اسلامی تعلیمات کے مطابق موت محض زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جس کے ذریعے انسان دنیاوی زندگی سے نکل کر آخرت کے سفر میں داخل ہوتا ہے۔
اسلام موت کو جسم کی فنا نہیں بلکہ روح اور جسم کی جدائی قرار دیتا ہے۔ روح جسم سے الگ ہو کر ایک نئی زندگی میں داخل ہو جاتی ہے جسے حیاتِ بعد الموت کہا جاتا ہے۔
موت کے 3 مراحل، اور سفر آخرت کی تیاری
انسان کی دنیاوی زندگی ایک سفر کی مانند ہے، جس کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔ اسلام میں موت کو تین بڑے مراحل میں بیان کیا گیا ہے
1۔ موت سے پہلے کے لمحات۔ 2۔ موت کے وقت (جان کنی)۔ 3۔ موت کے بعد کی زندگی (برزخ)
1۔ موت سے پہلے کا مرحلہ۔ موت سے قبل انسان پر ایسے آثار ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو دنیاوی زندگی کے اختتام کی علامت ہوتے ہیں۔ اس مرحلے میں انسان کی کیفیات اس کے ایمان، اعمال اور عقیدے کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق نیک بندے کو سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے جبکہ گناہگار پر خوف اور اضطراب طاری ہو جاتا ہے۔
2۔ موت کے وقت (جان کنی) کا مرحلہ۔ موت کے اصل لمحے کو جان کنی کہا جاتا ہے۔ جمہور علماء کے مطابق حضرت عزرائیلؑ روح قبض کرنے پر مامور فرشتہ ہیں جنہیں ملک الموت بھی کہا جاتا ہے۔
مؤمن کی روح نہایت نرمی، آسانی اور سکون کے ساتھ جسم سے نکالتا ہے، جیسے مشکیزے سے پانی بہہ نکلتا ہے۔
جبکہ کافر اور گناہگار کی روح سختی، تکلیف اور اذیت کے ساتھ کھینچتا ہے، جسے بعض احادیث میں کانٹوں سے کپڑا کھینچنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
اسے پھر مزید 6 مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلا مرحلہ: یوم الموت، پردے کا اٹھنا
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی فرار نہیں، لیکن اس کے بارے میں سوچنا اور اس کے لیے تیاری کرنا اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جس روز ہماری دنیاوی زندگی کا اختتام ہوتا ہے اس دن فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے روح قبض کرنے آتے ہیں تاکہ انسان اپنے رب سے ملاقات کرے جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اس دن کی حقیقت اور وقت صرف اللہ جانتا ہے، اور حیران کن بات یہ ہے کہ انسان کو اکثر اس (موت)کی آمد کا احساس تک نہیں ہوتا۔
تاہم، اس دن انسان اپنے جسم میں کچھ خاص تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ نیک بندوں کے دلوں کو خوشی اور سکون ملتا ہے، جیسے انہیں کسی آنے والی بہتری کی خبر ہو۔ اس کے برعکس، برے اعمال کرنے والوں کو سینے اور دل میں گھٹن اور دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ اس وقت شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، مگر مرنے والا انسان ابھی تک ان سے بے خبر ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
“وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (سورة البقرة: 281) اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
دوسرا مرحلہ: روح کا تدریجی اخراج، ناتوانی کی ابتداء
موت کا یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے۔ اس دوران، انسان جسمانی طور پر تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے، اور کھڑے ہونے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ جسمانی قوت جواب دے دیتی ہے، مگر اس وقت بھی انسان یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیاوی زندگی کی چمک ماند پڑنا شروع ہوتی ہے۔
تیسرا مرحلہ: ترقی کا مرحلہ، جدائی کا احساس
یہ وہ نازک وقت ہوتا ہے جب روح حلق کے قریب پہنچ جاتی ہے،اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمْ اور انسان کو موت کی حقیقت کا مبہم سا ادراک ہونا شروع ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
“كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ * وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ * وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ * وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (سورة القیامة: 26-29) ہرگز نہیں، جب روح ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جائے گی اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔
ترقی سے مراد حلق کے نیچے کی وہ دو ہڈیاں ہیں جو کندھوں تک پھیلی ہوتی ہیں۔ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ کا مطلب ہے کہ اب ہے کوئی جو اس وقت جھاڑ پھونک کر کے کچھ بوجھ ہلکا کر سکے؟وہ خود بھی اور دوسرے عزیز رشتہ دار بھی یہی کہتے ہیں یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹروں کو بلانے، ایمبولینس کو پکارنے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید کا دامن تھامے رہتا ہے۔
وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ کا مطلب ہے کہ اسے موت کے قریب ہونے کا احساس تو ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی بقا کے لیے آخری کوشش کررہا ہوتا ہے۔ اور وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: حلقوم کا مرحلہ، پردوں کا ہٹ جانا
یہ موت کا سب سے اہم اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت انسان کے سامنے سے دنیاوی پردے ہٹا دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے ارد گرد موجود فرشتوں کو دیکھتا ہے اور آخرت کا مشاہدہ شروع کر دیتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ (سورة ق: 22) یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا، پس ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا، تو آج تیری نظر بہت تیز ہے۔”
اس لمحے انسان اللہ کی رحمت یا اس کے عذاب کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ اس کی پوری زندگی کے اعمال ایک فلم کی طرح اس کی نظروں کے سامنے سے گزر رہے ہوتے ہیں، اور شیطان اس وقت بھی اسے گمراہ کرنے کی آخری کوشش کررہا ہوتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ * وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ * وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ (سورة الواقعة: 83-85) پھر کیوں نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جاتی ہے * اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو * اور ہم تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔”
اس وقت کافروں کے لیے قرآن کریم میں یہ دعا سکھائی گئی ہے:
وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ (سورة المؤمنون: 97-98) اور کہو، اے میرے رب، میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں۔
پانچواں مرحلہ: ملک الموت کا داخلہ، انجام کا تعین
یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کی رحمت والوں میں سے ہے یا اس کے عذاب والوں میں سے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ (سورة محمد: 27) پھر کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روحیں نکالتے ہوئے ان کے چہروں اور پشتوں پر ماریں گے؟
اگر انسان مؤمن ہے، تو اس کی روح نرمی سے نکلتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ آسانی سے نکل جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت اور پرسکون منظر ہوتا ہے جسے صرف وہی دیکھ سکتا ہے جس کی روح قبض ہو رہی ہو۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ مؤمن کی روح کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ * ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً * فَادْخُلِي فِي عِبَادِي * وَادْخُلِي جَنَّتِي (سورة الفجر: 27-30) اے اطمینان والی روح اپنے رب کی طرف لوٹ، راضی اور مرضی (اللہ کی رضا پر راضی اور اللہ کو بھی تجھ سے رضا) اور میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
چھٹا مرحلہ: روح کا مکمل اخراج، ابدی حقیقت کا سامنا
یہ موت کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ ہے جب روح مکمل طور پر جسم سے نکل جاتی ہے۔ اس وقت دنیا سے واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا، چاہے انسان کتنی ہی التجا کرے۔
اگر وہ گناہ گار ہے تو حسرت سے پکارتا ہے:
رَبِّ ارْجِعُونِ * لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (سورة المؤمنون: 99-100) “اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے * تاکہ میں نیک عمل کر سکوں ان چیزوں میں جو میں نے چھوڑ دیں (یا غفلت برتی)۔ ہرگز نہیں! یہ محض ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پیچھے ایک پردہ (برزخ) ہے، قیامت کے دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے۔
3۔ موت کے بعد کی زندگی (برزخ)۔ روح کے جسم سے جدا ہونے کے بعد انسان کو غسل، کفن اور تدفین کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ قبر میں داخل ہوتے ہی دو فرشتے، منکر اور نکیر انسان کے پاس آتے ہیں اور اس سے بنیادی سوالات کرتے ہیں، جیسے
تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارے نبی کون ہیں؟
ان سوالات کے جوابات انسان کے ایمان اور اعمال پر منحصر ہوتے ہیں۔
جو شخص صحیح جواب دیتا ہے، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دیا جاتا ہے، اسے سکون، راحت اور روشنی نصیب ہوتی ہے۔ اور جو جواب دینے سے قاصر رہتا ہے، اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے اور اسے عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ کیفیت قیامت کے برپا ہونے تک جاری رہتی ہے، اور اسی درمیانی زندگی کو برزخ کہا جاتا ہے۔
اور موت کی حقیقت سے کوئی مفر نہیں:
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (سورة ق: 19) اور موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یہی وہ ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔
یہاں نیک مؤمن کے لیے جنت کی بشارت ہے، جبکہ گناہ گار کے لیے عذاب اور حسرت کی وعید۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا کی حقیقت اور آخرت کی ابدیت واضح ہو جاتی ہے۔
ایک مفسر سے جب پوچھا گیا کہ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں، تو انہوں نے خوبصورت جواب دیا کیونکہ تم نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔
یہ مراحل ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ موت صرف ایک اختتام نہیں، بلکہ ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی دنیاوی زندگی کو اس طرح گزارنا چاہیے کہ ہم آخرت کے لیے بہترین زادِ راہ تیار کر سکیں۔
اے میرے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان اور دین اسلام پر فرما۔ آمین۔