واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک کے خلاف سخت اقتصادی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ٹیرف کو اپنا اہم دباؤ کا ہتھیار بنا لیا ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم فروری 2026 سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکہ آنے والی تمام مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ یکم جون 2026 سے یہ شرح بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائے گی۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک گرین لینڈ کی مکمل خریداری کے لیے کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ محض تجارت سے متعلق نہیں بلکہ عالمی سلامتی سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں گرین لینڈ امریکہ اور پوری دنیا کے لیے نہایت اہم اسٹریٹیجک حیثیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ کا یورپی ممالک پر ٹیرف کا اعلان
ادھر یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے اس اقدام کو بالکل غلط قرار دیا، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ یکم فروری 2026 سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکا بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ یکم جون 2026 سے یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک سے درآمدات پر یکم جنوری سے 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جسے بعد میں 25 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بارہا یہ موقف اپنایا ہے کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ اسے زبردستی حاصل کرنے کا آپشن بھی خارج از امکان نہیں سمجھتے۔
ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد یورپی یونین نے برسلز میں ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ اسی دوران گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔
شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان واقع گرین لینڈ کم آبادی والا لیکن معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ یہ علاقہ دفاعی اعتبار سے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں سے میزائل حملوں کی ابتدائی وارننگ دی جا سکتی ہے اور سمندری نقل و حرکت کی نگرانی بھی ممکن ہے۔
یورپی ممالک ڈنمارک کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطے کی سلامتی نیٹو کی اجتماعی ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی ایک ملک کی۔ اسی لیے فرانس، جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ نے محدود تعداد میں فوجی اہلکار گرین لینڈ بھیجے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی خطرناک کھیل، کھیل رہے ہیں اور دنیا کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں پر ٹیرف عائد کرنا غیر منطقی ہے اور اس معاملے پر وہ امریکی انتظامیہ سے براہ راست بات کریں گے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے بھی سخت الفاظ میں کہا کہ یورپ کسی دھمکی میں نہیں آئے گا اور اپنے اصولوں پر قائم رہے گا۔
سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے کہا کہ ان کا ملک کسی بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گا اور یورپی یونین، ناروے اور برطانیہ کے ساتھ مل کر مشترکہ ردعمل پر غور کر رہا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں اور ٹیرف سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ٹرمپ کی دھمکی کو حیران کن قرار دیا، جبکہ یورپی پارلیمان کے جرمن رکن مینفریڈ ویبر نے کہا کہ اس اقدام سے امریکہ اور یورپ کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔