نلسن منڈیلا کی داستان لازوال

نلسن منڈیلا 0

نلسن منڈیلا کی زندگی ایک لازوال داستان ہے۔ کہ کس طرح انہوں نے 27 سال قید کاٹی، جنوبی افریقہ کو آزادی دلائی، اور دنیا کے بڑے اعزازات حاصل کیے۔

دنیا کی تاریخ میں کچھ ایسی ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے ظلم، ناانصافی اور نفرت کے اندھیروں میں انسانیت کی روشنی جلائے رکھی۔ ان شخصیات میں نلسن منڈیلا (Nelson Mandela) کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔ وہ صرف جنوبی افریقہ کے ہیرو نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے صبر، برداشت، قیادت اور انسان دوستی کی علامت بن چکے ہیں۔

ان کی زندگی قربانیوں، جدوجہد، اور امید سے بھرپور داستان ہے۔ نلسن منڈیلا نے نہ صرف ایک ملک کو غلامی اور نسلی امتیاز سے آزاد کرایا بلکہ پوری دنیا کو یہ سکھایا کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ محبت اور معافی سے دینا چاہیے۔

نلسن منڈیلا کی داستان لازوال

نلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 کو جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں مویزو (Mvezo) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین نے ان کا نام “رولیہلاہلا” رکھا۔ان کا پورا نام نیلسن رولیہلاہلا منڈیلا (Nelson Rolihlahla Mandela) تھا۔ “رولیہلاہلا” کا مطلب ان کی مادری زبان میں “شرارتی لڑکا” یا “مشکل پیدا کرنے والا” ہے  ایک ایسا نام جو بعد میں ایک پوری قوم کے لیے امید اور انقلاب کا استعارہ بن گیا۔

منڈیلا کا تعلق تھیمبو قبیلے سے تھا، جو افریقہ کے بااثر قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ ان کے والد قبیلے کے مشیر اور مقامی سردار تھے۔ تاہم، جب نلسن منڈیلا صرف 9 سال کے تھے، ان کے والد کا انتقال ہوگیا، اور وہ ایک قبیلہ سردار کے زیرِ پرورش آگئے۔

منڈیلا نے ابتدائی تعلیم ایک مشنری اسکول سے حاصل کی جہاں ایک استاد نے انہیں “نیلسن”کا  نام دیا۔
انہوں نے Fort Hare University سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں University of Witwatersrand میں قانون کی تعلیم شروع کی۔ تعلیم کے دوران ہی ان کے دل میں آزادی اور برابری کا جذبہ پیدا ہوا۔

✊ نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کا آغاز

1940 کی دہائی میں جنوبی افریقہ میں Apartheid نامی نظام قائم تھا۔  یہ ایک ایسا ظالمانہ نظام تھا جس میں سیاہ فام لوگوں کو سفید فام آبادی کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا تھا۔
سیاہ فام لوگ نہ صرف سیاسی حقوق سے محروم تھے بلکہ وہ اسکول، اسپتال، بسوں اور ہوٹلوں میں بھی سفید فاموں کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے۔

منڈیلا نے اسی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ افریقن نیشنل کانگریس (ANC) میں شامل ہوئے اور نوجوانوں کی تنظیم “ANC Youth League” کی بنیاد رکھی۔

ابتدائی طور پر منڈیلا نے پُرامن جدوجہد کو ترجیح دی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ معاشرتی تبدیلی مذاکرات، قانون اور عوامی شعور سے لائی جا سکتی ہے۔
لیکن جب سفید فام حکومت نے ہر طرح کے احتجاج پر پابندی لگا دی، تو منڈیلا نے مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے “Umkhonto we Sizwe” نامی تنظیم قائم کی، جس نے حکومتی املاک کو نشانہ بنایا،  مگر انسانوں کو نقصان نہ پہنچایا۔

1964 میں نلسن منڈیلا کو “Sabotage” کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں “Robben Island” جیل میں بھیجا گیا، جو جنوبی افریقہ کے ساحل سے دور ایک الگ تھلگ جزیرہ تھا۔

⛓️ جیل میں حالات انتہائی ناقابلِ برداشت تھے۔ منڈیلا کو سخت مشقت، تھوڑا کھانا، اور محدود ملاقاتوں کی اجازت تھی۔ لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے جیل کو “سیاسی یونیورسٹی” میں بدل دیا،  قیدیوں کو تعلیم دی، شعور پیدا کیا، اور ان کے دلوں میں آزادی کی امید زندہ رکھی۔

منڈیلا اکثر کہتے تھے: میں نے سیکھا کہ بہادری خوف کا نہ ہونا نہیں، بلکہ اس پر قابو پانا ہے۔

1990 میں بین الاقوامی دباؤ اور عوامی تحریکیں منڈیلا کے حق میں زور پکڑ گئیں۔ بالآخر  11 فروری 1990 کو 27 سال کی قید کے بعد،  نلسن منڈیلا کو رہا کر دیا گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے ایک زندہ لیجنڈ کو دیکھا۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، اور منڈیلا کی مسکراتی ہوئی شخصیت دنیا بھر کے ٹی وی اسکرینوں پر امید کا نشان بن گئی۔

1994 میں جنوبی افریقہ میں پہلی بار آزادانہ انتخابات ہوئے، اور نلسن منڈیلا ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔
ان کی قیادت میں جنوبی افریقہ نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ، ایک ایسا دور جس میں انتقام نہیں بلکہ مفاہمت، مساوات، اور انصاف کو بنیاد بنایا گیا۔

منڈیلا نے اپنی حکومت کے دوران ایک منفرد کمیشن قائم کیا  “Truth and Reconciliation Commission”۔
اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ظلم کرنے والوں سے بدلہ لیا جائے، بلکہ یہ تھا کہ ماضی کے زخموں کو شفا دی جائے۔
یہی کمیشن آج دنیا بھر میں “امن کے ماڈل” کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

🌟 نلسن منڈیلا کے بڑے عالمی اعزازات

نلسن منڈیلا کو دنیا کے ہر کونے سے درجنوں بڑے اعزازات ملے۔ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں

نوبیل امن انعام (Nobel Peace Prize) 1993

یہ انعام انہیں جنوبی افریقہ کے سابق صدر فریڈرک ڈیکلرک کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ دونوں نے مل کر اپنے ملک میں امن، جمہوریت اور نسلی برابری کی بنیاد رکھی۔

 Presidential Medal of Freedom (امریکا)

یہ امریکہ کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔ منڈیلا کو 2002 میں انسانی حقوق اور عالمی امن کے فروغ پر دیا گیا۔

Bharat Ratna (بھارت)

1990 میں بھارت نے انہیں اپنا سب سے بڑا سول ایوارڈ دیا۔ یہ اعزاز ان کے انسانی خدمات اور آزادی کے فلسفے کے اعتراف میں دیا گیا۔

Order of Merit (برطانیہ)

برطانیہ کا شاہی اعزاز جو صرف چند نمایاں شخصیات کو دیا جاتا ہے۔ منڈیلا کو 1995 میں دیا گیا۔

Lenin Peace Prize (سابق سوویت یونین)

یہ ایوارڈ انہیں 1960s میں دیا گیا — اس وقت جب وہ جیل میں تھے۔ یہ ان کی عالمی امن کے لیے جدوجہد کے اعتراف میں تھا۔

 Order of Canada

کینیڈا نے منڈیلا کو 1998 میں یہ اعزاز دیا۔  وہ غیر ملکی رہنماؤں میں سے چند تھے جنہیں یہ درجہ دیا گیا۔

Order of the Nile (مصر)

افریقہ میں امن، آزادی اور اتحاد کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں مصر نے 1990 میں یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا۔

Sakharov Prize for Freedom of Thought (یورپی یونین)

1988 میں یہ انعام انہیں آزادیٔ رائے اور انسانی وقار کی جدوجہد کے لیے دیا گیا۔

💭 منڈیلا کی سوچ اور فلسفہ

منڈیلا کی سوچ کا محور معافی، برداشت اور انسان دوستی تھا۔
انہوں نے کہا: جب میں جیل سے نکلا، تو میں نے جانا کہ اگر میں اپنے غصے اور نفرت کو ساتھ لے جاؤں گا، تو میں اب بھی قید رہوں گا۔ ان کا ماننا تھا کہ آزادی صرف سیاسی نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی آزادی بھی ضروری ہے۔

منڈیلا ایک خاموش مگر مضبوط رہنما تھے۔ انہوں نے اقتدار کو ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے صدارت کی مدت مکمل ہونے کے بعد خود ہی عہدہ چھوڑ دیا ۔یہ ایک مثال ہے جو آج بھی دنیا کے رہنماؤں کے لیے سبق ہے۔

نلسن منڈیلا صرف جنوبی افریقہ کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے نام پر Nelson Mandela International Day ہر سال 18 جولائی کو منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ اس دن دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہر شخص کے پاس دنیا کو بہتر بنانے کا موقع ہے۔

ان کے فلسفے نے امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کو متاثر کیا۔ ڈیسمنڈ ٹوٹو، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جیسے رہنما ان کے نظریات سے متاثر ہوئے۔

تعلیم، صحت، اور سماجی انصاف کے میدان میں منڈیلا فاؤنڈیشن آج بھی ان کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔

نلسن منڈیلا کی زندگی قربانی، حوصلے، اور انسانیت کا عظیم درس ہے۔ انہوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ظلم کا مقابلہ تلوار سے نہیں بلکہ برداشت، عقل اور محبت سے کیا جا سکتا ہے۔ ان کی 27 سالہ قید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی صرف حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ جانی جاتی ہے، جھیلی جاتی ہے، اور جیتی جاتی ہے۔

منڈیلا کے جانے کے بعد بھی ان کی مسکراہٹ، ان کے الفاظ، اور ان کا کردار دنیا کو روشنی دکھاتے ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو ایک شخص پوری قوم، بلکہ پوری دنیا، کو بدل سکتا ہے۔

“It always seems impossible until it’s done.”

Nelson Mandela

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں