ڈپریشن کیا ہے اور ڈپریشن کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے

ڈپریشن کیا ہے اور ڈپریشن کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے 0

ڈپریشن کیا ہے ؟

ڈپریشن محض اداسی یا وقتی غم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طبی اور نفسیاتی عارضہ (Medical & Psychological Disorder) ہے جو انسان کی سوچ، احساس، جسم، تعلقات اور روزمرہ کے رویے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

 مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک سنگین مگر قابلِ علاج ذہنی عارضہ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان خود سے، زندگی سے، حتیٰ کہ خوشی سے بھی تعلق کھو دیتا ہے۔

ایک عام انسان جب کسی نقصان یا ناکامی سے گزرتا ہے تو اسے وقتی غم ہوتا ہے، مگر جب وہ غم مہینوں تک قائم رہے اور زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر چھا جائے، تو یہی کیفیت “ڈپریشن” بن جاتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص اپنی ملازمت کھو دے اور چند دن تک اداس رہے، تو یہ فطری ردِعمل ہے، لیکن اگر وہ مہینوں تک خود کو ناکام اور بیکار سمجھتا رہے، تو یہ واضح طور پر ڈپریشن کی نشانی ہے۔

ڈپریشن انسان کے دماغی کیمیکل (Neurotransmitters) جیسے سیرٹونن، ڈوپامین اور نور ایڈرینالین کو متاثر کرتا ہے۔ یہ کیمیکل وہ ہیں جو خوشی، حوصلہ، اور توانائی کو متوازن رکھتے ہیں۔ جب ان میں خلل پیدا ہوتا ہے تو موڈ نیچے گرنے لگتا ہے، جسمانی توانائی کم ہو جاتی ہے، اور سوچ منفی رخ اختیار کر لیتی ہے۔

ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ ڈپریشن صرف بالغوں تک محدود نہیں۔ آج کل نو عمر بچے بھی امتحانی دباؤ، تنہائی، سوشل میڈیا کے اثرات، یا والدین کی جھگڑوں کی وجہ سے اس کیفیت کا شکار ہو رہے ہیں۔

ڈپریشن کے شکار افراد اکثر بے بسی، مایوسی اور خالی پن محسوس کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ معمولی کاموں میں بھی دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ عالمی سطح پر تقریباً 5 فیصد بالغ افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا امکان دو گنا زیادہ ہوتا ہے ،کیونکہ ہارمونی تبدیلیاں، حمل، یا سماجی دباؤ ان پر زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، یہ بیماری معذوری کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔ یہ حالت اگر علاج کے بغیر رہ جائے تو خودکشی تک کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بیماری کیوں ہوتی ہے؟

ڈپریشن کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ یہ کئی حیاتیاتی، جینیاتی، نفسیاتی اور سماجی عوامل کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان کے لیے اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔

ہمارے دماغ میں مخصوص کیمیائی مادے (Neurotransmitters) خوشی اور سکون کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں۔
جب یہ مادے کم یا غیر متوازن ہو جاتے ہیں تو انسان کی سوچ منفی سمت میں چلی جاتی ہے۔
مثلاً، سیرٹونن کی کمی سے موڈ اداس رہتا ہے، ڈوپامین کی کمی سے کسی چیز میں دلچسپی نہیں رہتی، اور نورایڈرینالین کی کمی سے توانائی کم ہو جاتی ہے۔

جیسے کسی موبائل کی بیٹری کم ہو جائے تو وہ آہستہ چلنے لگتا ہے، بالکل ویسے ہی جب دماغ کی کیمیائی بیٹری کمزور پڑ جائے تو انسان کا ذہن اور جسم دونوں سست ہو جاتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر خاندان میں کسی کو ڈپریشن رہا ہو تو دوسرے افراد میں اس کے امکانات 40 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
یعنی اگر والد یا بہن بھائیوں میں کسی کو ڈپریشن ہو، تو وہ خاندانی طور پر ایک “جینیاتی خطرہ” بن سکتا ہے۔

زندگی کے بعض حالات بھی انسان کو ذہنی طور پر توڑ دیتے ہیں،جیسے،کسی عزیز کی موت،  طلاق یا رشتے کا ختم ہونا، مالی نقصان،  تنہائی یا سماجی کٹاؤ وغیرہ ۔

پاکستان جیسے معاشروں میں، جہاں سماجی دباؤ، بے روزگاری، اور خاندانی دباؤ زیادہ ہوتا ہے، وہاں ڈپریشن کے کیسز عام ہیں۔مثلاً، ایک نوجوان جو ملازمت کے لیے کئی جگہ انٹرویو دیتا ہے مگر کامیاب نہیں ہوتا، وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ یہ حالات کا نتیجہ ہے، کمزوری نہیں۔

کچھ لوگ بچپن سے ہی حساس، خود تنقیدی، یا کمال پسند (Perfectionist) ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ معمولی ناکامی کو بھی اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ لیتے ہیں، جس سے ڈپریشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح، بچپن کا صدمہ (Childhood Trauma) جیسے تشدد، بدسلوکی یا نظراندازی دماغ میں ایسے نشانات چھوڑ جاتے ہیں جو بڑے ہو کر ڈپریشن میں بدل سکتے ہیں۔

کچھ جسمانی بیماریاں بھی ڈپریشن کو جنم دیتی ہیں۔مثلاً تھائرائیڈ کی خرابی، ذیابیطس،  دل کے امراض، کینسر یا دائمی درد۔ اسی طرح، کچھ دوائیں جیسے Steroids یا Blood Pressure Medicines بھی دماغی کیمیکل پر اثر ڈال کر ڈپریشن پیدا کر سکتی ہیں۔

ڈپریشن کی علامات اور اثرات

ڈپریشن کی علامات  بھی اسباب کی طرح ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن زیادہ تر یہ علامات جسم، ذہن اور رویے تینوں پر اثر ڈالتی ہیں۔

1. جذباتی اور ذہنی علامات

مستقل اداسی، خالی پن، یا ناامیدی کا احساس، کسی چیز میں دلچسپی یا لطف نہ آنا، خود کو بیکار یا ناکام سمجھنا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا یا چڑچڑا ہونا، خودکشی یا موت کے خیالات۔ مثلاً، ایک لڑکی جو پہلے موسیقی، مطالعہ یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی شوقین تھی، اب انہی چیزوں سے اکتاہٹ محسوس کرتی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ “زندگی میں کچھ باقی نہیں رہا”، حالانکہ حقیقت میں یہ بیماری کا اثر ہے۔

2. جسمانی علامات

نیند کا متاثر ہونا (زیادہ سونا یا بالکل نہ سونا)، بھوک میں کمی یا وزن کا بڑھ جانا، مسلسل تھکاوٹ، توانائی کا ختم ہونا، سر درد، معدے کی خرابی، یا جسمانی درد۔ ان علامات کی وجہ سے لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ انہیں جسمانی بیماری ہے، حالانکہ بنیادی مسئلہ دماغی کیمیائی تبدیلی ہوتی ہے۔

3. رویوں میں تبدیلی

ڈپریشن انسان کو تنہا کر دیتا ہے۔ ایسا شخص دوستوں، خاندان، یا سماجی تقریبات سے بچنے لگتا ہے۔ وہ کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتا، حتیٰ کہ اپنے شوق یا خوابوں سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپریشن کو “خاموش بیماری” کہا جاتا ہے — کیونکہ بظاہر انسان ٹھیک دکھتا ہے، مگر اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔

ڈپریشن کا علاج

خوش آئند بات یہ ہے کہ ڈپریشن مکمل طور پر قابلِ علاج ہے۔ اہم شرط یہ ہے کہ بروقت پہچانا جائے اور پیشہ ور مدد حاصل کی جائے۔

1. نفسیاتی علاج (Psychotherapy)

یہ علاج بات چیت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ماہرِ نفسیات (Psychologist) مریض کو اس کے خیالات اور احساسات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
Cognitive Behavioral Therapy (CBT) میں مریض کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ منفی سوچوں کو پہچانے اور انہیں حقیقت پر مبنی سوچ سے بدل دے۔
مثلاً، اگر مریض سوچتا ہے “میں ناکام ہوں”، تو تھراپسٹ اس سے کہے گا: “کیا واقعی ہر چیز میں ناکامی ملی؟ یا کچھ کامیابیاں بھی ہیں جنہیں تم نظر انداز کر رہے ہو؟” یہ سوچنے کا نیا زاویہ مریض کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

2. ادویات (Antidepressants)

 اس طریقہ علاج میں ڈاکٹر ایسی دوائیں تجویز کرتے ہیں جو دماغ میں سیرٹونن اور ڈوپامین کی سطح کو متوازن بنائیں۔ یہ دوائیں دماغ کی بیٹری کو دوبارہ چارج کرتی ہیں، مگر ان کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

3. قدرتی اور گھریلو طریقے

ڈپریشن کو  گھر میں مختلف حکمت عملیاں اپنا کر بھی روکا اور کم کیا جا سکتاہے۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش۔ متوازن غذا — پھل، سبزیاں، اناج۔ یوگا، مراقبہ یا سانس کی مشقیں۔ نیند کا باقاعدہ نظام۔ مثبت لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا وغیرہ ۔ تحقیقات سے ثابت ہے کہ صرف روزانہ چہل قدمی بھی سیرٹونن کی سطح بڑھا کر موڈ کو بہتر بناتی ہے۔

4. سماجی تعاون (Social Support)

ڈپریشن کا سب سے مؤثر علاج ایک سادہ جملہ ہے:
میں تمہارے ساتھ ہوں۔
یہ جملہ کسی کے لیے زندگی بدل سکتا ہے۔
دوستوں اور خاندان کا تعاون مریض کو یقین دلاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں۔
اسی لیے ماہرین کہتے ہیں:

ڈپریشن میں خاموشی نہیں، گفتگو علاج ہے۔

خلاصہ

ڈپریشن ایک سخت امتحان ضرور ہے، مگر یہ ایسا دروازہ بھی ہے جو خود آگاہی اور زندگی کے نئے معنی کی طرف کھلتا ہے۔
یہ بیماری ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان مشین نہیں، جذبات رکھنے والا وجود ہے۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ڈپریشن کا شکار ہے، تو یاد رکھیں:
یہ آپ کی غلطی نہیں، اور علاج ممکن ہے۔

اپنی زندگی کی باگ ڈور واپس لینے کے لیے پہلا قدم بس یہی ہے کہ آپ مدد مانگنے سے نہ گھبرائیں۔
ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات، یا ایک سچا دوست — یہ سب وہ روشنی ہیں جو آپ کو اندھیرے سے نکال سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں