دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں چین اور امریکہ ایک بار پھر آمنے سامنے۔ مگر اس بار میدانِ جنگ نہ سمندری ہے، نہ فضائی ، بلکہ تجارتی ہے۔
چین اور امریکہ مذاکرات
اب کے بار، یوں لگتا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پھیلا ہوا معاشی فاصلہ، اب سیاسی ضد اور سفارتی دباؤ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف محصولات کی تلوار لٹک رہی ہے تو دوسری طرف معدنی وسائل کی رگوں پر گرفت مضبوط کی جا رہی ہے۔ لیکن تازہ خبریں یہ کہتی ہیں کہ شاید ابھی بات بگڑی نہیں، بلکہ دونوں ممالک ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ۔
گزشتہ ہفتے تک صورتِ حال خاصی کشیدہ تھی۔ بیجنگ نے اچانک نایاب معدنیات، وہی معدنیات جو اسمارٹ فون سے لے کر میزائل تک ہر جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں ، پر نئی پابندیاں لگا دیں۔ امریکہ کے لیے یہ کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوراً اعلان کیا کہ چین سے درآمد کی جانے والی ہر چیز پر سو فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ دھمکی دراصل ایک معاشی بم تھی، جس کے نتائج صرف چین ہی نہیں بلکہ عالمی منڈیوں کو بھی ہلا سکتے تھے۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ، جو پہلے ہی اپنے بیانات سے دنیا بھر کے رہنماؤں کو چونکا چکے ہیں، جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک فورم (اے پی ای سی) سمٹ میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ وہاں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے متوقع ملاقات منسوخ کر سکتے ہیں۔ گویا مذاکرات سے پہلے ہی دروازہ بند کر دینے کا اشارہ دے دیا گیا۔ لیکن عالمی سیاست ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔ کبھی کبھی مخالف سمت سے ہی مفاہمت کی راہ نکل آتی ہے۔
اسی ہفتے ایک اچانک پیش رفت ہوئی۔ چینی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ نائب وزیرِ اعظم ہی لی فینگ اور امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے درمیان ایک “کھلے، گہرے اور تعمیری” رابطے کی ویڈیو کال ہوئی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے پوری دنیا میں ایک ہلکی سی امید کی کرن پیدا کی۔ دونوں جانب سے عندیہ دیا گیا کہ جلد ہی وہ تجارتی مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کریں گے۔
سوشل میڈیا پر بیسنٹ نے خود اس گفتگو کو “واضح اور تفصیلی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے بالمشافہ ملاقات ہوگی تاکہ مذاکرات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ اگرچہ یہ بیانات سفارتی انداز میں دیے گئے، لیکن ان کے پیچھے چھپی بےچینی سب محسوس کر سکتے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین اپنی برآمدی پابندیوں میں نرمی کرے، جبکہ چین یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔
دونوں فریق دراصل ایک ایسے معاشی کھیل میں بندھے ہوئے ہیں جس میں کوئی بھی پہلا قدم پیچھے نہیں رکھنا چاہتا۔ امریکہ کو خوف ہے کہ اگر چین اپنی معدنیات پر گرفت سخت کرتا رہا تو عالمی سپلائی چین ٹوٹ جائے گی۔ دوسری جانب چین جانتا ہے کہ اگر امریکی ٹیرف 100 فیصد تک بڑھ گئے تو اس کی برآمدات کو شدید دھچکا لگے گا۔
یہی وہ کشمکش ہے جس نے دونوں کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کیا۔
چینی خبر رساں ایجنسی “شنہوا” کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے بھی اس ویڈیو کال میں شرکت کی۔ گویا یہ کوئی عام رابطہ نہیں بلکہ مکمل اعلیٰ سطحی مشاورت تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رابطہ ٹرمپ کے ایک انٹرویو نشر ہونے کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے تصدیق کی کہ وہ اب بھی شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان نے فوری طور پر سفارتی ماحول میں نرمی پیدا کر دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ چین سے درآمد شدہ سامان پر سو فیصد ٹیرف قابلِ برداشت نہیں “یہ پائیدار نہیں، مگر انہوں نے مجھے مجبور کیا”، ٹرمپ کا یہ جملہ آج عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن نے بھی اپنی چال تیز کی۔ امریکہ نے گروپ آف سیون (جی 7) کے مالیاتی وزراء سے رابطے بڑھا دیے تاکہ چین کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔ یورپی یونین کے اقتصادی کمشنر والدیس ڈومبرووسکس نے تسلیم کیا کہ جی 7 ممالک نے مختصر المدتی ردعمل پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی معیشت اب اس مقام پر ہے کہ سپلائرز کو متنوع بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نایاب معدنیات کا زیادہ تر ذخیرہ چین کے پاس ہے، اور اس سپلائی میں تنوع پیدا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ دوسرے لفظوں میں، دنیا کو فی الحال چین کے رحم و کرم پر رہنا پڑے گا
واشنگٹن میں ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں کے دوران بھی یہی موضوع چھایا رہا۔ وہاں یہ طے پایا کہ جی 7 ممالک چین سے متعلق اپنے اپنے رابطوں کی تفصیلات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے تاکہ وقتی طور پر کوئی متبادل راستہ نکالا جا سکے۔
جرمنی کے وزیرِ خزانہ لارس کلنگ بائل نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں امید ہے ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے زیادہ تر تجارتی تنازعے حل ہو جائیں گے۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ “جی 7 چین کے طرزِ عمل سے متفق نہیں”۔ یہ جملہ دراصل یورپ کے اندر موجود بےچینی کا عکاس ہے ۔ وہ چین سے براہِ راست ٹکر نہیں چاہتے، لیکن امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونا بھی سفارتی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ جی 7 میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ شامل ہیں۔ یعنی دنیا کے وہ ممالک جن کے فیصلے عالمی معیشت کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔
ادھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بھی اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کے مطابق عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہے، ایسے میں چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کا دوبارہ بھڑک اٹھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی نئی جنگ نہیں۔ دراصل یہ پرانی آگ ہے جو پھر سے سلگ اٹھی ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد امریکہ نے چین سے درآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے تھے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان ٹیرف کی شرح تین ہندسوں تک جا پہنچی تھی، جس کے نتیجے میں کئی شعبوں کی تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر منجمد ہو گئیں۔ کارخانے خام مال کے انتظار میں بند پڑے تھے اور کمپنیوں نے نئی سرمایہ کاری روک دی تھی۔
پھر ایک وقت ایسا آیا جب دونوں ملک تھک گئے۔ مذاکرات ہوئے، معاہدے ہوئے، محصولات میں کچھ نرمی آئی۔ دنیا نے سمجھا شاید طوفان گزر گیا۔ لیکن اصل میں یہ صرف وقتی جنگ بندی تھی، جس کے نیچے ضد، انا اور طاقت کی سیاست اب بھی سلگ رہی تھی۔
اب جب چین نے ایک بار پھر معدنیات پر کنٹرول سخت کیا اور امریکہ نے جواباً محصولات کی دھمکی دی، تو پرانے زخم پھر تازہ ہو گئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار دنیا پہلے سے زیادہ محتاط ہے۔ سرمایہ کاروں کو معلوم ہے کہ اگر یہ کشمکش طویل ہوئی تو عالمی مہنگائی میں نئی لہر آئے گی، اسٹاک مارکیٹس گر سکتی ہیں، اور ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک اور معاشی زلزلہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، اور یہی ان کے درمیان سب سے بڑا تضاد ہے۔ چین کے لیے امریکی منڈی سب سے بڑی برآمدی منزل ہے، جبکہ امریکہ کے لیے چینی پیداوار سستی اور تیز تر سپلائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ گویا دونوں کے درمیان ایسا رشتہ ہے جو نہ مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے، نہ بالکل درست ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند ہونے کے باوجود ان کی کنڈیاں کبھی نہیں لگتیں۔ ہر بار ایک نئی کوشش ہوتی ہے، ایک نیا وعدہ کیا جاتا ہے۔ اور ہر بار دنیا سانس روکے دیکھتی ہے کہ کیا واقعی یہ دونوں دیو اب سمجھوتے کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا پھر ایک اور “ٹِٹ فار ٹیٹ” جنگ ہمارے سامنے آنے والی ہے۔
اگر تاریخ کوئی رہنمائی دیتی ہے تو وہ یہی کہ امریکہ اور چین کے تعلقات ہمیشہ تناؤ اور تعاون کے درمیان جھولتے رہے ہیں۔ کبھی دونوں ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بن جاتے ہیں، اور کبھی چند مہینوں میں دشمنوں جیسی زبان اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر آخرکار، کسی نہ کسی مرحلے پر انہیں ایک دوسرے کے پاس واپس آنا ہی پڑتا ہے۔
اس وقت دنیا کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے “بردباری”۔ شاید یہی وہ لفظ ہے جو اس پورے منظرنامے کا خلاصہ بھی ہے اور حل بھی۔ اگر دونوں ملکوں نے ضد کو کنارے رکھ کر مفاہمت کی راہ اپنائی تو نہ صرف ان کے اپنے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ لیکن اگر یہ جنگ بڑھتی رہی تو نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا، چاہے وہ برلن ہو، بنکاک یا کراچی۔
فی الحال، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان جو ٹیلی فون کال ہوئی ہے وہ امید کی ایک چھوٹی سی کھڑکی ضرور کھولتی ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس پر ہیں کہ اگلے ہفتے ہونے والے مذاکرات میں یہ کھڑکی مزید کھلے گی یا پھر دوبارہ بند کر دی جائے گی۔