چڑیا اور شکاری کی سبق آموز کہانی جو آپ کی زندگی بدل دے

یہ چڑیا پکڑ لوں تو بیوی بچوں کے لیے گوشت کا مزے دار سالن بنے گا یہ کہتے ہی اُس نے جھٹ جال پھینکا اور چڑیا کو پکڑ لیا 0

چڑیا اور شکاری کی سبق آموز کہانی جو آپ کی زندگی بدل دے اور بچوں کے لیے نصیحت آمیز  ہے امام غزالی کی احیاء العلوم سے ماخوذ ہے

چڑیا اور شکاری

ایک دن کی بات ہے، ایک شکاری جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر ایک چمکدار رنگوں والی چڑیا پر پڑی۔
چڑیا درخت کی ایک شاخ پر بیٹھی خوشی سے چہک رہی تھی۔

انتباہ! یہ کہانی احیاءالعلوم (امام غزالی) سے لی گئی۔

شکاری بولا آہا!

 آج تو قسمت مہربان ہے۔ یہ چڑیا پکڑ لوں تو بیوی بچوں کے لیے گوشت کا مزے دار سالن بنے گا یہ کہتے ہی اُس نے جھٹ جال پھینکا اور چڑیا کو پکڑ لیا۔

چڑیا ڈری نہیں، بلکہ ہنستے ہوئے بولی ارے عقل مند انسان! اگر تم مجھے آزاد کر دو، تو میں تمہیں تین ایسی قیمتی باتیں بتاؤں گی جن سے تمہاری ساری زندگی سنور جائے گی!

شکاری نے حیرت سے پوچھا،
تین باتیں؟ کیسی باتیں؟

چڑیا نے کہا،ایک بات میں ابھی بتاؤں گی، دوسری اُس وقت جب تم مجھے آزاد کر دو گے ، اور  تیسری بات آپ کی پہنچ سے دور اُس اونچے درخت کی چوٹی پر بیٹھ کر بتاؤں گی۔

شکاری کو چڑیا کی بات پسند آئی، اس نے کہا

ٹھیک ہے، بتاؤ پہلی بات۔ چڑیا نے گہری آواز میں کہا پہلی بات یہ ہے کہ کبھی کسی ایسی چیز پر افسوس نہ کرنا جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔

شکاری نے سر ہلایا اور بولا، سمجھ گیا، چلو اب تمہیں آزاد کرتا ہوں۔

چڑیا فُر سے اُڑی اور پاس والے درخت کی شاخ پر جا بیٹھی۔ پھر بولی دوسری بات یہ ہے: کبھی کسی ایسی بات پر یقین نہ کرنا جو عقل کے خلاف ہو۔

شکاری نے پھر سر ہلایا،
یہ بھی اچھی بات ہے۔ اب تیسری بات؟

چڑیا نے شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے کہا تُو کتنا نادان ہے! اگر تُو مجھے نہ چھوڑتا تو تیرا نصیب کھل جاتا! میرے جسم کے اندر ایک قیمتی ہیرا چھپا ہوا ہے، جو کئی لاکھ کا ہے۔

یہ سن کر کسان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، پھر غصے سے چلایا،
او بدبخت پرندے! تُو نے مجھے دھوکہ دیا! واپس آ جا، ورنہ میں تجھے بندوق سے ماردوں گا۔

چڑیا اور شکاری

چڑیا نے قہقہہ لگایا اور اونچے درخت کی چوٹی پر بیٹھتے ہوئے کہا
اے ناسمجھ انسان! تو، تو پہلی ہی دو باتوں پر عمل نہ کر سکا۔
نہ تو تم  پچھتاوے سے بچے،
نہ ہی تم نے ناممکن بات پر یقین کرنے سے انکار کیا

بھلا میرے پیٹ میں اتنا قیمتی ہیرا کہاں سے آ گیا، ذرا سوچو تو سہی۔
اب تیسری بات کا کیا فائدہ؟
یاد رکھو! نصیحت سننے سے زیادہ، اُس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

یہ کہہ کر چڑیا دور اُڑ گئ اور شکاری صرف سر پکڑ کر بیٹھا رہ گیا۔

اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق

یہ حکایت ہمیں سکھاتی ہے کہ:

  1. گزرے وقت پر رونا بیکار ہے۔

  2. ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کرو، خاص طور پر وہ بات جو ناممکن ہو۔

  3. نصیحت سننے سے زیادہ اُس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

  4. نصیحت اُسی وقت فائدہ دیتی ہے جب اس پر عمل بھی کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں