسپلے ہوگا جو صرف پہننے والے کو نظر آئے گا۔ اس طرح اگر آپ کسی غیر ملکی سے بات کر یں گے، تو اس کی بولی ہوئی زبان کا ترجمہ آپ کی آنکھوں کے سامنے سب ٹائٹلز کی صورت میں آ جائے گا۔  پیدل چلتے ہوئے نقشہ دیکھنے کے بجائے، یہ چشمے سڑک پر ہی تیر (Arrows) کے نشان دکھائیں گے کہ آپ کو کہاں مڑنا ہے۔ فون نکالے بغیر آپ میسجز اور اہم الرٹس دیکھ سکیں گے۔

اس کے مائیکروفون اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ صرف پہننے والے کی آواز پر توجہ دیں (Beamforming Technology)۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جیمینائی صرف آپ کے حکم مانے گا اور اردگرد کے لوگوں کی نجی گفتگو کو ریکارڈ نہیں کرے گا۔

گوگل کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو معلومات کے لیے اپنی جیب سے فون نکالنے کی ضرورت نہ پڑے، بلکہ ٹیکنالوجی آپ کے گردونواح کا حصہ بن جائے۔ کوکنگ یا ورزش کے دوران جیمینائی سے مدد لی جا سکے گی۔ آپ کے روزمرہ کے کاموں کو یاد رکھنے اور شیڈول بنانے میں مدد دیں گے۔

اگر آپ خریداری کے دوران کسی دکان میں کوئی چیز دیکھیں گے اور جیمینائی سے پوچھیں گے، کیا یہ آن لائن سستی مل رہی ہے؟ وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے قیمت لکھ دے گا۔
 اگر آپ کوئی مشین ٹھیک کر رہے ہیں، تو جیمینائی لینس کے اندر تیر کے نشان لگا کر بتائے گا کہ اس پیچ (Screw) کو کھولیں۔کسی اجنبی شہر میں آپ کو فون دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، آپ کے چشمے کی اسکرین پر ہی راستہ نظر آ رہا ہوگا۔

گوگل یہ چشمے، میٹا کے رے بین  چشموں سے مقابلے کے لیے تیار کر رہا ہے، کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں میٹا کے ‘رے بین’ (Ray-Ban) چشمے کافی مقبول ہیں۔ گوگل ان کا مقابلہ درج ذیل طریقوں سے کر سکتا ہے

 گوگل کے پاس جی میل، نقشے (Maps)، اور کیلنڈر کی طاقت ہے۔ گوگل گلاس پہن کر جب آپ کسی ریسٹورنٹ کو دیکھیں گے، تو جیمینائی نہ صرف اس کی ریٹنگ بتائے گا بلکہ آپ کی ای میلز دیکھ کر یہ بھی بتا سکے گا کہ آپ کی یہاں شام 7 بجے بکنگ ہے۔

 گوگل ایک ایسے اے آئی پر کام کر رہا ہے جو بہت تیزی سے چیزوں کو پہچانتا ہے۔ میٹا کے مقابلے میں گوگل کا جیمینائی ویڈیو کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے (جیسے کھوئی ہوئی چابیاں ڈھونڈنا)۔  میٹا کے موجودہ چشموں میں اسکرین نہیں ہے، جبکہ گوگل کی دوسری قسم میں ان لینس ڈسپلے ہوگا، جو اسے ایک مکمل سمارٹ ڈیوائس بنا دے گا۔ گوگل ان چشموں میں Circle to Search جیسا فیچر بھی دے سکتا ہے، یعنی جس چیز کی طرف آپ اشارہ کریں گے، جیمینائی اس کی تمام معلومات آپ کے سامنے لے آئے گا۔

ان چشموں کو پورا دن پہننے کے قابل بنانے کے لیے گوگل کو ان تین چیزوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے
بیٹری اور وزن: عام طور پر زیادہ فیچرز کا مطلب بڑی بیٹری ہے، لیکن کوئی بھی بھاری چشمہ نہیں پہننا چاہتا۔ گوگل ممکنہ طور پر نئے کم طاقت والے (Low-power) پراسیسرز استعمال کر رہا ہے جو صرف اس وقت متحرک ہوں گے جب آپ “Hey Gemini” کہیں گے۔  بیٹری لائف کو بہتر بنانا ایک بڑا ٹاسک ہے تاکہ یہ پورے دن چل سکیں۔

حرارت (Heat Management): اے آئی کا استعمال پراسیسر کو گرم کر دیتا ہے۔ چونکہ یہ آلہ چہرے پر ہوگا، اس لیے گوگل کو اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے جدید ترین تھرمل ڈیزائن تیار کرنا پڑا ہے۔
ملٹی موڈل اے آئی (Multimodal AI)  جیمینائی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بیک وقت آواز، تصویر اور متن کو سمجھتا ہے۔ ان چشموں میں ایسے سنسرز لگائے گئے ہیں جو اردگرد کے شور کو ختم کر کے صرف آپ کی آواز پر توجہ دیں گے۔

لیکن اس کے لیےگوگل کے سامنے کچھ چیلنجز بھی ہیں، سب سے بڑا چیلنج پرائیویسی ہے۔ چونکہ ان چشموں میں کیمرے لگے ہوں گے، اس لیے عوامی مقامات پر دوسروں کی ریکارڈنگ کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔  لوگ یہ نہیں چاہیں گے کہ کوئی ان کی مرضی کے بغیر خفیہ طور پر ویڈیو بنائے۔ کیونکہ  گوگل نے 2012 میں بھی گوگل گلاس کے نام سے کوشش کی تھی لیکن وہ ڈیزائن اور پرائیویسی کی وجہ سے ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن اب Gemini AI کی بدولت یہ ٹیکنالوجی پہلے سے کہیں زیادہ ذہین ہو کر واپس آ رہی ہے۔

گوگل نے اس حوالے سے اب کچھ حفاظتی اقدامات پر کافی کام کیا ہے۔
گوگل کے ان چشموں میں کیمرے کے بالکل ساتھ ایک چھوٹی ایل ای ڈی (LED) لائٹ لگی ہوگی۔ جب بھی چشمہ تصویر لے گا یا ویڈیو ریکارڈ کرے گا، یہ لائٹ روشن ہو جائے گی تاکہ سامنے والے شخص کو معلوم ہو سکے کہ کیمرہ آن ہے۔ اگر کوئی اس لائٹ کو ڈھانپنے کی کوشش کرے گا، تو سافٹ ویئر کیمرے کو کام کرنے سے روک دے گا۔

 گوگل کی کوشش ہے کہ بنیادی اے آئی (AI) کام خود چشمے کے اندر یا آپ کے فون پر ہی ہوں، تاکہ آپ کی ذاتی تصاویر یا آواز ہر وقت گوگل کے سرور پر نہ جائے۔
 آپ کی ریکارڈ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر انکرپٹڈ (Encrypted) ہوں گی، یعنی اگر آپ کا چشمہ گم بھی ہو جائے تو کوئی دوسرا آپ کا ڈیٹا نہیں دیکھ سکے گا۔

 دستیابی  کے حوالے سے گوگل نے ابھی تک ان کی کوئی سرکاری قیمت مقرر نہیں کی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے
اسکرین کے بغیر اے آئی چشمے ان کی قیمت میٹا کے رے بین چشموں کے قریب ہونے کا امکان ہے، یعنی تقریباً 299 سے 350 ڈالر (تقریباً 85,000 سے 1,00,000 پاکستانی روپے)۔
ڈسپلے والے اے آئی چشمے چونکہ ان میں جدید ویو گائیڈ ڈسپلے ٹیکنالوجی استعمال ہوگی، اس لیے ان کی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ 500 سے 700 ڈالر (تقریباً 1,40,000 سے 2,00,000 پاکستانی روپے) کے درمیان ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں