اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم سفارتی تقریب نے پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کو ایک نئے، مضبوط اور عملی سفر پر گامزن کر دیا ہے۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات
دونوں ملکوں نے تعلیم، صحت، حلال تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، تاریخی دستاویزات، منشیات کی روک تھام اور ترقیاتی تعاون جیسے وسیع شعبوں میں سات اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا ایک بڑا تعاون پیکیج قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو نے خود ان معاہدوں کے تبادلے کی نگرانی کی۔ دونوں رہنماؤں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ یہ شراکت داری صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی طرف بڑھتا ہوا ایک حقیقی سفر ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں انقلاب کی جانب قدم
پاکستان اور انڈونیشیا نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں طویل المدتی تعاون پر اتفاق کرتے ہوئے ڈگریوں اور سرٹیفیکیٹس کی باہمی شناخت کا تاریخی معاہدہ کر لیا۔
اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے طلبہ کے لیے بیرونِ ملک تعلیم اور اسناد کی تصدیق کا عمل نہ صرف آسان ہو گا بلکہ دونوں طرف کے تعلیمی اداروں کو مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور فیکلٹی ایکسچینج کے مواقع بھی ملیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ انڈونیشین ایڈ اسکالرشپ پروگرام کو وسعت دینے پر بھی دستخط کیے گئے، جس سے پاکستانی طلبہ کے لیے انڈونیشیا کی سرکاری جامعات میں اسکالرشپ نشستوں کی تعداد بڑھے گی۔ یہ پروگرام پاکستان کے طالب علموں کے لیے جنوب مشرقی ایشیا میں اعلیٰ تعلیم کے نئے دروازے کھولے گا۔
حلال فوڈ انڈسٹری آج عالمی تجارت کا ایک بڑا ستون بن چکی ہے، اور اس میدان میں پاکستان اور انڈونیشیا کا تعاون اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حلال تجارت، سرٹیفکیشن، لیبارٹریوں کے معیار، اور باہمی تصدیق کے نظام کو مربوط بنانے کے لیے اہم مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
پاکستان حلال فوڈ کی برآمدات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اور انڈونیشیا کی مارکیٹ پاکستانی مصنوعات کے لیے وسیع تجارتی امکانات رکھتی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں حلال سرٹیفکیشن کے عمل میں شفافیت اور ہم آہنگی پیدا ہوگی، اور ایک دوسرے کی مصنوعات کو مارکیٹ تک رسائی میں سہولت ملے گی۔
چھوٹے کاروبار کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ پاکستان اور انڈونیشیا نے SMEs کے فروغ، جدید کاروباری تربیت، ٹیکنالوجی شیئرنگ اور مالی معاونت کے نئے ماڈلز پر مشترکہ کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ایم او یو کے تحت دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو ایک دوسرے کی مارکیٹ تک رسائی، تربیتی پروگراموں میں شرکت، اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعاون نہ صرف کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بھی بڑھے گا، جس کا براہِ راست اثر روزگار اور معاشی ترقی پر پڑے گا۔
آرکائیوز اور تاریخی دستاویزات کے تحفظ میں اشتراک
پاکستان اور انڈونیشیا نے تاریخی دستاویزات، آرکائیوز، اور مشترکہ ورثے کی حفاظت کے لیے بھی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے تاریخی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق، اور ثقافتی روابط کے فروغ پر کام کریں گے۔ یہ تعاون نہ صرف تعلقات کی مضبوط تاریخ کو محفوظ کرے گا بلکہ دونوں قوموں کے درمیان تہذیبی روابط کو بھی مزید گہرا کرے گا۔
ایک اہم ایم او یو منشیات کی روک تھام اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کارروائی کے حوالے سے بھی طے پایا۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے معلومات کے تبادلے، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر مل کر کام کریں گے۔ یہ معاہدہ خطے میں منشیات نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے انڈونیشیا کی صحت عامہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے ڈاکٹرز، ڈینٹسٹس، اور میڈیکل ماہرین بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے اس اقدام کو بھرپور سراہا اور کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کی عوامی فلاح کو براہِ راست فائدہ پہنچائے گا۔ مزید برآں، صحت کے شعبے میں میڈیکل ریسرچ، ٹیلی میڈیسن، ادویات اور میڈیکل آلات کی تیاری جیسے شعبوں میں بھی اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان زرعی مصنوعات، ٹیکنالوجی، آئی ٹی سروسز اور میڈیکل ایکسپرٹس کے ذریعے دوطرفہ تجارت میں توازن قائم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دونوں ممالک مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے عملی طور پر مل کر کام کریں گے۔
انڈونیشی صدر پرابوو سبیانتو نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک ایک جیسے نظریات، اقدار اور خطے میں امن و ترقی کے مشترکہ اہداف رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی، تعلیم، زراعت، صحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔