کیلوں پر بجلی کا بل اور ٹیکس کی کہانی: عوام پر حکومتی ہیرا پھیری کی جھلک
بلوں میں ٹیکس، ٹیکس میں ظلم، اور ظلم میں مزاح ، عوام پر حکومتی ہیرا پھیری کی ایک مزاحیہ جھلک۔ کیلوں پر بجلی کا بل اور ٹیکس کی کہانی میں دلچسپ حقیقت ۔
ٹیکس ریاست کا حق ہے اور اس کا اصل مقصد عوامی خدمات، دفاع، انصاف اور انفراسٹرکچر جیسے عمومی امور کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکس منصفانہ، شفاف اور قابلِ عمل ہو، ورنہ اس کے معاشی اور سماجی نتائج منفی ہوتے ہیں۔
لیکن جب ٹیکس شرحیں غیر معقول ہوں یا طریقہ کار پیچیدہ اور بدعنوانی سے بھرپور ہو تو لوگ چھپنے، ٹیکس بچانے یا آمدنی بیرونِ ملک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ: حکومت کو آمدنی کم ملتی ہے اور بجٹ خسارہ بڑھتا ہے۔
بجلی کے محکمے کے دفتر کے سامنے ٹھیلے پر ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا۔ اس محکمے کے ایک بڑے افیسر نے اس کے سامنے گزرتے ہوئے پوچھا، کیلے کس حساب سے دے رہے ہو؟ ٹھیلے والے نے جواب دیا کیلے کس کے لیئے خرید رھے ہیں صاحب؟
افسر: کیا مطلب؟
کیلے والا : مطلب یہ کہ یتیم خانے کے لیئے لے رہے ہو تو 40 روپیہ درجن – اولڈ ھوم کےلیئے لے رہے ہو تو 50 روپیہ درجن۔ بچوں کے ٹفن کے لیئے 60 روپیہ درجن۔ گھر کے لیئے لے رہے ہو تو 100 روپیہ درجن۔ اگر پکنک کے لیئے خریدنے ہیں تو 180 روپیہ درجن ۔
افسر: یہ کیا مذاق ہے؟ جب سب کیلے ایک جیسے ھی ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟
کیلے والا: پیسوں کی وصولی کا یہ انداز اور اسٹائل تو آپ لوگوں سے ھی سیکھا ہے ۔
جیسے:1 سے 100 یونٹ ریڈنگ کا الگ ریٹ، 100 یونٹ سے 200 تک کا الگ ریٹ، 200 یونٹ سے اوپر ایک بھی یونٹ کا الگ ریٹ۔جبکہ بجلی تو ایک جیسی ھی ہے اور آپ ایک ھی کھمبے سے دیتے ہو؟ تو پھر گھر کے لیئے الگ ریٹ، دکان کے لیئے الگ ریٹ،کارخانے کا الگ ریٹ، اور ایک بات اور، میٹر کا بھاڑا بھی الگ ہے،
میٹر کیا امریکہ سے امپورٹ کیا ہے؟؟؟ 25 سال سے بھاڑا بھر رہا ہوں آخر میٹر کی قیمت کتنی ہے؟ آپ بتا ھی دو مجھے ایک بار۔
افسر نے بغیر کیلے خریدے ھی بھاگنے میں اپنی بھلائی سمجھی –
ان بجلی کے بلوں میں شامل اس قسم کی یعنی 200 اور 201 والی ہیرا پھیری سب کی جیبوں پر سرکار کی سرپرستی میں قانونی ڈکیتی کے مترادف کہلاتی ہے جبکہ ان میں مزید 14 اقسام کے ٹیکس بھی بھتے کی شکل میں شامل ہیں جنکا کوئی تعلق بجلی کے محکمے سے نہیں بنتا۔
عوام ان بدمعاشی سے بھرپور بجلی کے بلوں کو بھرنے کے لیئے گھر کی چیزیں بیچ بیچ کر مجبوراً ان بلوں کی ادائیگیاں کر رھے ہیں۔
آخر میں آپ کو ایک مفت مشورہ بھی، روزانہ صبح اُٹھ کر نہار منہ 2 گلاس پانی ضرور پیئں اس سے آپ کے گردے صحت مند رہیں گے، کیا پتہ اگلے مہینے بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے آپ کو گردے بھی بیچنا پڑیں۔
ٹیکس ریاست اور شہری کے درمیان ایک لازمی معاہدہ ہے جب یہ منصفانہ، شفاف اور قابلِ عمل ہوگا تو وہی ریاست مضبوط عوامی خدمات اور معاشی استحکام فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن جب ٹیکس بے جا، غیر متناسب یا بدعنوانی کے ماحول میں لگایا جائے تو اس کے بھاری اقتصادی اور سماجی نتائج ہوتے ہیں ٹیکس چوری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم مساوات اور سماجی بدامنی شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے حل کا راستہ پالیسیوں میں شفافیت، ٹیکس بیس کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات سے گزرتا ہے تبھی عوامی اعتماد بحال ہوگا اور ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوگا۔