پاکستان میں ہڑتال اور احتجاج ہمیشہ سے عوامی زندگی کا ایک نمایاں پہلو رہے ہیں، مگر اب یہ عمل اس شکل میں باقی نہیں رہا جسے ہم برسوں سے جانتے اور سمجھتے آئے ہیں۔
ایک ایسا وقت تھا جب ہڑتال کا مطلب ہوتا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اعلان کیا جائے گا، مذہبی قیادت کسی جلسے یا جلوس کی کال دے گی، یا مزدور یونینیں اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلیں گی۔ لوگ مقررہ دن، مقررہ وقت اور مقررہ مقام پر جمع ہوتے تھے، اور ریاستی ادارے بھی انہی روایتی پیمانوں کو سامنے رکھ کر تیاری کرتے تھے۔ مگر اب یہ پورا منظرنامہ خاموشی سے بدل چکا ہے، اور شاید ہم میں سے بہت سے لوگ ابھی تک اس تبدیلی کی گہرائی کو پوری طرح محسوس نہیں کر پائے۔
ہڑتال کا نیا رنگ
آج پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہجوم کی پیدائش سڑک پر نہیں بلکہ اسکرین پر ہوتی ہے۔ احتجاج اب کسی جلسہ گاہ میں نہیں بلکہ موبائل فون کے اندر جنم لیتا ہے۔ کوئی مختصر ویڈیو، کوئی ایڈیٹ شدہ کلپ، کوئی پرانا واقعہ جسے نئے سیاق میں پیش کر دیا جاتا ہے، یا کوئی وائس نوٹ جو جذبات کو بھڑکانے کے لیے کافی ہو، یہ سب چند منٹوں میں وہ کام کر دیتے ہیں جو پہلے دنوں یا ہفتوں میں ہوتا تھا۔ یہی وہ نیا انداز ہے جس نے پاکستان میں ہڑتال کے تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب اب محض تفریح یا معلومات کے ذرائع نہیں رہے، بلکہ یہ عوامی جذبات کو منظم کرنے کی طاقتور مشینیں بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز ایسے مواد کو ترجیح دیتے ہیں جو شدید ردِعمل پیدا کرے۔ غصہ، خوف، مظلومیت، توہین کا احساس یا مذہبی جذبات، یہ سب وہ عناصر ہیں جنہیں ڈیجیٹل نظام تیزی سے آگے بڑھاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک معمولی واقعہ یا حتیٰ کہ ایک جھوٹی اطلاع بھی پورے شہر یا صوبے کو متاثر کر سکتی ہے، اور ہڑتال یا احتجاج کسی باقاعدہ اعلان کے بغیر وجود میں آ جاتا ہے۔
کئی واقعات ایسے ہوۓ جو بعد میں نیا رخ اختیار کر گۓ اس طرح کا ایک واقعہ اکتوبر 2025 کے دوران لاہور پریس کلب کے قریب فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے احتجاج میں ہوا۔ ابتدا میں احتجاج مکمل طور پر پُرامن رہا۔ تاہم جیسے ہی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد اور لائیو ویڈیوز تیزی سے گردش کرنے لگیں، ماحول میں کشیدگی بڑھتی گئی اور احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ بعد ازاں سامنے آنے والے حالات دراصل الگورتھم کے ذریعے ابھرنے والی شدت اور جذباتی ابال کا واضح نتیجہ تھے۔
مختصر وقت میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد نے ایک حساس عمارت کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی، جس سے سیکیورٹی کے حوالے سے نہایت سنگین صورتحال پیدا ہو گئی۔ حالات کو قابو میں لانے کے لیے بروقت اور منظم حکمتِ عملی اختیار کی گئی، جس میں محدود طاقت کا استعمال، مرکزی قیادت کو ہجوم سے الگ کرنا اور احتجاجی منتظمین سے براہِ راست رابطہ شامل تھا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صورتحال پر تیزی سے قابو پا لیا گیا اور بعد ازاں اہم تنصیبات کو مؤثر انداز میں محفوظ بنا لیا گیا۔
کچھ دہائیاں پہلے تک اگر کسی شہر میں ہڑتال ہوتی تھی تو اس کے آثار کئی دن پہلے نظر آنا شروع ہو جاتے تھے۔ دیواروں پر پوسٹر لگتے، اخبارات میں بیانات شائع ہوتے، سیاسی جماعتیں جلسے کرتیں، اور عوام کو یہ اندازہ ہو جاتا کہ فلاں دن بازار بند ہوں گے، ٹرانسپورٹ متاثر ہوگی یا کسی خاص مقام پر احتجاج ہوگا۔ اس پورے عمل میں ایک فطری تسلسل ہوتا تھا، اور ریاستی ادارے بھی اسی تسلسل کو بنیاد بنا کر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیتے تھے۔ پولیس قیادت سے بات کرتی، راستے طے کیے جاتے، نفری تعینات ہوتی اور یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ حالات کس حد تک جا سکتے ہیں۔
اب ہجوم کے بننے کا عمل تدریجی نہیں رہا۔ پہلے لوگ آہستہ آہستہ جمع ہوتے تھے، حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا، اور شدت کی ایک متوقع حد ہوتی تھی۔ مگر ڈیجیٹل ہجوم نہ قیادت کو مانتا ہے، نہ کسی واضح منصوبے کا پابند ہوتا ہے، اور نہ ہی اس کے ردِعمل کی پیش گوئی آسان ہوتی ہے۔ جب تک انتظامیہ یا پولیس کسی مقام پر پہنچتی ہے، اس سے کہیں پہلے آن لائن جذبات بھڑک چکے ہوتے ہیں اور صورتحال ہاتھ سے نکلنے کے قریب پہنچ چکی ہوتی ہے۔
پاکستان میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جہاں کسی افواہ، آدھی سچائی یا مکمل طور پر جھوٹی اطلاع نے بڑے پیمانے پر ردِعمل کو جنم دیا۔ بعد میں جب حقیقت سامنے آتی ہے تو تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ نقصان صرف مالی یا جانی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ریاستی ساکھ، اداروں پر اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم بار بار یہی غلطی دہراتے ہیں، کیونکہ ہمارا نظام اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہڑتال ایک اعلان کا نام ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اب ہڑتال ایک کیفیت بن چکی ہے۔
اس میں ایک پہلو تو ایسا ہے جسے کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ نوجوانوں کا وہ رویہ ہے جو کسی نظریے یا مطالبے سے زیادہ وائرل ہونے کی خواہش سے جڑا ہوا ہے۔ یہ نوجوان کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں ہوتے، نہ ہی ان کا کسی مذہبی تنظیم سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔ ان کی اصل محرک شہرت ہوتی ہے، چند سیکنڈ کی توجہ، چند ہزار ویوز، اور ایک ایسا کلپ جو انہیں ڈیجیٹل دنیا میں نمایاں کر دے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایسے کام بھی کر جاتے ہیں جو نہ صرف قانون کے خلاف ہوتے ہیں بلکہ سماجی توازن کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ نمائشی بے راہ روی دراصل ہڑتال اور احتجاج کی ایک نئی، خاموش مگر خطرناک شکل ہے۔ اس میں نہ کوئی نعرہ مستقل ہوتا ہے، نہ کوئی مطالبہ واضح ہوتا ہے، اور نہ ہی کوئی ایسا فریق ہوتا ہے جس سے بات چیت کی جا سکے۔ ریاستی ادارے ایسے ہجوم کے سامنے اکثر بے بس نظر آتے ہیں، کیونکہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ اس ردِعمل کا اصل محرک کیا ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اس پورے تناظر کا مقصد اظہارِ رائے کو محدود کرنا یا اختلاف کو دبانا نہیں۔ اختلاف کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور احتجاج عوام کا حق ہے۔ مسئلہ احتجاج کا نہیں، بلکہ اس کے بدلتے ہوئے طریقے کو نہ سمجھنے کا ہے۔ اگر ریاست یہ سمجھتی رہے کہ ہڑتال اب بھی وہی ہے جو بیس سال پہلے تھی، تو وہ ہر بار حیران ہوگی کہ حالات اچانک کیوں بگڑ گئے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہڑتال اور احتجاج کو ایک سماجی اور نفسیاتی عمل کے طور پر سمجھا جائے، نہ کہ صرف ایک انتظامی مسئلے کے طور پر۔ ڈیجیٹل جذبات کی نگرانی، وائرل مواد کی بروقت تصدیق، اور عوام تک درست معلومات کی فوری ترسیل وہ عوامل ہیں جو مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران کو روک سکتے ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں، بشرطیکہ اس کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔