پیف کے تحت چلنے والے سکول۔ والدین کے لیے اہم پیغام
پرائیویٹ یا پیف کے تحت چلنے والے سکول تعلیمی معیار میں شدید کمی کا شکار ہیں۔ ان اداروں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی اور ناقص نظام بچوں کے مستقبل کو متاثر کر رہا ہے۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ دنیا کی وہی قومیں آج کامیاب ہیں جنہوں نے تعلیم کو اولین ترجیح دی۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا نظام کئی دہائیوں سے مسائل کا شکار ہے۔
خاص طور پر جب حکومت نے اپنے سرکاری سکولوں کو نجی انتظامیہ کے حوالے کیا، جیسے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے تحت چلنے والے ادارے، تو یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی، وسائل میں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس نکلی ہے۔
آج اگر ہم عملی طور پر ان سکولوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے تعلیمی معیار کے لحاظ سے بہت پیچھے جا چکے ہیں۔ ان میں اساتذہ کی کمی ہے، موجودہ اساتذہ کا معیارِ تعلیم بھی اکثر کمزور ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں طلبہ کے مستقبل کی فکر کرنے والا کوئی نہیں۔
پرائیویٹ اور پیف کے تحت چلنے والے سکولوں کی صورتحال
کئی علاقوں میں ایسے سکول دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن اساتذہ چند ایک۔یہاں ایک ہائی سکول میں تقریباً 300 بچے زیر تعلیم ہیں، مگر وہاں:
صرف دو خواتین اساتذہ موجود ہیں جو میٹرک پاس ہیں اور پہلی سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم دیتی ہیں۔
چھٹی سے دسویں جماعت تک کے لیے صرف دو مرد اساتذہ ہیں جو ایف اے پاس ہیں۔
اب یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جب اتنے کم تعلیم یافتہ اور تعداد میں ناکافی اساتذہ ہوں گے تو وہ کس طرح سینکڑوں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر سکتے ہیں؟
ماضی اور حال کا فرق
جب یہ سکول حکومت کے براہِ راست ماتحت تھے تو وہاں کے حالات مختلف تھے۔ اس وقت:
ماسٹر ڈگری ہولڈر اور تربیت یافتہ اساتذہ موجود تھے۔
ہر کلاس کے لیے علیحدہ استاد مقرر تھا۔
طلبہ کو نہ صرف نصابی بلکہ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی رہنمائی دی جاتی تھی۔
مگر آج صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر سکول صرف کاغذوں پر چل رہے ہیں۔ کمرہ جماعت میں استاد کم اور طلبہ زیادہ، نتیجہ یہ کہ پڑھائی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
ظاہری نمود و نمائش
کئی ایسے سکول بھی ہیں جنہیں دیکھ کر بظاہر لگتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کے حامل ہیں۔ ان کی عمارتیں اچھی ہیں، بورڈز لگے ہیں، داخلے کے اشتہارات بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب اندر جا کر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ:
وہاں پڑھائی صرف دکھاوے تک محدود ہے۔ اساتذہ کی تعلیم اور تربیت انتہائی کمزور ہے۔ طلبہ کا وقت اور والدین کے پیسے ضائع کیے جا رہے ہیں۔ یہ صرف والدین کو متاثر کرنے کے لیے بنایا گیا ایک ظاہری ڈھانچہ ہے جس میں حقیقی تعلیم کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے۔
بچوں کا مستقبل خطرے میں
تعلیم کا مقصد محض ڈگری لینا نہیں بلکہ شخصیت کو سنوارنا، سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور مستقبل کو روشن بنانا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان سکولوں میں زیر تعلیم بچے اس معیار پر پورے نہیں اتر پاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
وہ آگے جا کر کسی مقابلے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ان کی بنیادی تعلیمی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔ وہ معاشرے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا نہیں کر پاتے۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ ادارے ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ ایک سنگین کھلواڑ کر رہے ہیں۔
والدین کی ذمہ داری
والدین پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کہاں تعلیم دلاتے ہیں۔ اگر والدین صرف دکھاوے اور سہولت کے نام پر ایسے سکولوں میں بچوں کو بھیج دیں تو وہ اپنے بچوں کا مستقبل خود خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اپنے بچوں پر اور اُ ن کی تعلیم پر ہر وقت نظر رکھیں۔
لہٰذا:
اپنے بچوں کو صرف ایسے سکولوں میں داخل کروائیں جو براہِ راست حکومت کے ماتحت ہوں۔ ان سکولوں میں گورنمنٹ کے ملازمین پڑھاتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ یہ اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے پابند بھی ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ملازمت براہِ راست ریاست کے قوانین کے تحت آتی ہے۔
داخلے سے پہلے سکول کا باقاعدہ جائزہ لیں۔
صرف عمارت اور باہر کے بینر دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔
اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور تعداد کے بارے میں معلومات ضرور لیں۔
اپنے گاؤں یا علاقے کے دیگر والدین سے رائے لیں جن کے بچے پہلے سے وہاں پڑھ رہے ہیں۔
اگر سکول کے معیار میں کمزوری ہو تو فوراً بچوں کو بہتر سرکاری ادارے میں منتقل کریں۔
قوم کا مستقبل اور ہماری ذمہ داری
یاد رکھیں، بچے صرف والدین کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو بہتر تعلیم نہیں دیں گے تو وہ آگے جا کر ملک کی ترقی میں حصہ نہیں ڈال سکیں گے۔ صرف ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
پرائیویٹ اور نجی انتظامیہ کے تحت چلنے والے سکول بظاہر پرکشش نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ہمارے بچوں کا وقت اور مستقبل ضائع کر رہے ہیں۔ اصل تعلیم اب بھی صرف حکومت کے ماتحت سکولوں میں موجود ہے، جہاں تربیت یافتہ اساتذہ دن رات محنت کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ آنکھیں کھول کر فیصلہ کریں اور اپنے بچوں کو صرف اور صرف ان اداروں میں بھیجیں جہاں حقیقی معنوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔